امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات میں امن معاہدے کے مسودے پر ’اتفاق‘

امریکی افواج تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

امریکہ کے اعلیٰ مذاکرات کار کا کہنا ہے کہ امریکہ اور افغانستان کے درمیان امن معاہدے کے مسودے پر اتفاق ہو گیا ہے تاکہ افغانستان میں جاری 17 سالہ لڑائی کو ختم کیا جا سکے۔

گذشتہ ہفتے قطر میں امریکہ اور طالبان کے درمیان چھ روز تک مذاکرات جاری رہے۔

افغان صدر نے طالبان کو براہ راست مذاکرات کی نئی پیشکش کی، لیکن انھوں نے حکومت کو ’کٹھ پتلی‘ کہتے ہوئے مسترد کر دی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایک پختہ امن معاہدے کو کئی سال لگ سکتے ہیں۔

اسی بارے میں مزید پڑھیے!

’مذاکرات میں پیشرفت، کچھ معاملات اب بھی حل طلب ہیں‘

طالبان کے مسلسل حملوں سے امن مذاکرات رک جائیں گے؟

افغان مذاکرات: دباؤ، حربے اور مفادات

افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد دوحا میں چھ روزہ مذاکرات سے متعلق افغان حکومت کو آگاہ کرنے کے لیے کابل میں موجود تھے۔

زلمے خلیل زاد نے نیو یارک ٹائمز کو ایک انٹرویو میں بتایا: ’ہمارے پاس ایک مسودہ ہے اور معاہدہ بنانے سے قبل کچھ تفصیلات حاصل کرنا ہیں۔ مجوزہ معاہدے کے تحت طالبان کو عہد کرنا ہو گا کہ وہ افغانستان کی سرزمین کو شدت پسندی کے گڑھ کے طور پر استعمال ہونے سے روکیں گے۔‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی حکمت عملی یہی رہی ہے کہ طالبان کو افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنے پر مجبور کیا جائے۔

جنگ بندی اور ان براہ راست مذاکرات میں طالبان کی شرکت کے بدلے میں افغانستان سے امریکی افواج کے مکمل انخلا کی بات کی جا رہی ہے۔

طالبان کا کہنا ہے کہ وہ صرف اسی وقت حکومت کے ساتھ مذاکرات شروع کریں گے جب غیر ملکی افواج کے انخلا کی صحیح تاریخ دی جائے گی۔

افغانستان میں 17 سال سے جاری اس لڑائی میں بہت زیادہ جانی نقصان ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2009 کے بعد سے ہر سال چھ سے نو ہزار کے درمیان عام شہری مارے گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

مذاکرات میں کیا کہا گیا؟

نیو یارک ٹائمز کے ساتھ انٹرویو میں زلمے خلیل زاد نے کہا ہے کہ طالبان نے القاعدہ جیسے شدت پسند گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں نہ دینے کا عہد کیا ہے۔

انھوں نے کہا ’طالبان نے ہمارے اطمینان کے لیے عہد کیا ہے کہ وہ افغانستان کو بین الاقوامی شدت پسندوں کے لیے پلیٹ فارم بننے سے روکنے کے لیے ہر ضروری اقدام کریں گے۔‘

اس انٹرویو سے قبل خصوصی ایلچی کی جانب سے ان مذاکرات کے بارے میں چند سلسلہ وار ٹوئٹس سامنے آئی تھیں جن میں انھوں نے کہا تھا ’خاطرخواہ پیشرفت‘ ہوئی ہے لیکن ان کی جانب سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

پیش رفت، لیکن کہاں؟

بی بی سی کے دفاع اور سفارتی امور کے نامہ نگار جوناتھن مارکس کے مطابق اکثر کہا جاتا ہے کہ افغانستان میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے کوئی فوجی حل موجود نہیں ہے۔ امریکہ کی کوشش یہ ہے کہ وہ طالبان کو اس بات پر قائل کرے کہ وہ جیت نہیں سکتے ہیں۔

لیکن کیا یہ حکمت عملی کامیاب ہو رہی ہے؟ حالیہ مذاکرات کو دیکھتے ہوئے تو لگتا ہے کہ کسی حد ایسا ہو رہا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ طالبان ایک قدرے مستحکم پوزیشن سے بات کر رہے ہیں۔

افغان سکیورٹی فورسز کو بہت نقصان ہوا ہے۔ کل آبادی کا دو تہائی حصہ حکومت کے زیر کنٹرول یا زیر اثر ہے۔

سکیورٹی صورت حال کا صحیح اندازہ لگانا انتہائی مشکل ہے۔ امریکی فوجی ذرائع کی جانب سے بڑے پیمانے پر اتار چڑھاؤ سامنے آ رہے ہیں۔ اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ اشارے دے رہے ہیں کہ وہ کچھ اور بالآخر تمام امریکی فوجیوں کو نکالنا چاہتے ہیں لیکن امریکی انخلا کی حکمت عملی غیر یقینی اور غیر واضح ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

حکومت کا کیا کہنا ہے؟

پیر کو افغان صدر اشرف غنی کی جانب سے تازہ پیش کش سامنے آئی جس میں انھوں نے طالبان کو ان کی حکومت کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی درخواست کی ہے۔

انھوں نے اس خطرے کی جانب اشارہ کیا کہ اگر طالبان کے ساتھ اقتدار بانٹنا پڑا تو آزادی کھو جائے گی۔ خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں نے بھی ماضی میں طالبان کے دورِ حکومت میں شدت پسندی کی جانب سے خواتین کے ساتھ ظالمانہ برتاؤ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

صدر اشرف غنی نے کہا: ’ہم امن کو یقینی بنانے کے لیے کاربند ہیں لیکن ایسی اقدار ہیں جن پر مذاکرات نہیں ہو سکتے، مثال کے طور پر قومی اتحاد، قومی خود مختاری، ملکی سالمیت، طاقتور اور اہل حکومت اور ملک کے عوام کے بنیادی حقوق۔‘

صدر کے دفتر کے مطابق اتوار کو اشرف غنی کے ساتھ ملاقات میں زلمے خلیل زاد نے طالبان کے ساتھ کابل میں مستقبل میں گورننس کے معاملات پر کسی بھی قسم کی بات چیت کو مسترد کیا ہے۔

افغانستان کی حالیہ صورت حال کیا ہے؟

سنہ 2014 میں افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد سے طالبان کی طاقت اور رسائی میں اضافہ ہوا ہے۔

نیٹو سربراہی میں ہزاروں فوجی تربیت، امداد اور دہشت گردی کے خاتمے میں لگے رہے۔

سب سے زیادہ فوجی امریکہ کے ہیں جن کی تعداد 14000 ہے۔ اطلاعات کے مطابق صدر ٹرمپ ان میں سے نصف فوجیوں کو نکالنے کا سوچ رہے ہیں۔

دیگر 38 ممالک کے آٹھ ہزار فوجی بھی افغانستان میں موجود ہیں۔

جمعہ کو صدر اشرف غنی نے کہا کہ 2014 میں ان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ملک کی سکیورٹی فورسز کے 45000 ارکان سے زائد مارے جا چکے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں