سری لنکا کی حکومت کو منشیات سے لڑنے کے لیے ’اخلاقی جلاد‘ کی تلاش

سری لنکا تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سری لنکا میں تقریباً 1300 مجرم موت کی سزا کاٹ رہے ہیں

ڈرگ سمگلنگ پر کریک ڈاؤن کرنے کے لیے سری لنکا نے دو ’مضبوط اخلاقی کردار‘ کے حامل جلاد کی تلاش شروع کر دی ہے۔

ریاستی روزنامے میں 203 امریکی ڈالرز ماہانہ تنخواہ کی اس ملازمت کا اشتہار دیا گیا۔

سری لنکا کے آئین میں سزائے موت کا قانون موجود ہے مگر 1976 سے کسی مجرم کو پھانسی نہیں دی گئی۔

پانچ سال پہلے ملک کے آخری جلاد کے مستعفی ہونے کے بعد سے اب تک حکام مستقل ملازمت پر جلاد ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے:

منشیات میں ڈوبے سرحدی دیہات

فضائی میزبانوں کے ذریعے منشیات کی سمگلنگ

کویت میں منشیات سمگل کرنے والا کبوتر پکڑا گیا

یہ نوکری 18 سے 45 سال کے ایسے سری لنکن مردوں کے لیے ہے جو ’ذہنی طاقت‘ رکھتے ہیں۔

آخری جلاد 2014 میں پہلی بار پھانسی گھاٹ دیکھنے کے بعد صدمے کے باعث مستعفی ہوا تھا۔ اس واقعے کے بعد ایک اور جلاد کو ملازمت پر رکھا گیا مگر وہ کبھی کام پر ہی نہیں آیا۔

سری لنکا میں تقریباً 1300 مجرم موت کی سزا کاٹ رہے ہیں جن میں سے 48 مجرمان نے منشیات سے جُڑے جرائم کا ارتکاب کیا۔

ملک کا آئین شہریوں کو ’کسی بھی قانونی پیشے، تجارت، کاروبار یا انٹرپرائز‘ میں شامل ہونے کی آزادی کو تسلیم کرتا ہے۔

سنہ 2004 سے ریپ، منشیات سمگلنگ اور قتل جیسے جرائم پر سزائے موت دی جا سکتی ہے لیکن اب تک ان جرائم میں زیادہ سے زیادہ سزا ’عمر قید‘ ہی دی گئی ہے۔

Image caption یہ نوکری 18 سے 45 سال کے ایسے سری لنکن مردوں کے لیے ہے جو 'ذہنی طاقت' رکھتے ہیں

7 فروری کو صدر میتھری پالا سری سینا نے پارلیمان کو بتایا کہ ’اگلے دو ماہ میں‘ وہ منشیات سے جُڑے جرائم میں ملوث افراد کو موت کی سزا دینے کا حکم سنائیں گے۔

جنوری میں فلپائن کے دورے کے دوران صدر سری سینا نے فلپائنی صدر روڈریگو ڈوٹرٹے کی منشیات کے خلاف مہم کی تعریف کی اور اسے ’دنیا کے لیے مثال‘قرار دیا تھا۔

فلپائنی پولیس کے مطابق سنہ 2016 میں صدر ڈوٹرٹے کی منشیات کے خلاف مہم کے بعد سے اب تک 5،000 سے زائد منشیات کے ڈیلر یا منشیات استعمال کرنے والے افراد کو مار دیا گیا ہے۔

جولائی 2018 میں صدر سری سینا نے اعلان کیا تھا کہ ملک میں منشیات سے متعلقہ جرائم میں بڑھتی گرفتاریوں کے باعث منشیات سے جُڑے جرائم کے مرتکب افراد کو سزائے موت دینے کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جائے گا۔

سری لنکا کے وزیراعظم رانل وِکریماسنگھے نے اس فیصلے پر تنقید کی ہے۔

سری لنکا کے نیشنل ڈینجریس ڈرگز کنٹرول بورڈ کے مطابق سنہ2013 سے منشیات سے جُڑے جرائم میں گرفتاریوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

چرس اور ہیروئن سری لنکا میں سب سے زیادہ استعمال کی جانے والی منشیات ہیں۔ حکام نے خدشے کا اظہار کیا ہے کہ ایشیا میں منشیات ڈیلرز کے لیے جزیرہ نما ملک اہم گزرگاہ بن سکتی ہے۔

پچھلے سال کے وسط سے اب تک پولیس نے منشیات کی سمگلنگ میں ملوث 50 افراد کو گرفتار کیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں