پلوامہ حملہ: ’صرف امن ہی انصاف ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ GURMEHAR KAUR
Image caption گُرمہر نے کچھ عرصہ پہلے کشمير ميں بھی وقت گزارا تھا۔

انڈيا سے تعلق رکھنے والی امن کی علمبردار، 20 سالہ گُرمہر کور کے والد انڈین فوج ميں ميجر تھے اور کارگل کی پاکستانانڈیا جھڑپوں ميں مارے گئے تھے۔ کُرمہر کی دوسری کتاب ’دی ینگ اینڈ دی ریسٹلس‘ کچھ ہی ہفتوں میں شائع ہونے جا رہی ہے۔ بی بی سی اردو نے پلوامہ میں ہونے والے حملے کے بعد ان سے بات کی۔

اتنے برس سے امن کے لیے کام کرنے کے بعد جب پلوامہ جیسے واقعات پیش آتے ہیں تو آپ لرز کر رہ جاتے ہیں۔ اور پھر اس کے بعد خود پر، جو راہ آپ نے منتخب کی ہے، اس پر خود ہی شک کرنے لگتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

اوڑی سے پلوامہ حملے تک

پلوامہ حملہ: ’ہمیں ایک بار پھر سرجیکل سٹرائیک چاہیے‘

شدت پسند تنظیم ’جیش محمد‘ کیا ہے؟

کیا امن کا راستہ ہی صحیح ہے؟ جب آپ اپنے جوانوں کو اس طرح کے بےمعنی سے حملے میں اتنی بڑی تعداد میں مرتے دیکھتے ہیں تو ایک بار یہ بات ضرور ذہن میں آتی ہے کہ کیا واقعی امن کا راستہ صحیح ہے؟ کیونکہ آخر کار ایسا ہر بار ہوتا ہے۔ انڈیا پاکستان کے درمیان بس چلی، تو کارگل ہو گیا۔ اب کرتارپور راہداری کھلی تو یہ حملہ۔

ظاہر ہے جیش ایک دہشت گرد تنظیم ہے لیکن لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ پاکستان نے اس کے ارکان کو پناہ دے رکھی ہے اس لیے پاکستان بھی ذمہ دار ہے۔

اس سب کے بعد لیکن ایک ہی چیز ہے جس سے میرے شکوک دور ہوتے ہیں، اور میرے خیالات واضح ہو جاتے ہیں، اور وہ ہے نفرت، غصے اور بدلے کی باتیں جو ہر طرف سے کی جانے لگتی ہیں۔ تشدد کسی بھی حال میں صحیح نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ RAKESH BAKSHI
Image caption پلوامہ حملے کے خلاف انڈیا کے کئی شہروں میں احتجاج کیا گیا۔

اگر امن جواب نہیں ہے، تو کیا بدلہ ہے؟ اگر اس وقت انڈیا بدلہ لینے کی بات کرے، تو کیا ہوگا؟ مزید جوانوں کی جانیں خطرے میں پڑیں گی، ان کے خاندان، ان کے چھوٹے بچے۔۔۔ ہم جیت بھی جائیں تب بھی، ایک ہی جان جائے تب بھی، وہ ایک جان، ایک خاندان، وہ ایک بچی جس کے ابو واپس نہیں آئیں گے۔۔۔ کیا یہ کبھی نہ ختم ہونے والا تشدد اور درد کا سلسلہ جواب ہے؟

اوڑی کے واقعے کے بعد کہا گیا کہ سرجیکل سٹرائک سے ہم نے بدلہ لے لیا، اور آج چالیس اور جوانوں کی میتیں ان کے گھروں کو پہنچیں گی۔

ہم نے اوڑی پر فلم تو بنا لی، قوم پرستی اور حب الوطنی کے نعرے لگا لیے، لیکن بدلا کیا؟ اور فائدہ کسے ہوا؟ فلم بنانے والی ایک کمپنی کو؟ کچھ سیاست دانوں کو؟ جو جوان اوڑی میں مارے گئے ان کے خاندانوں کو، بچوں کو کیا ملا؟ صرف کبھی نہ ختم ہونے والا درد۔

بدلہ انصاف نہیں ہوتا۔ انصاف صرف تبھی ہوگا جب تشدد کا کا سلسلہ ختم ہوگا۔ صرف امن ہی انصاف ہے۔

بہت ہو گئیں بدلے کی باتیں۔ بدلے سے کیا ہوتا ہے؟ کیا ملتا ہے؟ کیا پیدا ہوتا ہے؟ میرے جیسے اور بچے جو اپنے ابو کے بغیر بڑے ہونے پر مجبور ہوتے ہیں۔ میں اپنے جیسے اور بچے نہیں دیکھنا چاہتی۔ صرف اپنی سیاست چمکانے کے لیے، اپنے فائدے کے لیے سینکڑوں بچوں کو جنگ کے منہ میں پھینک کر یتیم نہ کریں۔

بہت ہوگیا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں