انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کی فضا

بی جے پی کو جو چاہیے تھا اسے مل گیا؟

انڈیا میں عام انتخابات سے صرف چند ہفتوں قبل قومی سلامتی سے متعلق واقعات بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیے ایک اہم انتخابی نعرہ بن گئے ہیں۔

فلائٹ لیفٹینٹ نچِکیتا کیسے واپس گئے تھے؟

فلائیٹ لیفٹینٹ کمبامپتی نچِکیتا کا مگ-29 جہاز 27 مئی 1999 کو کارگل کی لڑائی کے دوران مار گرایا گیا۔ انھیں سکردو کے قریب سے حراست میں لیا گیا تھا اور وہ 3 جون تک پاکستان کی تحویل میں رہے۔

پاکستان کے ’پسندیدہ ترین ملک‘ نہ رہنے سے نقصان کس کا؟

انڈیا کی جانب سے پاکستان سے تجارت کے لیے پسندیدہ ترین ملک کا رتبہ واپس لیے جانے کے فیصلے پر ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا تعلق معیشت سے کم اور سرحد پار پیغام پہنچانے سے زیادہ ہے۔

پلوامہ حملے کا سیاسی فائدہ کس کو ہوگا؟

14 فروری کو پلوامہ میں انڈین نیم فوجی دستے سی آر پی ایف پر شدت پسندوں کے حملے کے بعد انڈیا میں پاکستان مخالف جذبات عروج پر ہیں۔

ایران، انڈیا میں حملے: کیا پاکستان تیار ہے؟

ایران میں ہونے والے حالیہ دہشت گرد حملے اور اس کے پاکستان پر داغے گئے الزام کے بعد بھارت میں اب یہ آوازیں اُٹھ رہی ہیں کہ کیوں نہ ایران کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف کارروائی کی جائے: عاصمہ شیرازی کا کالم۔

پلوامہ پر چین کی خاموشی کا کیا مطلب ہے؟

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے پلوامہ میں ہونے والے حملے پر متعدد ممالک نے خاموشی اختیار کی ہوئی ہے جس میں چین بھی شامل ہے۔ اس خاموشی سے کیا سمجھا جائے؟

مائی نیم از انور اینڈ آئی ایم ناٹ اے ٹیررسٹ

پلوامہ میں انڈین ریزرو فورس کے کانوائے پر خودکش حملہ ہوا اور کم وبیش 50 فوجی مارے گئے۔ ہمیں فوجیوں کے مرنے پر ہمیشہ بہت دکھ ہوتا ہے ۔ چاہے سرحد کے ادھر مریں یا ادھر۔

’ہمیں ایک بار پھر سرجیکل سٹرائیک چاہیے‘

پلوامہ حملے میں 40 سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت پر سوشل میڈیا پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے اور انڈین سوشل میڈیا صارفین نے نریندر مودی سے اس حملے کا بدلہ لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

اوڑی سے پلوامہ حملے تک

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں سکیورٹی فورسز پر حملے کے بعد کانگرس نے دعویٰ کیا ہے کہ مودی حکومت کے دوران اب تک 18 بڑے حملے ہو چکے ہیں۔