شہریت کا قانون: انڈیا میں شہریت کا ترمیمی بل راجیہ سبھا میں پاس نہ ہو سکا

شہریت قا
Image caption حزب اختلاف کی جماعتیں شہریت کا قانون کے ترمیمی بل کو ہندتوا کے ایجنڈے سے تعبیر کر رہی تھیں

انڈیا میں شہریت کا ترمیمی بل راجیہ سبھا یعنی ایوان بالا میں پاس نہ ہو سکا۔

اس بل کو لوک سبھا میں منظوری مل چکی تھی لیکن راجیہ سبھا میں اسے حزب اختلاف اور خود حکمران بی جے پی کی کئی اہم اتحادی جماعتوں کی سخت مخالفت کے سبب پیش نہیں کیا جا سکا۔ پارلیمنٹ کے اجلاس کے خاتمے کے ساتھ ہی یہ بل اب زائل ہو چکا ہے۔

لوک سبھا تحلیل کی جا چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

انڈیا:مشرقی ریاستوں میں پناہ گزیں مخالف مظاہرے

بنگالی اور افغان شہریوں کی پاکستانی شناخت پر تشویش کیوں؟

روہنگیا سب سے زیادہ ستائی ہوئی اقلیت!

شہریت کا بل ہے کیا؟

شہریت کے ترمیمی بل میں انڈیا میں پناہ لینے والے پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان کے ہندوؤں، بودھ، جین، سکھوں، پارسیوں اور مسیحیوں کو انڈیا کی شہریت دینے کی تجویز دی گئی تھی۔

پڑوسی ملکوں کے مسلمانوں اور ان سے جڑی برادریوں کو اس بل سے باہر رکھا گیا تھا۔ اس میں کہا گیا تھا کہ ان غیر مسلم برادریوں کے لوگ اگر انڈیا میں چھ برس گزار لیتے ہیں تو وہ شہریت کے مجاز ہونگے۔ پہلے یہ مدت گیارہ برس تھی اور اس کے بعد بھی شہریت حاصل کرنے کے عمل میں کافی پیچیدگیاں تھیں۔

شہریت بل کی ضرورت کیوں پڑی؟

انڈیا کی ریاست آسام میں بنگلہ دیش سے آ کر آباد ہونے والے غیر قانونی تارکین وطن کی شناخت اور ان کی شہریت ختم کرنے کے لیے ریاست کے تمام شہریوں کے کاغذات کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔

ابتدائی راؤنڈ میں ریاست کے تقریباً چالیس لاکھ باشندوں کو شہریت کی فہرست سے باہر رکھا گیا ہے۔ انھیں اپنی شہریت ثابت کرنے کے لیے ایک اور موقع دیا گیا ہے۔ حتمی فہرست جولائی میں شائع کی جائے گی۔

شہریت کے ترمیمی بل پر پارلیمنٹ میں بحث کے دوران بعض ارکان پارلیمان نے بتایا تھا کہ آسام میں جو چالیس لاکھ لوگ شہریت کی فہرست سے باہر رکھے گئے ہیں ان میں تقریباً تیس لاکھ بنگالی ہندو ہیں۔

بی جے پی کی حکومت کا خیال یہ تھا کہ وہ شہریت کے بل کے ذریعے ان ہندوؤں کو شہریت دے سکے گی اور اس کے ساتھ ممکنہ طور پر غیر قانونی تارکین وطن قرار پانے والے لاکھوں مسلمانوں کو وہ شہریت سے ہی نہیں بلکہ تمام بنیادی حقوق سے بھی محروم کر دے گی۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک تقریر میں کہا تھا کہ اگر ان پڑوسی ملکوں میں ہندوؤں اور دوسری غیر مسلم اقلیتوں پر ظلم و جبر ہوتا ہے تو وہ انڈیا کے علاوہ کہاں جائیں گے؟

Image caption بی جے پی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اس بل کی آسام جیسی ریاست میں مخالفت ہوگی

ہندوتوا کے ایجنڈے کا ایک بڑا پلان

حزب اختلاف کی جماعتیں شہریت کے ترمیمی بل کو ہندتوا کے ایجنڈے سے تعبیر کر رہی تھیں۔ بی جے پی کا خیال تھا کہ آسام کے ہندو غیر قانونی قرار پانے والے بنگالی ہندوؤں کو مذہب کے نام پر قبول کر لیں گے اور حکومت شہریت کا ترمیمی بل پارلیمنٹ میں پاس کرا کر انھیں شہریت دے دے گی۔

اس کے ساتھ ہی غیر قانونی قرار پانے والے مسلمانوں کو وہ شہریت اور حقوق سے محروم کر کے انہیں بے ریاست کر دیتی۔ بی جے پی کے صدر امیت شاہ نے گذشتہ دنوں میں بنگال میں منعقد ہوئی ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'آسام کے غیر قانونی بنگالی ہندو تارکین وطن کو ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوگی۔ انہیں شہریت دی جائے گی۔'

