ایران: خودکش حملے میں پاسدران انقلاب کے 27 محافظ ہلاک

ایران تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption خودکش حملے میں نشانہ بننے والی سکیورٹی اہلکاروں کی بس کی یہ تصویر فارس نیوز ایجنسی نے جاری کی ہے

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق ملک کے جنوب مشرقی علاقے میں ہونے والے ایک خودکش حملے میں پاسدران انقلاب کے کم ازکم 27 محافظ ہلاک ہو گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق محافظوں کو منتقل کرنے والی گاڑی کو پاک ایران سرحد سے متصل سیستان بلوچستان صوبے میں خاش زاہدان روڈ پر نشانہ بنایا گیا۔

سرکاری خبررساں ادارے ارنا نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ حملے میں 20 محافظ زخمی بھی ہوئے ہیں۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں اس حملے کی مذمت کی گئی ہے۔

ادھر سنّی مسلمان جنگجو گروپ جیش العدل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس حملے کے پیچھے اس کا ہاتھ ہے۔

مزید پڑھیے

ایران پر مزید امریکی دباؤ، پاسدارانِ انقلاب نشانے پر

وارسا کانفرنس: ایران پر خاموشی کیوں؟

اس گروپ نے سنہ 2012 میں ہتھیار اٹھائے تھے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ شیعہ اسٹیبلشمنٹ کے سنّی عوام سے امتیازی سلوک کے خلاف ہیں۔

اس گروپ نے حالیہ عرصے میں سیستان بلوچستان میں متعدد حملے کیے ہیں۔ اس علاقے میں سنّی فرقے سے تعلق رکھنے والی بلوچ کمیونٹی کی اکثریت آباد ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سنہ 1979 میں ایرانی انقلاب کے بعد ملک میں پاسدارانِ انقلاب کا قیام عمل میں لایا گیا تھا جس کا مقصد ایران کے اسلامی نظام کی حفاظت کرنا تھا

پاسدران انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کی یونٹ کی زمینی فورسز کے اہلکار پاکستانی سرحدی علاقے سے بدھ کو واپس لوٹ رہے تھے کہ ایک خودکش مواد سے بھری گاڑی کے ذریعے اسے نشانہ بنایا گیا۔

حکام نے زخمی اور ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی تعداد کے بارے میں کچھ نہیں لکھا۔ تاہم یہ الزام لگایا ہے کہ تکفیری دہشت گردوں اور سامراجی طاقتوں کی خفیہ ایجنسیوں کے کرائے کے سپاہیوں نے کیا ہے۔

تکفیری ان سنّی شدت پسندوں کو کہا جاتا ہے جو باقی سب مسلمانوں کو دائر اسلام سے خارج تصور کرتے ہیں۔

اس بیان میں سامراجی طاقت کی نشاندہی نہیں کی گئی تاہم ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے اسے امریکہ کی سربراہی میں پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں ہونے والی مشرق وسطیٰ سے متعلق کانفرنس سے جوڑا ہے۔ اس کانفرنس میں ایران کی خطے میں کارروائیوں پر بھی بات کی جائے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

اس ماہ کے آغاز میں جیش العدل نے پارلیمینٹ کی بیس میں نِک سحر میں حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں پاسبدران انقلاب کا ایک محافظ ہلاک ہوا تھا جبکہ پانچ زخمی ہوئے تھے۔

اکتوبر میں اسی گروہ نے دس سکیورٹی اہلکاروں کو اغوا کر لیا تھا۔

بدھ کو ہونے والا حملہ ستمبر کے بعد سے اب تک ہونے والا سب سے بڑا حملہ تھا۔ ستمبر میں جنوبی مغربی شہر اہوز میں فوجی پریڈ پر فائرنگ کے نتیجے میں 24 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

جہادی گروپ دولت اسلامیہ اور عرب علیحدگی پسند گروہوں نے یہ حملہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا تاہم اس کے کوئی شواہد نہیں ملے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں