چین کا سٹیلتھ بمبار جسے ریڈار دیکھ نہیں سکتے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption چین جدید ترین جنگی جہاز بنا رہا ہے اور یہ جس 31 کا ماڈل ہے

چین کے کثیر المقاصد ملٹی رول لڑاکا طیارے جے سولہ پر ایک ایسا کیمیائی رنگ کیا گیا ہے کہ جس سے اسے سٹیلتھ یا ریڈار سے اوجھل رہنے کی صلاحیت بڑی حد تک حاصل ہو گئی ہے اور یہ فضا سے زمین پر اہداف کو نشانہ بنانے کے تمام ہتھیار لے جانے کے قابل ہے۔

چین کے سرکاری نشریاتی ادارے نے خبر دی ہے پیپلز لبریشن آرمی کی فضائیہ کے ایک ایویشن بریگیڈ نے جنوری کے آخری عشرے میں رات اور دن میں مشقیں کئیں جن میں جے سولہ نے حصہ لیا۔

بریگیڈ کمانڈر جیانگ جیاجی نے چین کے قومی نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جے سولہ اور ایک خاص قسم کا سرمئی رنگ کیا گیا ہے جس کی وجہ سے بڑی حد تک سٹیلتھ صلاحیت حاصل ہو گئی ہے اور انسانی اور راڈار کی آنکھوں سے اس کا پتا لگانا تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کیا کبھی جہاز 6000 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اڑیں گے؟

چین کے پہلے ’سٹیلتھ‘ بمبار جے20 کی پہلی عوامی نمائش

چین میں فضائیہ کے ماہر فو قیانشو نے گلوبل ٹائمز کو بتایا کہ جے سولہ کا ایروڈاینمکس ڈیزائن اس کے فضا میں حرکت کرنے اور راڈار سے اوجھل رہنے میں بہت مدد گار ہے لیکن اب خصوصی پینٹ کی وجہ سے اس کا پتا لگانا اور بھی مشکل ہو گیا ہے۔

یہ جہاز اپنے نیل گوں یا سرمئی رنگ کی وجہ سے بھی سمندر پر یا آسمان پر نظر نہیں آتا جس کی وجہ سے اسے دشمن بہت قریب آ جانے پر ہی دیکھ پاتا ہے اور یہ ایک لحاظ سے اس کا بہت اہم ہتھیار ہے۔

انھوں نے کہا کہ فضا سے زمین پر مار کرنے والے چین کے زیر استعمال تمام میزائل اور تیر بہ ہدف بم اس جہاز پر لگائے جا سکتے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ اس کے کئی ٹن وزن لے کر اڑنے کی صلاحیت کی وجہ سے اس پر بہت سے میزائل اور بم لگائے جا سکتے ہیں اور یہ اپنے ہدف پر ایک سے زیادہ حملے کر سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے اس جہاز پر مجموعی طور پر آٹھ ٹن وزنی میزائل اور بم لگائے جا سکتے ہیں۔

چین کی فضائیہ میں جے سولہ کے علاوہ جے بیس لڑاکا طیارے بھی شامل ہیں لیکن چین کی فضائیہ کے لیے اس کے باوجود جے سولہ بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ دو مختلف قسم کے لڑاکا طیاروں کے ایک ساتھ فضائی کارروائی کرنے سے ان کی افادیت کئی گناہ بڑھ جاتی ہے۔

جے بیس اپنی سٹیلتھ صلاحیت کی وجہ سے دشمن کے ایئر ڈیفنس کو ناکارہ بنا سکتا ہے لیکن اس پر اتنے زیادہ میزائل اور بم نہیں لادے جا سکتے۔ یہ عارضی برتری تو حاصل کر سکتا ہے لیکن دشمن پر کاری ضرب لگانے کے لیے ضروری ہے کہ دوسرے مرحلہ میں زیادہ قوت سے حملہ کیا جائے جو کہ جے سولہ کے ذریعے ممکن ہو سکتا ہے جس پر مختلف قسم کے میزائل اور بم لادے جا سکتے ہیں۔

جے سولہ کثیر المقاصد دو انجن اور دو سیٹوں والا جہاز ہے جسے فضائی لڑائی یا دشمن کے لڑاکا طیاروں کے خلاف بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس جہاز کی رونمائی گزشتہ سال کی گئی تھی۔

یاد رہے کہ پاکستان کی فضائیہ کا چین کے ساتھ قریبی اشتراک ہے اور وہ مشترکہ طور جے ایف 17 تھنڈر جہاز بنا چکے ہیں جنھیں پاکستان کی فضائیہ میں شامل کیا جا چکا ہے۔

اسی بارے میں