ملک میں مذہبی نفرت کی سیاست میں ہندتوا کا یہ ایجنڈہ انتخابی سیاست میں کارگر ثابت ہو سکتا تھا۔ صحافی روپک بھٹا چاریہ کا کہنا ہے کہ بی جے پی کی یہ انتخابی حکمت عملی آسام اور شمال مشرقی ریاستوں میں کامیاب نہیں ہوگی۔

وہ کہتے ہیں کہ ’آسام میں غیر قانونی تارکین وطن کا مسئلہ عشروں سے چلا آرہا ہے۔ یہاں سوال آسام کے لوگوں کی نسل، زبان اوران کی ثقافت کو درپیش خطرات کا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہاں مذہب کے نام پر سیاست نہیں چلے گی۔ یہاں صرف نسلی بنیادوں پر لوگوں کو موبلائز کیا جا سکتا ہے۔ آسام کے لوگ مذہب کے نام پر کوئی فیصلہ نہیں کرتے۔ یہاں سوال نسلی بحران کا ہے۔‘

آسام کے ایک سابق سٹوڈنٹ لیڈر منوج کمار دتا کا کہنا ہے کہ شہریت کے بل کے بارے میں پورے شمال مشرق میں زبردست ناراضگی تھی۔

انھوں نے کہا کہ ’آسام میں پہلی بار بی جے پی کی حکومت بنی ہے لیکن مودی حکومت اس بل کے بارے میں یہاں کے لوگوں کی ناراضگی کو نظر انداز کرتی رہی۔ اس رویے سے انتخابات میں اسے نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔‘

Image caption شہریت کے بل کے بارے میں پورے شمال مشرق میں زبردست ناراضگی تھی

شہریت کے بل کی مخالفت کیوں؟

آسام، میگھالیہ اور منی پور کے علاوہ دوسری شمال مشرقی ریاستوں میں بھی شہریت کے بل کی شدید مخالفت ہو رہی تھی۔ مخالفت کرنے والی بیشتر ریاستیں بنگلہ دیش کے ساتھ سرحد پر واقع ہیں۔

مقامی لوگوں کا خیال ہے کہ شہریت کے قانون سے بنگلہ دیش کے ہندوؤں اور بودھ باشندوں کو یہاں آ کر بسنے کی ترغیب ملے گی اور وہ نسلی طور پر رفتہ رفتہ اقلیت میں بدل جائیں گے۔

حزب اختلاف کی جماعتیں اس بل کی مخالفت اس لیے بھی کر رہی تھیں کیوںکہ یہ بل بقول ان کے غیر جمہوری اور غیر آئینی ہے۔ بی جے پی کی بعض اتحادی جماعتیں بھی اس کی مخالف تھیں کیونکہ ان کے خیال میں یہ بی جے پی کا اپنا سیاسی ایجنڈہ ہے جس کا وہ حصہ نہیں بننا چاہتیں۔

بی جے پی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اس بل کی آسام جیسی ریاست میں مخالفت ہوگی۔

آسام کے سینئر صحافی نوا ٹھاکریا کہتے ہیں کہ بی جے پی کو آسام میں نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے لیکن وہ اب اس سے پورے ملک میں انتخابی فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ 'انڈیا کے 60 فیصد ہندو اب ووٹ بینک بن گئے ہیں۔ پہلے دلت ووٹ بینک ہوتا تھا، مسلم ووٹ بینک ہوتا تھا۔ لیکن اب ہندو بھی ووٹ بینک بن چکے ہیں۔ یہ پوری سیاست ملک کے باقی حصوں میں ووٹ بینک مضبوط کرنے کی ایک کوشش ہے۔'

لوک سبھا میں منظوری کے باوجود راجیہ سبھا میں یہ بل پاس نہیں ہو سکا۔ آئندہ پارلیمانی اجلاس اب پارلیمانی انتخابات کے بعد نئی حکومت کی تشکیل کے بعد ہی منعقد ہوگا۔

شہریت کا ترمیمی بل تو زائل ہو گیا لیکن اس سے وابستہ سب سے اہم سوال اپنی جگہ قائم ہے۔ آئندہ جولائی میں آسام کے شہریوں کی حتمی فہرست شائع ہونے والی ہے‏۔ اس عمل میں لاکھوں باشندوں کو غیر قانونی تارکین وطن قرار دیے جانے کا خدشہ ہے۔ آسام کے ان لاکھوں باشندوں کا کیا ہوگا جو شہریت ہی نہیں قومیت اور ریاست سے بھی محروم ہو جائیں گے؟

اسی بارے میں