انڈیا: گائے کے نام پر ہجومی تشدد میں اضافہ

گائے تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انڈیا میں گائے کے تحفظ کی بات محض ہندوؤں کا ووٹ حاصل کرنے کے ایک نعرہ رہا ہو لیکن یہ گذشتہ سالوں میں مذہبی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں پر ہجومی حملے کا ایک بڑا ذریعہ بن گیا ہے۔

حقوق انسانی کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے امریکہ میں جاری کی گئی اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ گذشتہ پانچ برس میں گائے کے نام پر نفرت اور ہجومی تشدد میں خاصہ اضافہ ہوا ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ ’گئو رکشک‘(گائے کے محافظ) اور دوسرے گروپ جو مسلمانوں، دلتوں اور قبائلیوں کے خلاف نفرت پھیلاتے اور انھیں بدنام کرتے ہیں ان کی تعداد گزرے سالوں میں کافی بڑھ گئی ہے۔

گائے کے نام پر اتنی نفرت کیوں؟

انڈیا میں ہندوؤں کی اکثریت گائے کو مقدس تصور کرتی ہے۔ ملک کی بیشتر ریاستوں میں گائے کے ذبیحے پر پابندی عائد ہے۔ بیلوں کا استعمال بنیادی طور پر کھیتی کے لیے ہوتا ہے اورگائیں لوگ دودھ کے لیے پالتے ہیں۔

انڈیا کی بیشتر ریاستوں میں بکرے، بھینس اورمرغ کا گوشت کھایا جاتا ہے۔ کچھ ریاستوں میں ایک مخصوص عمر کے بعد گائے اور بیل کے ذبیحے کی اجازت تھی لیکن سنہ 2014 میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد کسی بھی عمر کی گائے، بیلوں اور ان کی نسل کے جانورووں کو گوشت کے لیے کاٹنے کو غیر قانونی قرار دیا گیا۔

گئو رکشک اور لٹھ بردار تنظیمیں کون ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سنہ 2014 میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے ساتھ مختلف ریاستوں میں ’گئو رکشک‘ یعنی گائے کے محافظ اور دوسری ہندو تنظیموں کے کارکن جگہ جگہ گروپوں میں نظر آنے لگے۔ ان میں بیشتر کا تعلق حکمراں جماعت بی جے پی سے ہے۔ نظریاتی طور پر وہ سخت گیر ہندوئیت کے علمبردار ہیں۔ یہ نوجوانوں کا گروپ ہے جو اکثر بے روزگار ہوتا ہے۔ یہ مویشی منڈیوں، شاہراہوں اور سڑکوں پر پولیس کی مدد سے ٹرک اور دوسری گاڑیوں کی تلاشی لیتے ہیں اور گائے ہی نہیں اکثر بکرے اور بھینس وغیرہ لے جانے والوں کو بھی زد و کوب کرتے ہیں۔

گئو رکشک اور لٹھ بردار اتنے با اثر کیوں ہیں؟

گئو رکشکوں کو حکمراں جماعت کی پشت پناہی حاصل ہے۔ یہ اپنے مقامی رکن اسمبلی یا رکن پارلیمان اور دوسرے سیاسی رہنماؤں کی حمایت سے اپنی سرگرمیاں انجام دیتے ہیں۔ ان کا تعلق سخت گیر ہندو تنظیموں سے بھی ہے۔ حکمراں جماعت بی جے پی سے تعلق ہونے کے سبب پولیس بھی ان کے خلاف کوئی کارروائی کرنے سے ڈرتی ہے۔

ہجومی تشدد کے واقعات بڑھے ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

حقوق انسانی کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے مئی سنہ 2015 سے دسمبر 2018 تک 44 افراد گائے نام پر ہجومی تشدد کا شکار ہوئے ان میں 36 مسلمان تھے۔ ان واقعات میں گائے لے کر سفر کرنے والوں کو سڑک یا راستے میں روکا جاتا ہے۔ پھر لوگوں کی ایک بھیڑ انھیں یا تو مار مار کر ہلاک کر دیتی ہے یہ نیم مردہ حالت میں انھیں چھوڑ دیتی ہے۔

دہشت پھیلانے کے لیے ہجومی تشدد کی باقاعدہ ویڈیو بنا کر اسے سوشل میڈیا پر پھیلایا باتا ہے۔ پولیس اکثر حملہ آوروں کے ساتھ ساتھ متاثرین کے خلاف گائے کی سمگلنگ اور دوسرے معاملات میں کیس درج کرتی ہے اور ہجومی تشدد کے مرتکبین کے خلاف کاروائی آگے نہیں بڑھ پاتی۔

ہجومبی تشدد کے بیشتر واقعات میں گائے کے تحفظ کے نام پر ٹرانسپورٹروں، تاجروں، ڈیری فارمرز اور عام لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ زیادہ تر واقعات بی جے پی کے اقتدار والی ریاستوں میں رونما ہوئے۔

ہجومی تشدد پر قابو کیسے پایا جائے؟

انڈیا کی سپریم کورٹ نے ہجومی تشدد پر قابو پانے کے لیے سنہ 2017 میں مرکز اور تمام ریاستوں کو کچھ ہدایات جاری کی تھیں۔ ان میں احتیاطی اقدامات کے ساتھ ساتھ سزائیں دینے کے اقدامات کا ذکر تھا۔

ہیومن رائٹس واچ کی جے شری بیوریا کہتی ہیں کہ سنہ 2014 کے بعد ملک میں نفرت کی سر گرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ گروپس مذہبی اقلیتوں کو بدنام کرتے ہیں ان کی تعداد بڑھ گئی ہے۔

جے شری بیوریا کا کہنا ہے کہ چونکہ ان تنظیموں کو سیاسی پشت پناہی حاصل ہے'اس لیے سب سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ سیاسی قیادت یہ پیغام دے کہ ان لٹھ بردار گروپوں کو کسی بھی سیاسی جماعت یا حکومت سے کوئی تحفظ نہیں ملے گا۔ اگر انھوں نے کوئی جرم کیا ہے تو انھیں قانون کا سامنا کرنا ہی ہو گا۔‘

اس رپورٹ میں انڈیا کی حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ قانون کی بالا دستی کے لیے گائے کے نام پر تشدد کا ارتکاب کرنے والی ان تنظیموں کے حملوں کو روکے اور انھیں ان کے جرم کی ‎سزا دے۔

اسی بارے میں