اوڑی سے پلوامہ حملے تک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

جمعرات کو پلوامہ میں شدت پسندوں کے ایک حملے میں 34 سی آر پی ایف کے جوان ہلاک اور زخمی ہوئے۔

اس حملے کی ذمہ داری جیش محمد نامی تنظیم نے قبول کی ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی، بی جے پی کے لیڈر ارون جیٹلی، کانگرس کے راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی نے حملے کی مذمت کی ہے اور متاثرہ خاندانوں اور سپاہیوں سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

کانگرس کا دعوی ہےمودی حکومت کے دوران اب تک 18 بڑے حملے ہو چکے ہیں۔

سنہ 2014 سے اب تک ہونے والے پانچ بڑے حملے۔

جموں اور کشمیر کے اوڑی سیکٹر میں 18 ستمبر 2016 کو انڈین فوج کے کیمپ پر حملہ ہوا تھا۔ اس میں 19 سپاہی ہلاک ہوئے تھے۔ اس حملے کو دو دہائیوں میں اب تک ہونے والا سب سے بڑا حملہ قرار دیا گیا تھا۔

مزید پڑھیے

کشمیر: خودکش حملے میں 40 انڈین سکیورٹی اہلکار ہلاک

کشمیر میں ہلاکتوں پر طلبا کا احتجاج

پٹھان کوٹ میں سنہ 2016 میں دو جنوری کو فضائی اڈے پر حملہ ہوا تھا۔ اس میں سات سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے تھے جبکہ زخمی ہونے والوں کی تعداد 20 تھی۔ جوابی حملے میں چار شدت پسند بھی ہلاک ہوئے تھے۔

گرداس پور کے علاقے دینا پور میں سات جولائی 2015 میں صبح کے وقت بس پر حملہ ہوا اس کے بعد پولیس سٹیشن کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان حملوں میں چار پولیس اہلکار اور تین شہری ہلاک ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

دس جولائی سنہ 2017 میں شدت پنسدوں نے امرناتھ سے آنانتنگ جانے والے عازمین کو نشانہ بنایا۔ اس کے نتیجے میں سات افراد ہلاک ہوئے۔

سی آر پی ایف کے قافلے پر آئی ای ڈی کے ذریعے پلوامہ ڈسٹرکٹ میں حملہ کیا۔

14 فروری کو ضلع پلوامہ میں سرینگر جموں ہائی وے پر شدت پسندوں نے سی آر پی ایف کے قافلے کو خودکش حملے میں نشانہ بنایا۔ اب تک کم ازکم 40 ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے۔

حالیہ حملے کو اوری سے لے کر اب تک ہونے والے حملوں میں سب سے زیادہ بڑا حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں