پاکستانی رکن پارلیمان رمیش کمار وانکوانی کی انڈین وزیر خارجہ شسما سوراج سے ملاقات

رمیش کمار واکوانی

،تصویر کا ذریعہTWITTER/RAMESH KUMAR WANKWANI

انڈیا اور پاکستان کے درمیان پلوامہ حملے کے بعد جہاں ایک طرف کشیدگی بڑھ رہی ہے وہیں پاکستان کے ایک ممبر پارلیمان نے انڈیا میں بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج سے ملاقات کی ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے رکن رمیش کمار وانکوانی انڈیا میں جاری کنبھ میلے میں شرکت کے لیے گئے تھے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے رمیش کمار وانکوانی نے بتایا کہ ان کے انڈیا جانے کا اصل مقصد کنبھ کے میلے میں شرکت تھی لیکن یہاں ان کی انڈین وزیر خارجہ سشما سوراج سے بھی ملاقات ہوئی اور جس میں انھوں نے زور دیا کہ پاکستان کی سرزمین کسی بھی حالت میں شدت پسندی کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔

رمیش کمار نے بی بی سی کو بتایا کہ انڈین وزیر خارجہ سے انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’حکومت اور اسٹیبلیشمنٹ الگ الگ نہیں بلکہ آج وہ دونوں ایک ہی پیج پر ہیں۔ اور اس واقعے کی تفتیش کرائی جائے کہ آیا جیشِ محمد واقعی اس حملے میں ملوث ہے یا پھر صرف کریڈٹ لینے کے لیے ایسا کہا ہے‘۔

رمیش کمار نے مزید بتایا کہ ’میں نے شسما سوراج سے کہا کہ اگر جیشِ محمد اس میں ملوث بھی ہے تو بھی میں آپ کو یقنین دلاتا ہوں کہ میں گنگا سے آرہا ہوں اور میں وہاں سے تیرتھ کر کے آرہا ہوں۔میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان کا کوئی بھی ادارہ اس کے پیچھے نہیں ہے۔‘

اپنی ملاقات میں رمیش کمار نے پلوامہ حملے میں پاکستان کے ملوث ہونے کے الزامات کو واضح طور پر مسترد کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہ@RVANKWANI

انھوں نے امرتسر میں موجود بی بی سی کے نمائندے رویندر سنگھ رابن سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’کیا آپ کو لگتا ہے کہ پاکستان انڈیا کے خلاف اپنی سرزمین کو استعمال کرے گا لیکن اگر انڈیا کے پاس پلوامہ حملے میں پاکستان کے ملوث ہونے کے ثبوت موجود ہیں تو وہ پاکستان کے حوالے کیے جائیں تاکہ پاکستان کی حکومت کارروائی کر سکے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اب وقت گزر چکا ہے کہ ایک دوسرے پر الزام لگائے جائیں، بلکہ اب آگے بڑھنے کا وقت ہے۔‘رمیش کمار نے بتایا کہ ان کے دورے کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان دوستی کی فضا پیدا کرنا ہے۔

رمیش کمار وانکوانی کا تعلق پاکستان کے صوبہ سندھ سے ہے اور انھوں نے سشما سوراج کے ساتھ ملاقات کی تصویریں ٹوئٹر پر شئیر کی ہیں۔

رمیش کمار کے مطابق اس ملاقات میں انھوں نے بھارتی وزیر خارجہ کو بتایا کہ جواب در جواب کے اس سلسلے میں کوئی حل نہیں نکل سکتا ہے اور ہمیں کسی وقت مثبت قدم اٹھانا چائیے بلکہ اٹھانا ہو گا۔ خدا بھی دونوں ملکوں کے درمیان دوستی چاہتا ہے اس لیے میں اس مشکل صورتحال میں بھی انڈیا آیا ہوں۔‘

،تصویر کا ذریعہRAVINDER SINGH ROBIN

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

رمیش کمار پاکستان میں ہندو کونسل کے سربراہ بھی ہیں۔ انھوں نے انڈیا کے وزیر مملکت اور سابق آرمی چیف وی کے سنگھ سے بھی ملاقات کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے پورا دن وی کے سنگھ کے ساتھ گزارا۔

رمیش کمار نے کہا کہ چند ہی دنوں میں انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کے حق میں مثبت انداز میں بات کی جائے گی جس سے ان کی کمزوری نظر نہیں آئے گی بلکہ یہ ان کے حق میں ہو گا۔

رمیش کمار نے پاکستان واپسی پر کہا کہ وہ وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کر کے انھیں اپنے دورہ انڈیا کے بارے میں آگاہ کریں گے اور اس کے ساتھ وہاں ان کے ساتھ کس قسم کا برتاؤ کیا گیا،اس بارے میں بھی آگاہ کریں گے۔

14 فروری کو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے پلوامہ میں انڈین نیم فوجی دستے سی آر پی ایف پر حملے میں 40 سے زائد اہلکار ہو گئے تھے۔ اس حملہ کی ذمہ داری کالعدم تنظیم جیش محمد نے قبول کی تھی۔

اس حملے کے بعد دونوں ملکوں میں حالات انتہائی کشیدہ ہو گئے ہیں ۔ انڈیا کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان سے اس حملے کا بدلہ لے گا جبکہ پاکستان کے وزیر اعظم کی جانب سے ان الزامات کی تردید کی گئی ہے۔

اس حملے کے بعد انڈیا نے پاکستان کو دیا گیا 'موسٹ فیورڈ نیشن' (ایم ایف این) یعنی تجارت کے لیے سب سے پسندیدہ ملک کا رتبہ بھی واپس لے لیا ہے۔