انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں دھماکہ،40 سکیورٹی اہلکار ہلاک، درجنوں زخمی

کشمیر حملہ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے پہلے بسوں پر فائرنگ کی اور بعد میں دھماکہ خیز مواد سے بھری ہوئی ایک گاڑی قافلے سے ٹکرا گئی

انڈیا میں انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے جمعرات کے روز پلوامہ میں نیم فوجی دستوں پر کیے جانے والا حملہ ایک سکیورٹی لیپس تھا اور اس سے بچا جاسکتا تھا۔ 

ایک اعلیٰ سیکورٹی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ 12 فروری کو ملک بھر کی سیکورٹی ایجنسیوں کو شدت پسند گروپ جیش محمد کی جانب سے ایک بڑے حملے کے بارے میں خبردار کیا گیا تھا۔ 

بی بی سی کو قابل اعتماد ذرائع سے ملنے والی معلومات کے مطابق ڈی جی دل باغ سنگھ نے حملے کے فوری بعد دہلی میں قومی سلامتی کے  مشیر کو بھی یہی بتایا۔

اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک سیکورٹی اہلکار نے کہا کہ اگر سٹیٹ انٹیلی جنس کی معلومات کا تبادلہ نیو دہلی سے کیا گیا تھا تو یہ حملہ سیکورٹی کی ایک بہت بڑی غلطی ہے۔

یاد رہے کہ جمعرات کو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں تعینات پیرا ملٹری پولیس اہلکاروں پر ہونے والے حملے میں کم ازکم 40 اہلکار ہلاک ہو گئے۔ سنہ 1989 کے بعد انڈین فورسز پر کشمیر میں ہونے والا یہ سب سے بڑا حملہ ہے۔

پولیس نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ سرینگر جانے والی سکیورٹی اہلکاروں کی بس کو خودکش مواد سے بھری گاڑی کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔

پاکستان میں موجود اسلامی شدت پسند گروپ جیش محمد نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ حملہ اس نے کیا ہے۔

انڈین وزیراعظم نے اس حملے کو قابل مذمت قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

بھارت کو مبینہ سرجیکل سٹرائیکس سے کیا ملا؟

’سرجیکل سٹرائیک‘ سے زندہ لوٹنا کتنا مشکل تھا؟

کیا پاکستان میں 'ففتھ جنریشن وار فئیر' جاری ہے؟

حملہ ہوا کیسے؟

یہ حملہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے مرکزی شہر سرینگر سے 20 کلومیٹر دو سرینگر جموں ہائی وے پر ہوا جہاں سکیورٹی کے خصوصی انتظامات موجود ہوتے ہیں۔

انڈین میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ حملہ مقامی وقت کے کے مطابق دوپہر تین بجکر پندرہ منٹ پر ہوا۔ ایک گاڑی جس میں تین سے ساڑھے تین سو کلو دھماکہ خیز مواد موجود تھا نے 70 گاڑیوں پر مشتمل قافلے کو نشانہ بنایا۔ جس میں 2500 سکیورٹی اہلکار موجود تھے۔

ایک سینئیر پولیس افسر نے بی بی اردو کے نامہ نگار ریاض مسرور کو بتایا کہ گاڑی نے ایک بس کو ٹکر ماری جس میں 44 اہلکار موجود تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مرنے والے کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ درجنوں اہلکار شدید زخمی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق یہ ہائی وے گذشتہ دنوں ایک ہفتے کے لیے بند کر دی گئی تھی جس کی وجہ برفباری تھی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جیش محمد نامی تنظیم نے مقامی میڈیا کو بتایا ہے کہ یہ حملہ اس نے کیا ہے۔

حملے کے بعد ردعمل

انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی نے اس حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور انھوں نے کہا کہ پوری قوم متاثرہ خاندانوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER

وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ جیش محمد پاکستان میں موجود ہے اور اسے پاکستان کی پشت پناہی حاصل ہے۔ ملک کے وزیر خزانہ ارن جیٹلی نے کہا ہے کہ ذمہ داران کو اس گھناؤنے اقدام پر سبق سکھایا جائے گا۔

ریاست کے دو سابق وزرائے اعلیٰ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی نے حملے کے بعد شوشل میڈیا پر اپنے ردعمل میں اس کی مذمت کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

عمر عبداللہ نے اپنی ٹوئٹ میں اس کی پرزور مذمت کی اور کہا کہ ان کی ہمدردیاں متاثرین کے ساتھ ہیں جبکہ محبوبہ مفتی نے لکھا کہ اس پاگل پن کے خاتمے سے پہلے کتنی جانیں جائیں گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

جمعرات کے حملے کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے ایک تحریری بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ پلوامہ میں حملہ تشویشنا ک معاملہ ہے۔

'ہم نے ہمیشہ وادی میں پرتشدد واقعات کی شدید مذمت کی ہے۔ '

ترجمان کا کہنا ہے کہ ہم انڈین حکومت اور میڈیا کے حلقوں میں اس حملے کی تحقیقات سے پہلے ہی اسے پاکستان کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کو سختی سے مسترد کیا ہے۔

پس منظر کیا ہے؟

سنہ 1989 سے لے کر اب تک انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں کم ازکم دس خود کش حملے ہو چکے ہیں تاہم کار کے ذریعے کیا جانے والا یہ دوسرا حملہ ہے۔

جمعرات کو ہونے والے حملے سے پہلے کشمیر میں انڈین فورسز پر ہونے والے بدترین حملہ سنہ 2002 میں ہوا تھا جبکہ شدت پسندوں نے کالوکچھ کے علاقے جو کہ جموں کے قریب ہی واقع ہے میں فوجی اڈے پر حملہ کیا تھا اور اس میں کم ازکم 31 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ان میں زیادہ تر لوگ شہری یا سپاہیوں کے رشتہ دار تھے۔

سنہ 2016 میں شدت پسندوں نے اوری میں فوج کے اڈے پر حملہ کیا تھا اور 19 انڈین سپاہی ہلاک ہوئے تھے۔

دہلی کی جانب سے ان حملوں کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرایا جاتا ہے تاہم پاکستان کسی بھی قسم کی مداخلت سے انکاری ہے۔

انڈین فورسز کی جانب سے تین سال قبل 22 سالہ برہان وانی کی ہلاک کیا تھا۔

500 افراد کو سنہ 2018 میں مارا گیا جن میں شہری اور سکیورٹی اہلکار اور شدت پسند بھی شامل تھے یہ گذشتہ دہائی میں ہونے والی سب سے زیادہ اموات تھیں۔

کشمیر میں موجود ایک صحافی بشیر منظور نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ حالیہ بم حملہ جنگجوؤں کا مورال بڑھائے گا بلکہ یپ کشمیر کی صورتحال کے کنٹرول میں ہونے کے دعوے سے بھی متصادم صورتحال ہے۔

انھوں نے کہا کہ گذشتہ چند مہینوں کے دوران سیاسی رہنماؤں نے سرینگر اور دہلی میں دعوے کیے تھے کہ کشمیر میں صورتحال معمول پر ہے اور سینکڑوں جنگجو اور ان کے رہنما ہلاک ہو چکے ہیں۔

دو ماہ بعد ہونے والے انڈیا کے پارلیمانی اور کشمیر میں اسمبلی انتخابات سے قبل فوجی حکام نے دعوی کیا تھا کہ کشمیر میں عسکریت پسندوں کا خاتمہ کیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption حملے کے بعد شاہراہ پر ٹریفک معطل کر دی گئی ہے اور فورسز نے وسیع علاقے کا محاصرہ کر کے حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی ہے۔

ضلع بارہ مولہ کو پہلے سے ‘ملی ٹینسی فری‘ ضلع قرار دیا گیا ہے۔ تاہم جنوبی کشمیر کے پلوامہ، کولگام، اننت ناگ اور شوپیان میں آئے روز تصادم ہوتے ہیں جن میں مقامی عسکریت پسند مارے جاتے ہیں۔

اس حملے کے فوراً بعد 300 کلومیٹر طویل سرینگر۔جموں قومی شاہراہ پر سیکورٹی کا جائزہ لیا گیا۔ سرینگر سے پلوامہ ہوتے ہوئے یہی وہ شاہراہ ہے جو ہر سال ہندو یاتری امرناتھ گھپا تک جانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

حالیہ حملے کو اوری سے لے کر اب تک ہونے والے حملوں میں سب سے زیادہ بڑا حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔

پاکستانیِ ردِعمل

ادھر پاکستان کے دفترِ خارجہ نے پلوامہ میں حملے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

دفترخارجہ کے ترجمان ڈاکٹرمحمد فیصل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہم نے ہمیشہ وادی میں تشدد کی کارروائیوں کی مذمت کی ہے۔

ترجمان نے انڈین حکومت اور ذرائع ابلاغ کے حلقوں میں ان عناصر کے بیانات کو سختی سے مسترد کیا جو تحقیقات کے بغیر حملے کو پاکستان سے منسلک کر رہے ہیں۔

جیش محمد

مولانا مسعود اظہر کی قیادت میں قائم ہونے والی جنگجو تنظیم جیش محمد کے قیام کی کہانی مختصر لیکن ہنگامہ خیز ہے۔

دسمبر انیس سو ننانوے میں بھارتی مسافر طیارے کے اغواء کے نتیجے میں عمر سعید شیخ اور مشتاق زرگر کے ہمراہ کشمیر کی جیل سے رہائی کے فوری بعد مولانا مسعود اظہر نے راولپنڈی میں حرکت المجاہدین کے سربراہ مولانا فضل الرحمان خلیل سے ملاقات کی جس میں تنظیمی امور پر بات چیت کی گئی۔

حرکت کے قریبی حلقوں کے مطابق یہ ملاقات اس حوالے سے کوئی زیادہ خوشگوار نہیں کہی جا سکتی کیونکہ مولانا مسعود اظہر نے تنظیم میں بڑی ذمہ داری کا مطالبہ کیا جب کہ مولانا فضل الرحمان خلیل نے انہیں کچھ عرصے کے لیے خاموش رہنے کا مشورہ دیا اور اس طرح معاملات طے نہ پا سکے۔

مولانا مسعود اظہر نے کچھ ہی دنوں کے بعد جنوری دو ہزار میں کراچی میں پہلی ریلی کے دوران جیش محمد کے قیام کا اعلان کر دیا۔

اکتوبر دو ہزار ایک میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی کی عمارت پر خود کش حملے میں تیس لوگ مارے گئے اس ی ذمہ داری جیش محمد پر عائد کی گئی۔

دسمبر دو ہزار ایک میں نئی دہلی میں بھارتی پارلیمنٹ کی عمارت پر حملہ ہو یا دو ہزار دو کے اوائل میں امریکی صحافی ڈینیئل پرل کا قتل، جیش محمدکے نام کی باز گشت ہر اہم واقعے کے ساتھ سنی گئی۔

ڈینئل پرل کے قتل میں القاعدہ کے اہم رہنما خالد شیخ محمد کے براہ راست ملوث ہونے کے شواہد جیش اور القاعدہ کے درمیان روابط کا پتا دیتے ہیں۔

بھارت کے ساتھ ساتھ امریکہ اور برطانیہ نے بھی بہت جلد جیش کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا اور پاکستان کے فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف نے بھی جنوری دو ہزار دو میں جیش کو خلاف قانون قرار دے کر پابندیاں عائد کر دیں اور مولانا مسعود اظہر کو نظر بند کر دیا گیا۔

لیکن ان کی قیادت میں تنظیم خدام الاسلام کے نام سے کام کرنے لگی، جب کہ جیش محمد کا ایک اور دھڑا جماعت الفرقان کے نام سے مولانا عبدالجبار کی قیادت میں متحرک ہو گیا۔

دو ہزار تین میں ان دونوں تنظیموں کو بھی مشرف حکومت نے خلاف قانون قرار دے دیا لیکن ان کی سرگرمیوں میں عملی رکاوٹ نہ ڈالی جا سکی۔

دسمبر دو ہزار تین میں مولانا عبدالجبار کو صدر پرویز مشرف پر قاتلانہ حملے کے حوالے سے حراست میں لیا گیا لیکن دو ہزار چار میں رہا کر دیا گیا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں