ایران میں اسلامی انقلاب: آیت اللہ خمینی کی واپسی کی یادیں، بی بی سی کے جان سمپسن کی زبانی

خمینی نوفل میں تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption خمینی نے جلاوطنی کے دن نوفل نامی پرسکون گاؤں میں گزارے

یہ 20ویں صدی کا ایک عہد ساز لمحہ تھا۔ 40 سال قبل ایران کے مذہبی پیشوا آیت اللہ خمینی جلاوطنی کی زندگی گزارنے کے بعد وطن لوٹ کر اسلامی انقلاب کی داغ بیل ڈال رہے تھے۔ بی بی سی کے جان سمپسن اسی جہاز پر سوار تھے جس میں خمینی تہران کا سفر کر رہے تھے۔

پیرس کے قریب چھوٹے سے گاؤں نوفل لا شیتو میں پچھلے 40 برسوں میں کچھ زیادہ نہیں بدلا۔ یہیں خمینی نے ایک عرصے تک جلاوطنی کی زندگی گزاری تھی۔ البتہ جس عمارت میں ان کا ہیڈکوارٹر واقع تھا اسے گرا دیا گیا ہے۔

لیکن انھی 40 برسوں میں نوفل گاؤں کے باہر کی دنیا میں زبردست تبدیلی آئی ہے۔

ایران کی تاریخ کے بارے میں دیگر مضامین

’رضا شاہ پہلوی کو ایران ہی میں دوبارہ احترام کے ساتھ دفن کیا جائے‘

انقلابِ ایران کی وہ شخصیات جو امام خمینی کے ہمراہ تھیں

اسرائيل، ایران اور عمان کی 'لو ٹرائینگل کا ہیرو'

غلط اندازہ

جب 1978 میں ایران میں گڑبڑ شروع ہوئی تو آیت اللہ خمینی عراق کے شہر نجف میں سخت نگرانی میں رہ رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جب صحافی نے پوچھا کہ آپ اتنے برسوں بعد وطن واپس جاتے ہوئے کیا محسوس کر رہے ہیں تو خمینی نے کہا: ’کچھ نہیں۔‘

عراق میں صدام حسین کی حکومت تھی۔ ایران کے شاہ نے ان سے کہا کہ وہ خمینی کو ملک بدر کر دیں۔

یہ بدترین غلط اندازہ تھا۔ خمینی وہاں سے فرانس گئے جہاں سے وہ کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کر سکتے تھے۔

ان کے لہجے کی شدت اور آہنی عزم نے انھیں دنیا بھر میں مشہور کر دیا۔

جب شاہ جنوری 1979 میں ایران چھوڑ کر چلے گئے تو آیت اللہ خمینی کو ایران واپس آنے اور سامراجی نظام کا بوریا بستر لپیٹنے کا موقع مل گیا۔

میں اپنے لیے اور اپنے کیمرامین کے لیے ان کے چارٹرڈ جہاز پر دو ٹکٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption آیت اللہ خمینی 15 برس جلاوطنی کی زندگی گزارنے کے بعد وطن لوٹے

بی بی سی نے مجھے کہا کہ میں نہ جاؤں، لیکن یہ موقع ہاتھ سے چھوڑنا میرے لیے ممکن نہیں تھا، اس لیے میں چلا گیا۔

جلد ہی مجھے احساس ہوا کہ میں نے غلطی کی ہے۔ پرواز کے دوران خمینی کے ایک ساتھی نے بتایا کہ ایران کی فضائیہ ہمارے جہاز کو مار گرانا چاہتے ہیں۔ اس وقت تک ایرانی فضائیہ شاہ کی وفادار تھی۔

جہاز میں موجود صحافی یہ خبر سن کر صدمے کی حالت میں چلے گئے لیکن خمینی اور ان کے وفاداروں نے نعرے لگانا شروع کر دیا۔ وہ سب شہید ہونا چاہتے تھے۔

اسلامی ریاست کا قیام

ہم نے جہاز میں سفر کرنے ہوئے خمینی کی ویڈیو بنائی۔ وہ اپنی فرسٹ کلاس کی نشست پر بیٹھے کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے ہمیں نظرانداز کر رہے تھے۔ ایک صحافی نے ان سے پوچھا کہ وہ اتنے برسوں بعد وطن لوٹنے پر کیا محسوس کر رہے ہیں، تو انھوں نے جواب دیا، ’کچھ نہیں۔‘

ایرانی فضائیہ نے ہم پر حملہ نہیں کیا۔ اس کی بجائے ہمارا جہاز تہران کے ہوائی اڈے کے اوپر چکر کاٹتا رہا۔ نیچے موجود حکام کے ساتھ مذاکرات طول پکڑتے گئے اور جہاز کے دائرے میں گھومنے کی وجہ سے ہم سب کا دل میلا ہونے لگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption آیت اللہ خمینی تہران میں اپنے گھر کی کھڑکی میں

بالآخر ہمارا جہاز زمین پر اتر گیا۔ آیت اللہ خمینی کے استقبال کے لیے جو ہجوم اکٹھا ہوا تھا اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ انسانی تاریخ کا سب سے بڑا انسانی اجتماع تھا۔

ایران میں اسلامی جمہوریہ قائم ہو گئی، جو آگے چل کر مغربی دنیا کے بڑے مخالفوں میں سے ایک ثابت ہوئی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سارے عمل کی منصوبہ بندی فرانس کے اتنے پرسکون سے گاؤں میں ہوئی جہاں ٹریفک جام اور برف باری بھی بڑی خبریں بن جاتی ہیں اور ان پر کئی دنوں تک بحث ہوتی رہتی ہے۔

اسی بارے میں