پلوامہ حملہ: ’پاکستان کے ملوث ہونے کے ناقابلِ تردید شواہد موجود ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یاد رہے کہ جمعرات کو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں ہوئے خودکش حملے میں 46 پیرا ملٹری پولیس اہلکاروں کی ہلاکتوں کے پیشِ نظر انڈیا نے کہا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ عالمی سطح پر پاکستان مکمل طور پر تنہا ہو جائے۔

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک بار پھر کہا ہے کہ انڈیا پلوامہ کے دہشت گردانہ حملے کا جواب دے گا اور اس حملے کے مرتکبین بچ نہیں سکتے۔

مہاراشٹر میں ایک تقریب میں تقریر کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ 'میں نے کل بھی کہا تھا اور آج بھی کہہ رہا ہوں کہ ان جوانوں کی قربانی ضائع نہیں جائے گی۔ دہشت گرد کہیں بھی چھپنے کی کوشش کریں انھیں چھوڑا نہیں جائے گا۔ سکیورٹی فورسز کو کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے۔'

پاکستان کا نام لیے بغیر انھوں نے کہا 'وہ ملک جو دیوالیہ ہونے کی دہلیز پر ہے وہ دہشت گردی کا استعارہ بن چکا ہے۔‘

انھوں نے کہا 'پلوامہ حملے کا جواب کیسے دینا ہے؟ کب دینا ہے؟ کہاں دینا ہے؟ کس طرح دینا ہے؟ ان سبھی کا فیصلہ ہماری فوج کرے گی۔ آپ تحمل رکھیں۔'

پلوامہ میں جمعرات کو سکیورٹی فورسز پر دہشت گردانہ حملے اور اس سے پیدا ہونے والی سلامتی کی صورتحال پر آج انڈین پارلیمنٹ میں سبھی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی میٹنگ ہوئی ہے۔ یہ کل جماعتی میٹنگ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں سکیورٹی کی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد طلب کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پلوامہ حملہ:’ہمیں ایک بار پھر سرجیکل سٹرائیک چاہیے‘

پاکستان انڈیا کو تباہ کرنے کا خواب چھوڑ دے: مودی

’مسعود اظہر کے خلاف قرارداد انڈیا کا سیاسی حربہ‘

اوڑی سے پلوامہ حملے تک

حالیہ برسوں میں یہ پہلا موقع ہے جب حکومت نے دہشتگرد حملے کے بعد صلاح و مشورے کے لیے کل جماعتی میٹنگ بلائی ہے۔

اس میٹنگ میں وزیر داخلہ سیاسی رہنماؤں کو اس حملے کی تفصیلات کے علاوہ حکومت کی آئندہ حکمت عملی کے بارے میں بتائیں گے۔

خارجہ سکریٹری سلامتی کونسل کے پانچوں مستقل رکن ممالک کے سفیروں سے ملاقات کے بعد آج مغربی ایشیا اور خلیجی ملکوں کے سفیروں سے ملاقات کر رہے ہیں۔ ان ملاقاتوں کا مقصد بین الاقوامی سطح پر پاکستان پر دباؤ ڈالنا ہے۔

اس دوران پلوامہ کے حملے میں ہلاک ہونے والے سی آر پی ایف کے جوانوں کی جسد خاکی ان کے آبائی علاقوں میں پہنچ چکے ہیں۔

ہزاروں لوگ ہلاک ہونے والے جوانوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ان کے تابوت کے ساتھ جلوس کی شکل میں چل رہے ہیں۔ ان جوانوں کا تعلق ملک کی سولہ ریاستوں سے تھا۔ آخری رسومات میں شریک لوگ پاکستان کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں اور پاکستان کے خلاف کاروائی کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

انڈیا میں فضا اس وقت کافی جذباتی ہے۔ ٹی وی اور اخبارات میں بحث و مباحثے میں یہ بحث چھڑی ہوئی ہے کہ انڈیا کا اگلا قدم کیا ہوگا۔ پلوامہ کے فدائی حملے میں کم از کم چالیس سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔ اس حملے کی ذمے داری پاکستان میں موجود شدت پسند تنظیم جیش محمد نے لی ہے۔

’پاکستان کے خلاف شواہد ہیں‘

یاد رہے کہ اس سے قبل انڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے پاس پاکستان کے اس حملے میں ملوث ہونے کے ناقابلِ تردید شواہد موجود ہیں لیکن انڈیا کی طرف سے ابھی تک یہ ثبوت فراہم نہیں کیے گئے۔

پاکستان نے اس حوالے سے شواہد کا مطالبہ کیا ہے اور حملے کی تفتیش میں مدد کی پیشکش کی ہے۔

جمعے کی شب پاکستان کے دفتر خارجہ نے انڈیا کے ڈپٹی ہائی کمشنر گوروو اگروال کو کو طلب کر کے انڈیا کی جانب سے پلومہ حملے کے سلسلے میں پاکستان پر لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے ان کی شدید مذمت کی ہے۔

اس سے قبل وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے پلومہ حملے کے نتیجے میں انڈیا کی طرف سے پاکستان پر لگائے جانے والے الزامات کو من گھرت اور بے بنیاد قرار دیا تھا۔

ایک نجی چینل سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حملہ 130 کلومیٹر دور شہر کے اندر کیا گیا تو حملے میں استعمال کی گئی گاڑی اور 360 کلوگرام بارودی مواد پاکستان سے تو نہیں بھیجا گیا۔ ’حملہ کرنے والے لوگ مقامی ہیں اور ان کا تعلق پاکستان سے نہیں ہے۔‘

جمعرات کو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں ہوئے خودکش حملے میں 46 پیرا ملٹری پولیس اہلکاروں کی ہلاکتوں کے پیشِ نظر انڈیا نے کہا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ عالمی سطح پر پاکستان مکمل طور پر تنہا ہو جائے۔

فواد چوہدری کا مزید کہنا تھا ’اگر یہ (حملہ) منظم ہے تو ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ اس سے کس کو فائدہ ہوا ہے اور لگتا ہے کہ وہ مودی ہیں جو انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں اور ہار رہے ہیں۔ لگتا ہے کہ وہ تنازع کھڑا کرنے کے لیے بیتاب ہیں۔‘

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے اس سے پہلے اس حملے پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان انڈیا کو تباہ کرنے کا خواب دیکھنا چھوڑ دے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان اگر یہ سوچتا ہے کہ وہ انڈیا کو بدحال کر سکتا ہے تو اس کا یہ خواب کبھی پورا نہیں ہو گا۔

انھوں نے کہا کہ 'پاکستان انڈیا میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے جس طرح کی سازشیں کرتا رہتا ہے وہ سوچتا ہے کہ وہ اپنے منصوبے میں کامیاب ہو جائیگا۔ وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔`

وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے ایک میٹنگ کے بعد کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ہر ممکن سفارتی اور اقتصادی دباؤ بنایا جائے گا۔

ارون جیٹلی کا کہنا تھا کہ انڈیا وہ تمام ممکنہ سفارتی اقدامات کرے گا جن کے تحت پاکستان کو بین الاقوامی برادری سے الگ کیا جا سکے۔

انھوں نے اعلان کیا کہ پاکستان کو انڈیا کی جانب سے دیا گیا موسٹ فیورڈ نیشن کا تجارتی درجہ واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

حملہ ہوا کیسے؟

یہ حملہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے مرکزی شہر سرینگر سے 20 کلومیٹر دو سرینگر جموں ہائی وے پر ہوا جہاں سکیورٹی کے خصوصی انتظامات موجود ہوتے ہیں۔

انڈین میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ حملہ مقامی وقت کے کے مطابق دوپہر تین بجکر پندرہ منٹ پر ہوا۔ ایک گاڑی جس میں تین سے ساڑھے تین سو کلو دھماکہ خیز مواد موجود تھا نے 70 گاڑیوں پر مشتمل قافلے کو نشانہ بنایا۔ جس میں 2500 سکیورٹی اہلکار موجود تھے۔

ایک سینئیر پولیس افسر نے بی بی اردو کے نامہ نگار ریاض مسرور کو بتایا کہ گاڑی نے ایک بس کو ٹکر ماری جس میں 44 اہلکار موجود تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ درجنوں اہلکار شدید زخمی ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جیش محمد نامی تنظیم نے مقامی میڈیا کو بتایا ہے کہ یہ حملہ اس نے کیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں