انقلابِ ایران: چار دہائیوں میں ایران کیسے تبدیل ہوا؟

انقلابِ ایران تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ایران کا دارلحکومت تہران(1978-2018)

فروری 1979 کا اسلامی انقلاب، 20ویں صدی کے اہم واقعات میں سے ایک تھا۔ اس میں ایران کے اس وقت کے حکمران شاہ رضا پہلوی کی حکومت کو ختم کر دیا گیا۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ ان 40 برسوں میں یہ ملک کیسے تبدیل ہوا؟

1. آبادی میں اضافہ

روحانی پیشوا اور انقلاب ایران کے بانی آیت اللہ خمینی جب پیرس سے جلا وطنی کی زندگی گزارنے کے بعد 1979 میں تہران واپس آئے تو اس وقت ایران کی آبادی تین کروڑ ساٹھ لاکھ تھی۔ اس وقت سے لے کر اب تک ایران کی آبادی دگنے اضافے کے ساتھ آٹھ کروڑ دس لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔

آیت اللہ خمینی کی جانب سے ایک نئی شیعہ مسلم نسل پیدا کرنے کی ہدایت آبادی میں اضافے کا سبب بنی، جس سے انقلاب کے فوری بعد ملک بھر میں پیدا پونے والے بچوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے کو آیا۔

لیکن 1980 کی دہائی کے آخری برسوں میں عراق جنگ کے بعد حکومت کو اپنی پالیسی تبدیل کرنا پڑی اور بڑھتی آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے خاندانی منصوبہ بندی کا پروگرام لانا پڑا۔

یہ بھی پڑھیے

انقلابِ ایران: 'میرے لیے سب سے سخت چیز حجاب تھی'

ایرانی خواتین: اسلامی انقلاب سے پہلے اور بعد

انقلابِ ایران کی وہ شخصیات جو امام خمینی کے ہمراہ تھیں

ایران میں سینکڑوں خواتین کو فٹبال میچ دیکھنے کی اجازت

تاہم ملک کی عمر رسیدہ آبادی اور قومی سلامتی کو درپیش خطرات کے پیش نظر 2010 میں حکومت نے ایک بار پھر عوام کو زیادہ بچے پیدا کرنے کی حوصلہ افزائی کی۔

صدر محمود احمد نژاد نے برتھ کنٹرول پالیسیوں اور حکومت پر تنقید کی اور سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی حمایت سے خاندانی منصوبہ بندی کے پروگرامز پر پابندی عائد کر دی کی گئی۔

Image caption گزشتہ 40 برسوں میں ایران کی بڑھتی آبادی

ملک کے اہم شہروں میں بڑھتی آبادی پر توجہ مرکوز رکھی گئی۔

1980 میں صرف دو شہروں کی آبادی دس لاکھ سے زیادہ تھی جبکہ اب ایسے شہروں کی تعداد سات ہو چکی ہے۔

دارالحکومت تہران کی شہری آبادی 1970 میں 50 لاکھ تھی جو 1980 میں بڑھ کر 75 لاکھ تک پہنچ گئی اور اب وہاں تقریبا ایک کروڑ 20 لاکھ لوگ آباد ہیں۔

انٹرایکٹِو تہران کے رقبے میں کیسے اضافہ ہوا

2016

Satellite image of Tehran, 2016

1984

Satellite image of Tehran, 1984

2. اقتصادی اثر

ایران کی بڑھتی آبادی کے ساتھ ساتھ جنگی نتائج اور بین الاقوامی پابندیوں کا ملک کے وسائل پر گہرا اثر پڑا۔

ایک بنجر ملک جو تیل کی برآمدات پر انحصار کرتا تھا، ایران میں گزشتہ چار دہائیوں میں حالات بدتر ہوتے دیکھے گئے۔

1976 میں ایران کی فی کس قومی آمدن 10 ہزار 200 امریکی ڈالر سے 2017 میں چھ ہزار 900 امریکی ڈالر رہ گئی۔

اسی دوران ترکی جس کی آبادی میں بالکل اسی طرح اضافہ ہو رہا تھا میں فی کس قومی آمدنی تین گنا بڑھ گئی۔

ایران کے قومی خزانے میں یہ تبدیلیاں تیل کی پیداوار میں کمی کی وجہ سے رونما ہوئیں۔

ایران اور عراق جنگ کے دوران تیل کی صنعت کے بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کا گہرا اثر ملکی معیشت پرہوا۔

آج ایران کی اہم برآمدات میں تیل اور اس سے متعلقہ اشیا شامل ہیں جبکہ درآمدات میں زیادہ تر کھانے پینے کا سامان شامل ہے۔

روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمت میں اجرت کے مقابلے خاصا اضافہ ہوا ہے۔

1978 میں کم از کم اجرت سے بھی آپ گائے کا 74 کلو گوشت خرید سکتے تھے جبکہ موجودہ دور میں آپ صرف 10 کلو گوشت ہی خرید سکتے ہیں۔

آج کل ایران کا سب سے اہم مسئلہ بے روزگاری ہے۔

گذشتہ چند برسوں میں بڑھتی بے روزگاری نے زیادہ تر نوجوان طبقے کو متاثر لیا ہے۔

ورلڈ بینک کے اعدادوشمار کے مطابق 2018 میں نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 30 فیصد تک پہنچ چکی تھی ۔

3. پانی کے ذخائر می کمی:

40 برس قبل کے مقابلے میں ایران اب ایک انتہائی خشک ملک بن چکا ہے اور اس کے پانی کے وسائل کی صورت حال خطرناک ہے۔

اوسط سالانہ بارش 228 ملی میٹر ہے جو کہ عالمی اوسط کا پانچواں حصہ ہے۔ اس کے ساتھ ملک میں 90 فیصد پانی کو زراعت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جبکہ عالمی سطح پر یہ شرح 69 فیصد ہے۔

مغربی آذربائیجان کے علاقے میں بارشوں میں تیزی سے کمی آئی ہے۔ جس کی وجہ سے وہاں موجود دنیا کی نمک کی بڑی جھیلوں میں شمار جھیل ارمیہ سکڑ رہی ہے۔

انٹرایکٹِو جھیل ارمیہ سکڑ رہی ہے

2016

Lake Urmia in Iran, satellite image, 2016

1984

Lake Urmia in Iran, satellite image, 1984

ملک کے بڑھتے ہوئے شہروں کے مطالبے ایران میں پانی کی فراہمی کو درپیش بڑے چیلنجز میں سے ایک ہے۔

آبادی کے لحاظ سے ایران کے تیسرے بڑے شہر اصفہان میں بہنے والا دریا زین دا راؤڈ بھی خشک ہو چکا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption 40 برس قبل ایرانی شہر اصفہان میں بہنے والا دریا زین دا راؤڈ
تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اصفہان میں بہنے والا دریا زین دا راؤڈ اب خشک ہو چکا ہے

4. طلاق کی شرح میں اضافہ

1979 کے بعد ملک میں شادی کی شرح میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا لیکن 2009 کے بعد اس میں آہستہ آہستہ کمی ہوئی۔

اسی طرح 1978 کے بعد سے طلاق کی شرح میں بھی چار گنا اضافہ ہوا ہے۔

5. زیادہ اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین

1970 سے لے کر اب تک خواتین کی تعلیم تک رسائی میں اضافہ ہوا ہے لیکن افرادی قوت میں ان کا کردار ابھی بھی بہت کم ہے۔

1978 ء میں صرف 2.9 فیصد خواتین یونیورسٹی میں داخلہ لے سکتی تھیں جبکہ 2016 میں ان کی تعداد 65.5 فیصد تک پہنچ گئی۔

لیکن گزشتہ 40 برسوں میں جہاں یونیورسٹی میں داخلہ لینے والے مرد و خواتین کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے وہیں مردوں کے مقابلے خواتین میں بے روزگاری دگنی ہوئی ہے۔

6. سینما گھروں اور کتابوں میں کمی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ایران کے اسلامی انقلاب کے بعد ملک بھرمیں سینما گھروں میں بھی کمی آئی ہے

گزشتہ 40 برسوں میں سینما گھروں میں جانے کی سہولت میں بھی تبدیلی آئی ہے۔

ایک اندازے کے مطابق انقلاب سے قبل ملک بھر میں تقریباً 450 سینما تھے۔

اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کے مطابق 2015 میں ملک میں صرف 380 سینما گھر تھے۔

اگر بڑھتی ہوئی آبادی کو مدنظر رکھتے ہوئے دیکھا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جہاں پہلے ہر 80 ہزار افراد کے لیے ایک سینما موجود تھا اب وہاں دو لاکھ آٹھ ہزار لوگوں کے لیے ایک سینما گھر ہے۔

بالکل اسی طرح 1980 میں ہر کتاب کے نسخے کی اوسطً سات ہزار کاپیاں چھاپی جاتی تھیں جبکہ حالیہ برسوں میں یہ تعداد صرف 200 تک محدود ہو گئی ہے۔

اسی بارے میں