امریکہ میں سعودی عرب کی پہلی خاتون سفیر کی تعیناتی، قدامت پسند معاشرے میں ایک مثبت قدم ہے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شہزادی ریما کئی کاروباری عہدوں پر تعینات رہی ہیں۔ وہ ریاض میں موجود معروف برطانوی لگثری ڈپارٹمنٹ سٹور ہاروی نکولس کی سی ای او رہ چکی ہیں۔

سعودی عرب نے شہزادی ریما بنت بندر سلطان کو امریکہ میں سعودی سفیر مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ شہزادی ریما اتنے بڑے عہدے پر فائز ہونے والی پہلی سعودی خاتون ہیں۔

شہزادی ریما، سعودی ولی عہد کے چھوٹے بھائی شہزادہ خالد بن سلمان سے اس عہدے کا چارج لیں گی جنھیں مملکت کے نائب دفاعی وزیر کے طور پر تعینات کیا گیا ہے۔

شہزادی ریما طویل مدت تک امریکہ میں تعینات رہنے والے سابق سفیر بندر بن سلطان ال سعود کی بیٹی ہیں۔ ان کے والد کی تقرری کے دوران انھوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ امریکہ میں ہی گزارا تھا۔

شہزادی ریما نے میوزیم سٹڈیز میں جارج واشنگٹن یونیورسٹی سے بیچلر آف آرٹس کی ڈگری حاصل کی ہے۔ اس دوران انھوں نے پیرس میں اور بعد میں واشنگٹن کی مشہور سیکلر آرٹ گیلیری میں انٹرنشپ بھی کی۔

سنہ 2005 میں ریاض واپس آنے کے بعد شہزادی ریما نے پبلک اور پرائیویٹ دونوں سیکٹرز میں کام کیا ہے۔

شہزادی ریما کئی کاروباری عہدوں پر تعینات رہی ہیں۔ وہ ریاض میں موجود معروف برطانوی لگثری ڈپارٹمنٹل سٹور ہاروی نکولس کی سی ای او بھی رہ چکی ہیں۔

اس دوران انھوں نے سعودی وزارتِ محنت و افرادی قوت کے ساتھ کام کرتے ہوئے سعودی خواتین کی ریٹیل سیکٹر میں شمولیت اور انھیں کام دینے کے مواقعوں اور عمل کو بہتر بنایا۔ ساتھ ہی انھوں نے خواتین ملازمین کی سہولت کے لیے کام کرنے کی جگہ پر ملک کی پہلی نرسری بھی بنائی جہاں خواتین کام کے دوران اپنے بچوں کو چھوڑ سکتی ہیں۔

اس کے علاوہ انھوں نے خواتین ملازمین کو' ٹرانسپورٹ الاؤنس' دینے کے پروگرام کا بھی اعلان کیا، کیونکہ 2011 میں سعودی خواتین پر گاڑی چلانے پر پابندی تھی تو انھیں کام پر آنے کے لیے ٹیکسی کا استعمال کرنا پڑتا تھا۔

ان سب کا مقصد سعودی خواتین کی ملازمتوں اور ریٹیل کے شعبے میں شرکت بڑھانا تھا۔ شہزادی ریما کی یہ سکیمیں کارگر ثابت ہوئیں اور آج سعودی عرب میں ہاروے نکولس کے سٹورز میں درجنوں خواتین کام کر رہی ہیں۔ یہ 2011 کے مقابلے میں ایک بہت بڑی تبدیلی ہے جب وہاں صرف مرد ملازمین کام کرتے تھے۔

ایک ایسا ملک جسے صنفی مساوات کے ریکارڈ کی بنیاد پر اکثر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، شہزادی کو وسیع پیمانے پر خواتین کے حقوق کی وکیل کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شہزادی ریما برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے کے ساتھ۔

پبلک سیکٹر میں کام کرتے ہوئے شہزادی ریما کو سعودی عرب کی جنرل سپورٹس اتھارٹی کے طور پر تعینات کیا گیا جہاں انھوں نے نہ صرف سعودی عرب کے کھیلوں کے شعبے کو بہتر بنانے کے لیے کام کیا بلکہ ان کی توجہ سپورٹس اور ایکسرسائز میں خواتین کی شرکت بڑھانے پر بھی مرکوز رہی ہے۔

وہ 2014 میں امریکی میگزین فوربز کی 'موسٹ پاورفل عرب وومن' یعنی سب سے طاقتور عرب خواتین کی فہرست میں بھی شامل تھیں۔

شہزادی ریما، عوامی سطع پر اس بات پر زور دے چکی ہیں کہ خواتین کی ملازمتوں میں شمولیت کا مقصد 'ایوولیوشن ناٹ ویسٹرنائزیشن' ہے، یعنی کہ خواتین کو بہتری اور آنے والے وقت کے لیے تیار کرنا ہے نہ کہ انھیں مغرب کی طرف راغب کرنا۔ وہ اس بات پر بھی زور دے چکی ہیں کہ سعودی عرب کی نصف آبادی گھر نہیں بیٹھ سکتی۔

قدامت پسند سعودی معاشرے میں شہزادی ریما کی تعیناتی ایک مثبت قدم ہے لیکن انھیں سعودی امریکی تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے ایک بڑے چیلینج کا سامنا ہے اور امریکہ اور سعودی عرب کے مستقبل کا انحصار بھی اب اسی پر ہے۔

اسی بارے میں