تہران میں پالتو کتوں کے ساتھ چہل قدمی پر پابندی

تہران تصویر کے کاپی رائٹ ATTA KENARE/AFP/GETTY IMAGES

ایران کے دارالحکومت تہران میں لوگوں کے پالتو کتوں کے ساتھ چہل قدمی کرنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ یہ پابندی اس سرکاری مہم کا حصہ ہے جس کے تحت کتے پالنے کی حوصلہ شکنی کی کوشش کی جا رہی ہے۔

تہران پولیس کے سربراہ حسین رحیمی کا کہنا ہے کہ ’ہمیں تہران پراسیکیوٹر کے دفتر سے اجازت ملی ہے، اور ہم عوامی مقامات جیسے کے پارک وغیرہ میں لوگوں کے پالتوں کتوں کے ساتھ گھومنے کے خلاف کارروائی کریں گے۔‘

زنان نامدار: تہران میں خواتین کو خراج تحسین

تہران شہر ایک ’پراسرار بدبو‘ کی لپیٹ میں

انسانوں اور کتوں کی دوستی کتنی پرانی؟

’خوف اور غصہ‘

پولیس سربراہ نے ینگ جرنسلٹ کلب نیوز ایجنسی کو بتایا کہ پابندی لگانے کی وجہ کتوں سے ’لوگوں میں خوف اور غصہ‘ ہے۔

لگتا ایسا ہے کہ اتنی سختی کافی نہیں کیونکہ بریگیڈیئر جنرل رحیمی نے مزید کہا ہے کہ کتوں کے ساتھ گاڑی میں سفر کرنے پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔

انھوں نے نیوز ایجنسی کو بتایا: ’کتوں کے ساتھ گاڑی میں سفر کرنے پر بھی پابندی ہے اور اگر کسی کو ایسا کرتے دیکھا گیا تو گاڑی کے مالک کے خلاف پولیس سخت کارروائی کرے گی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ KAVEH KAZEMI/GETTY IMAGES

ایران میں سنہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے کتے پالنا اور ان کے ساتھ عوامی مقامات میں گھومنا متنازع عمل ہے اور اکثر اوقات کتوں کو مالکان سے تحویل میں لے لیا گیا ہے۔

ایران انتظامیہ کی نظر میں کتے ’ناپاک‘ ہوتے ہیں اور ان کے مطابق کتے پالنا مغربی پالیسی کی علامت ہے۔

وزارت ثقافت اور اسلامی قوانین پہلے ہی سنہ 2010 میں پالتو کتوں یا ان سے جڑی مصنوعات کی میڈیا پر تشہیر پر پابندی لگا چکی ہے، جبکہ پانچ سال قبل پارلیمان میں یہاں تک ذور لگایا جا چکا ہے کہ کتوں کے ساتھ چہل قدمی کرنے والوں کو جرمانہ اور یہاں تک کے کوڑوں کی سزا بھی دینی چاہیے۔

کتوں کے خلاف اس تازہ مہم پر سوشل میڈیا پر تاحال کچھ زیادہ شور تو نہیں مچایا گیا ہے تاہم ایک صارف نے اتنا ضرور سوال کیا ہے کہ ’کیا تہران کے لوگوں کو اونٹوں پر سفر کرنے پر بھی مجبور کیا جائے گا۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں