انڈیا: پلوامہ حملے کا سیاسی فائدہ کس کو ہو گا؟

کوئی بھی عسکری فیصلہ مودی حکومت کے لیے خطرے سے بھرا ہوا ہوگا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کوئی بھی عسکری فیصلہ مودی حکومت کے لیے خطرے سے بھرا ہوا ہوگا

14 فروری کو پلوامہ میں انڈین نیم فوجی دستے سی آر پی ایف پر شدت پسندوں کے حملے کے بعد انڈیا میں پاکستان مخالف جذبات عروج پر ہیں۔

پورا انڈیا صدمے میں ہے اور سیاسی حلقوں میں پاکستان کو سبق سکھانے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

حکمران پارٹی سے تعلق رکھنے والے سیاستدانوں کے بیانات بالکل ویسے ہی ہیں جیسے کسی بڑے شدت پسند حملے کے بعد سننے میں آتے رہے ہیں۔

انڈیا میں بہنے والے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لے کر پاکستان کو سبق سکھانے کی قسمیں کھائی جا رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

حملے کی صورت میں جوابی حملہ کریں گے: عمران خان

تحمل رکھیں، جواب دیا جائے گا: نریندر مودی

پلوامہ حملہ: ’ہمیں ایک بار پھر سرجیکل سٹرائیک چاہیے‘

پاکستان انڈیا کو تباہ کرنے کا خواب چھوڑ دے: مودی

بات چیت کا وقت ختم،اب کارروائی کا وقت ہے: مودی

وہیں حزب اختلاف کے قائدین ملک کے جذبات اور سیاسی اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے حکومت کے ساتھ کھڑے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ آل پارٹی میٹنگ میں تمام جماعتوں نے اتفاق رائے سے حکومت کو یہ چھوٹ دی کہ پاکستان کو سبق سکھانے کے لیے جو بھی قدم اٹھائیں جائیں گے انھیں حزب اختلاف کی حمایت حاصل ہوگی۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ بہیمانہ حملہ ایک ایسے وقت ہوا ہے جب پارلیمانی انتخابات میں محض دو مہینے باقی ہیں۔

اوڑی اور پٹھان کوٹ کے بعد پلوامہ میں حملہ

انڈیا کی موجودہ حکومت کے دور میں پہلا بڑا حملہ 2 جنوری 2016 کو پٹھان کوٹ میں اور دوسرا بڑا حملہ 18 ستمبر 2016 کو اوڑی میں ہوا۔

اوڑی فوجی کیمپ پر شدت پسند حملے میں 19 فوجی ہلاک ہوئے تھے اور 11 دن کے بعد انڈین فوج نے مبینہ طور پر لائن آف کنٹرول میں داخل ہو کر پاکستانی شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو تباہ کیا تھا جسے سرجیکل سٹرائیک کا نام دیا گیا اور مودی حکومت کے بقول پاکستان کو سبق سکھانے کا وعدہ نبھایا گیا۔

اس حملے کے بعد ملک کے سیاسی حلقوں میں بہت بڑا تنازع پیدا ہوگیا۔ مودی حکومت نے سرجیکل سٹرائیک کا سہرا اپنے سر لیا اور اس سے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی۔

اوڑی فوجی کیمپ پر حملے کے لیے جیش محمد کو ذمےدار ٹھہرایا گیا تھا اور اس بار پلومامہ حملے کے فوراً بعد جیش نے اس کی ذمےداری لے کر ٹھوس ثبوت حاصل کرنے کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی۔

پلوامہ حملے کے بعد جلد ہی انڈیا میں انتخابات ہونے والے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ پاکستان سے بدلہ لینے کے بیانات کے بعد مودی حکومت کس قسم کے اقدامات اٹھائے گی؟

پاکستان مخالف جذبات ابھارنے کا فائدہ کس کو ہو گا؟

انڈیا میں حزب اختلاف فکر مند ہے کہ 18 شہروں میں فوجیوں کی لاشیں واپس جانے کے نتیجے میں پاکستان مخالف جذبات کا سیاسی فائدہ کسے ہو گا۔

مودی حکومت کا پاکستان کے بارے میں فیصلہ آئندہ آنے والے انتخابات کے پس منظر میں ملک کی سیاست کا رخ طے کرے گا۔

کوئی بھی عسکری فیصلہ مودی حکومت کے لیے خطرے سے بھرا ہوا ہوگا۔ اس لیے حکومت نے یہ ذمہ داری فوجی قیادت پر ڈال دی ہے جنہیں پتہ ہے ایسے وقت میں جب وہ اسلحے کی شدید کمی کے بحران سے گزر رہے ہیں پاکستان سے لڑائی مول لینے کی کیا قیمت ہو سکتی ہے۔

پاکستان کی موجودہ حالت بھی ایسی نہیں ہے کہ وہ انڈیا سے ٹکراؤ کا راستہ اختیار کرے۔ اس لیے اگر کسی طرح کی سرجیکل سٹرائک کا قدم اٹھايا گیا اور پاکسان کی فوج ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھی رہی تو اس کا سیاسی فائدہ بی جے پی حکومت کو آئندہ پارلیمانی انتخابات میں ضرور مل سکتا ہے۔

2016 کے سرجیکل سٹرائیک کا سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی گئی تھی۔ اب پارلیمانی انتخابات کے دوران پاکستان کا ہوا کھڑا کرنے کا امکان کافی قوی ہوتا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں