پلوامہ حملہ: ’دہشت گردی کا کوئی ملک نہیں ہوتا‘

سدھو انڈین صوبہ پنجاب کی حکومت میں رہنما ہیں تصویر کے کاپی رائٹ Pti
Image caption سدھو انڈین صوبہ پنجاب کی حکومت میں رہنما ہیں

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں پلوامہ کے علاقے میں انڈیا سیکیورٹی فورسز پر حملے کے بارے میں انڈیا کے صوبہ پنجاب کے سیاستدان اور سابق کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو کے بیان پر انھیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا اور اس کی پاداش میں ایک ٹی وی چینل نے انھیں ایک کامیڈی شو سے بھی علیحدہ کر دیا ہے۔

پلوامہ کے علاقے میں ہونے والے شدت پسند حملے کے بعد سدھو نے کہا کہ کیا مٹھی بھر لوگوں کی وجہ سے کسی ملک کو یا کسی ایک شخص کو قصوروار ٹھہرایا جا سکتا ہے؟

میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے اس حملے کو بزدلانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس حملے کے لیے ذمہ دار لوگوں کو سزا ملنی چاہیے، گالیاں دینے سے کچھ نہیں ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے

اوڑی سے پلوامہ حملے تک

کیا پلوامہ حملہ انٹیلیجنس کی ناکامی تھا؟

انہوں نے کہا کہ ’دہشت گردی کا کوئی ملک نہیں ہوتا، شدت پسندوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، کوئی ذات نہیں ہوتی۔‘

بدھ کے روز پلوامہ کے لیتھ پورہ میں شدت پسندوں نے سی آر پی ایف کے جوانوں کے ایک قافلے کو ہدف بنایا۔ اس حملے میں بارود سے بھری ایک گاڑی کو سیکیورٹی اہلکاروں کی گاڑی سے ٹکرا دیا گیا جس سے خوفناک دھماکہ ہوا۔ حملے میں سی آر پی ایف کے کم از کم 46 جوان ہلاک ہو گئے۔

انڈین حکومت اس حملے کے لیے پاکستان کو ذمہ دار قرار دے رہی ہے۔ حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم جیش محمد نے قبول کی ہے۔

یہ بھی پڑھہے

’صرف امن ہی انصاف ہے۔۔۔‘

پلوامہ حملہ: ’ہمیں ایک بار پھر سرجیکل سٹرائیک چاہیے‘

سدھو کے بیان کے بعد سوشل میڈیا پر ان کی ٹرولنگ یعنی لوگ ان کے پیچھے پڑ گئے ہیں۔ لوگ ان کے بیان کی مخالفت کرنے کے علاوہ ٹی وی چینل سونی سے سدھو کو ان کے شو سے نکالے جانے کا مطالبہ بھی کرنے لگے۔

یاد رہے کہ گزشتہ چند برسوں سے نوجوت سنگھ سدھو ٹی وی شو کامیڈی نائٹز ود کپل میں بطور مہمان شامل ہوتے ہیں۔

ٹوئٹر پر میورک نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’سونی ٹی وی سدھو کو اپنے شو سے ہٹاؤ ورنہ ہم تمہیں بلاک کر دیں گے۔‘

گیریش ایس نے ٹوئیٹ کیا کہ ’نوجوت سنگھ سدھو کو شو سے ہٹائے جانے تک کسی کو کپل شرما کا شو نہیں دیکھنا چاہیے۔‘

سوشل میڈیا صارف خوشبو شرما نے لکھا ہے کہ ’سدھو یہ نہیں مانتے کہ پاکستان ایک دہشت گرد ملک ہے۔‘

اس معاملے میں سیاسی پارٹیاں بھی سوشل میڈیا پر سامنے آئیں۔ بی جے پی کے ممبئی کے ترجمان سریش نکھوا نے کپل شرما کے شو کے سپانسر سویگی تک کا بائیکاٹ کرنے کی بات کہی۔

صارف جگدیش سنگھ نے لکھا ہے کہ ’سدھو ملک دشمن ہیں اور ان کی ہر طرح مذمت کی جانی چاہیے۔‘

اکشے بی شاہ نے ٹوئیٹ کیا ہے کہ ’اگر آپ سچے حب الوطن ہیں تو سدھو کی وجہ سے کپل شرما شو کا بائیکاٹ کریں۔‘

اشوک ملہوترا نے ٹوئیٹ کیا ہے کہ ’سدھو کی طرف سے اپنے دوست عمران خان کی پشت پناہی میں ہونے والے اب تک کے سب سے زیادہ قابل مذمت حملے پر کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔ میں آپ سب سے اپیل کرتا ہوں کہ جب تک سدھو کو کپل شرما شو سے نہ ہٹایا جائے، شو کا بائیکاٹ کر دیجیے۔‘

پرینکا نے کانگریس کے رہنما راہل گاندھی سے سوال کیا ہے کہ ’کیا آپ اپنی پارٹی کے رہنما کے اس بیان سے متفق ہیں؟ کیا پلوامہ حملے پر کانگرین کا موقف بھی یہی ہے؟ کیا کوئی صحافی راہل گاندھی سے یہ پوچھے گا؟‘

پلوامہ حملے پر سخت ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے انڈیا نے پاکستان کے سفیر کو وزارت خارجہ کے دفتر میں بلا کر احتجاج ریکار کرایا ہے۔

اس کے علاوہ وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا تھا کہ جنہوں نے اس حملے کو انجام دیا ہے انہیں اس کی ’بھاری قیمت‘ ادا کرنی پڑے گی۔

اسی بارے میں