ڈھاکہ کے کیمیائی گودام میں آتشزدگی، ہلاک ہونے والوں کی تعداد 78 تک پہنچ گئی

ڈھاکہ میں آگ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بدھ کی شام ایک ایسی رہائشی عمارت میں آگ بھڑک اٹھی جسے کیمیائی گودام کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا تھا

بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کے قدیم علاقے میں لگنے والی آگ سے کم از کم 78 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

بنگلہ دیش کی پولیس کے مطابق یہ آگ بدھ کی رات چوک بازار کے علاقے میں واقع ایک رہائشی عمارت میں لگی جس کی ایک منزل کو آتش گیر کیمیائی مادوں کے گودام کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔

٭ آگ لگنے کی صورت میں بچاؤ کے حوالے سے یہ تحریر ضرور پڑھیے

آگ لگ جائے تو کیا کریں؟

بنگلہ دیش، فیکٹری میں آگ لگنے سے 15 افراد ہلاک

ڈھاکہ کی فیکٹری میں آتشزدگی سے 13 افراد ہلاک

مقامی میڈیا کے مطابق آگ تیزی سے پھیلی اور اس نے کئی قریبی عمارتوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

چوک بازار کے علاقے میں انتہائی تنگ گلیاں ہیں اور رہائشی عمارتیں ایک دوسرے سے متصل ہیں۔

خیال ہے کہ مرنے والوں میں ایک بارات میں آنے والے افراد بھی شامل ہیں۔

بنگلہ دیش فائر سروس کے سربراہ علی احمد نے بی بی سی بنگالی کو بتایا کہ اندیشہ ہے کہ آگ مختلف کیمیکلز کو ذخیرہ کرنے والی عمارت میں لگی جس نے تین دیگر عمارتوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption فائر فائٹرز نے آگ پر قابو پا لیا ہے

آگ بجھانے والے عملے کو تنگ علاقے اور پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے اپنے کام میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا

حکام کے مطابق آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ لوگوں کے لیے بچ نکلنا ناممکن تھا۔

ڈھاکہ میٹروپولیٹن پولیس کے ڈپٹی کمشنر ابراہیم خان کے مطابق متاثرین میں اس عمارت سے باہر موجود لوگ بھی شامل ہیں۔

اطلاعات کے مطابق بہت سے لوگ ان عمارتوں میں پھنس کر رہ گئے تھے۔

ڈھاکہ میں ہولناک آتشزدگی کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ سنہ 2010 میں ضلع نمتالی میں ہونے والی آتشزدگی میں 124 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

آتشزدگی کے اس واقعے میں بھی غیر قانونی کیمیائی گودام کی موجودگی کی وجہ سے صورتحال بد تر ہوئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

اس واقعے کے بعد ایک کمیٹی نے رہائشی علاقوں سے کیمیائی گوداموں کو ہٹانے کی تجویز پیش کی تھی لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنے سال گزر جانے کے بعد بھی اس سلسلے میں کوئی اہم اقدامات نہیں کیے گئے۔

سنہ 2013 میں ڈھاکہ کے رانا پلازہ میں گارمنٹس فیکٹری کی عمارت گرنے سے تقریباً 1100 افراد ہلاک جبکہ ہزاورں زخمی ہو گئے تھے۔

چوک بازار کا علاقہ اہم کیوں ہے؟

چوک بازار کا شمار ڈھاکہ کے اہم ترین علاقوں میں ہوتا ہے، یہ ایک تاریخی ضلع ہے جسے 300 سال قبل مغلیہ شاہی دور میں قائم کیا گیا تھا۔

یہ علاقہ کیمیکل کے کاروبار اور پرفیوم فیکٹریوں کا مرکز ہے تاہم سنہ 2010 میں لگنے والی ایک مہلک آگ کے بعد حکام کی جانب سے یہاں کیمیائی اشیا کو ذخیرہ کرنے پر پابندی لگا دی گئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سنہ 2010 میں چک بازار میں کیمیائی اشیا کو ذخیرہ کرنے پر پابندی لگا دی گئی تھی

یہ علاقہ تنگ گلیوں، رکشوں،چھوٹی گاڑیوں اور لوگوں سے بھرا رہتا ہے۔ حتیٰ کہ مسافر بسیں بھی ان گلیوں میں نہیں چل سکتی ہیں۔

ان تنگ راستوں پر لٹکتی بجلی، ٹیلی فون اور انٹرنیٹ کی ہزاروں تاریں چوک بازار کے مقامی لوگوں کے لیے خطرہ ہیں۔

لیکن سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ رہائشی عمارتوں کو کمرشل مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جس میں نچلی منزلوں کو کیمیائی اور گیس سلنڈرز کے گوداموں کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں