روہنگیا: انڈیا میں برسوں سے آباد پناہ گزین جموں سے نقل مکانی پر مجبور

روہنگیا مسلمان تصویر کے کاپی رائٹ MOHIT KANDHARI

انڈیا کے شمال مشرقی علاقے جموں اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں دسیوں سال سے آباد روہنگیا مسلمان اچانک یہ علاقہ چھوڑ کر جانے لگے ہیں۔

گذشتہ کچھ عرصے میں تقریبا تین درجن سے بھی زیادہ خاندان جموں میں نروال بالا کے پاس قائم روہنگیا بستی چھوڑ کر بنگلہ دیش اور حیدرآباد (دکن) کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔

ہرچند کہ فی الحال جموں چھوڑ کر جانے والے روہنگیا مسلمانوں کی تعداد کم ہے لیکن روہنگیا بستیوں میں رہنے والے زیادہ تر افراد کو یہ خوف ستا رہا ہے کہ زیادہ عرصے تک ان کا وہاں رہنا ان کے حق میں نہیں ہے۔

روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ انڈیا کیا سلوک کرتا ہے؟

’روہنگیا پناہ گزین انڈیا کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں‘

انڈیا کا روہنگیا پناہ گزینوں کو ملک بدر کرنے کا اعلان

سات روہنگیا افراد کو ملک بدر کر کے انڈیا کیوں خوش ہے؟

سنہ 2018 کی ابتدا میں ریاستی حکومت کے محکمہ داخلہ کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ جموں کشمیر کے پانچ اضلاع میں 39 مقامات پر 6523 روہنگیا آباد ہیں۔ لیکن سیاسی جماعتیں ان اعداد و شمار کو ناممکل قرار دیتی ہیں۔

روہنگیا کو جموں سے نکالنے کا سلسلہ پہلے پہل سنہ 2017 کے فروری میں شروع ہوا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ MOHIT KANDHARI

روہنگیا کے خلاف مہم؟

اُس وقت ایک مقامی سیاسی پارٹی جموں اور کشمیر نیشنل پینتھرز نے جموں شہر میں روہنگیا کے خلاف مہم چھیڑ دی تھی اور جگہ جگہ روہنگیا 'جموں چھوڑو' کے پوسٹر لگا کر خوف کا ماحول تیار کیا تھا۔

لیکن اس وقت سے رواں سال کے آغاز تک جموں شہر میں ابھی تک ایسا کوئی واقعہ سامنے نہیں آیا ہے جس میں کسی روہنگیا خاندان کو نشانہ بنایا گیا ہو۔

لیکن پھر اچانک روہنگیا جموں سے نقل مکانی پر کیوں مجبور ہوئے ہیں۔

جموں میں نروال بالا کے علاقے کی روہنگیا بستی میں رہنے والے مولوی رفیق نے بی بی سی کو بتایا: 'جب سے حکومت نے ہمارا ڈیٹا بیس تیار کرنا شروع کیا ہے، ہمارے فنگر پرنٹس لے رہے ہیں اس کے بعد سے ہم لوگ خوف زدہ ہیں۔

جموں و کشمیر میں یہ مہم گذشتہ نومبر کے مہینے سے شروع ہوئی ہے۔

اس سے قبل حکومت ہند نے مختلف ریاستوں کو یہ حکم جاری کیا کہ وہ اپنے یہاں آباد روہنگیا خاندانوں کے اعداد و شمار اکٹھا کرے تاکہ انھیں میانمار بھیجنے کا قانونی عمل شروع کیا جا سکے۔

جموں کے پولیس سپرنٹنڈنٹ تیجیندر سنگھ نے اس بارے میں بتایا: 'روہنگیا خاندانوں کا ڈیٹا بیس جمع کرنے کا کام پولیس کا خفیہ محکمہ کر رہا ہے اور وہ اس کے بارے میں کوئی باضابطہ بیان نہیں دے سکتے۔'

مولوی رفیق نے کہا: 'اب ہمیں یہ ڈر ستا رہا ہے کہ جموں و کشمیر میں رہنے والے روہنگیا خاندانوں کو بھی زبردستی واپس میانمار بھیجا جائے گا۔ وہاں پہلے سے ہی ہماری جان کو خطرہ لاحق ہے۔ لہذا آہستہ آہستہ یہاں سے نکل کر بنگلہ دیش جانا ہمارے لیے بہتر ہوگا۔ ہم وہاں مل جل کر اپنے حق میں آواز اٹھائيں گے۔'

مولوی رفیق نے مزید کہا: 'ہر ہفتے ہماری بستی کے پاس ہندونواز تنظیمیں جلوس نکالتی ہیں اور ہمارے خلاف 'روہنگیا کو یہاں سے باہر نکالو، گو روہنگیا گو بیک' جیسے نعرے لگاتے ہیں۔'

سخت گیر ہندو تنظیم وشو ہندو پریشد کی جموں یونٹ کے سربراہ راکیش بجرنگی نے اس بابت بی بی سی کو بتایا: 'ہم نےگورنر ستیہ پال مالک سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابات سے پہلے جموں کشمیر میں رہنے والے روہنگیا کو نکالیں ورنہ دوسری تنظیموں کے ساتھ مل کر ہمیں لڑائی لڑنی پڑے گی۔'

تصویر کے کاپی رائٹ MOHIT KANDHARI/BBC

بنگلہ دیش بھی جانا مشکل

حال ہی میں بنگلہ دیش کی سرحد کے قریب بنگلہ دیش کے سرحدی گارڈز (بی جی بی) نے روہنگیا کے لوگوں کو بنگلہ دیش کی سرزمین میں گھسنے سے روک دیا۔

تاہم جب معاملہ نہیں سلجھ سکا تو انڈیا کی سرحدی سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) نے ان 31 روہنگیا افراد کو تریپورہ پولیس کے حوالے کر دیا۔ یہ روہنگیا خاندان جموں کشمیر سے نکل کر بنگلہ دیش جا رہے تھے۔

بی ایس ایف کے مطابق یہ روہنگیا 18 جنوری سے خار دار تاروں کے پاس زیرو لائن پر پھنسے ہوئے تھے۔ بنگلہ دیش سے کہا گیا کہ وہ انھیں اپنے ملک میں داخل ہونے کی اجازت دیں لیکن بنگلہ دیش نے انکار کر دیا۔

معاملہ نہیں سلجھا تو بی ایس ایف نے انڈیا کی وزارت داخلہ کو اس کی اطلاع دی اور پھر وہاں سے ملنے والے حکم کے تحت انھیں تریپورہ پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔

تریپورہ پولیس نے انھیں بغیر قانونی دستاویزات والے غیر ملکی کے طور پر گرفتار کیا ہے۔ ان میں چھ مرد، نو خواتین اور 16 بچے شامل ہیں۔

اسی بارے میں