جواد ظریف: ایرانی صدر نے وزیرِ خارجہ کا استعفی مسترد کر دیا

محمد جواد ظریف تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption محمد جواد ظریف

ایرانی صدر حسن روحانی نے وزیرِ خارجہ جواد ظریف کے استعفی کو ’قومی مفاد کے خلاف‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

اس اقدام کو اعتدال پسند ظریف کی تائید کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جن کو مغرب کے ساتھ سنہ 2018 کی نیوکلئیر ڈیل کی وجہ سے اندرونی قدامت پسند گروپوں سے مزاحمت کا سامنا ہے۔

امریکہ سے فارغ التحصیل اور قابل سفیر محمد جواد ظریف نے سوموار کے روز اپنے استعفی کا اعلان کیا تھا۔ ان کے ایک ساتھی کے بقول انھوں نے شام کے صدر کے حالیہ دورے کے دوران ان کے ساتھ ہونے والی میٹنگز سے ان کو باہر رکھنے کے ردِعمل کے طور پر دیا۔

تاہم اس کے دو روز بعد وہ نہ صرف صدر روحانی بلکہ اعتدال پسند قانون ساز اراکین اسمبلی، پاسدارانِ انقلاب کے ایک سینئیر کمانڈر اور خاص طور پر رہبرِ اعلی علی خامنائی کی تائید سے واپس آ گئے ہیں۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی اِرنا میں شائع ہونے والے ایک خط کے مطابق ایرانی صدر نے ظریف سے کہا ہے ’رہبرِ اعلی نے آپ کو ایک قابلِ اعتماد، بہادر اور مذہبی شخصیت قرار دیا ہے جو امریکہ کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے سامنے کھڑا ہے۔ میں آپ کے استعفی کو قبول کرنا قومی مفاد کے خلاف سمجھتا ہوں اور اسے مسترد کرتا ہوں۔‘

حکومت میں موجود قدامت پسندوں کی جانب سے ان کو مذاحمت کا سامنا تھا جبکہ اچانک استعفی کی وجہ شام کے صدر بشار الاسد اور ایران کے سینئیر رہنماؤں کی تہران میں ہونے والی حالیہ ملاقاتوں سے انھیں باہر رکھنا بتایا گیا تھا۔

ظریف کافی عرصے سے استعفی دینا چاہتے تھے اور ماضی میں انھوں نے اس کی کافی دفعہ کوشش بھی کی ہے۔ تاہم مختلف وجوہات کی بنا پر ان کو کامیابی نہ ملی۔ وجوہات میں ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ایسا کوئی نہیں جو ان کی جگہ لے سکے۔

ایک اعلی عہدے دار کے مطابق ’یہی وجہ ہے کہ اس بار ظریف نے عوام میں جانے اور مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا۔ درحقیقت یہ مدد کے لیے ایک آواز تھی اور بتانا یہ مقصود تھا کہ ان کے ہاتھ بندھے ہیں۔‘

’ظریف کی جگہ لینے کے قابل کوئی بھی نہیں اور اشرافیہ کو اس کا علم ہے۔‘

ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے استعفے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کی مختلف جماعتوں اور دھڑوں کی آپس کی لڑائی کی وجہ سے ایران کی سفارتکاری 'زہر آلود' ہو رہی ہے۔

ان خیالات کا اظہار جواد ظریف نے ایک اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا جو انھوں نے ٹوئٹر پر اپنے استعفے کے اعلان سے پہلے دیا تھا، تاہم یہ انٹرویو آج (منگل) کو شائع ہوا ہے۔

جواد ظریف کا کہنا تھا کہ وہ دوران حکومت ہونے والی کوتاہیوں پر معافی چاہتے ہیں۔

یاد رہے کہ ایران میں سخت گیر خیالات کے حامی حلقے اس وقت سے جواد ظریف پر مسلسل تنقید کرتے رہے ہیں جب سنہ 2015 میں انھوں نے عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری معاہدے میں اہم کردار ادا کرنا شروع کیا تھا۔

منگل کی صبح صدر حسن روحانی نے ٹیلیویژن پر خطاب بھی کیا جس میں انھوں نے جواد ظریف کے استعفیٰ کا ذکر نہیں کیا، تاہم انھوں نے جواد ظریف کی 'صلاحیتوں' کو سراہا۔

صدر روحانی کا کہنا تھا کہ 'اگر ہماری وزارتِ خارجہ کچھ کر رہی ہے، تو وہ ایسا عوام کی مرضی اور ان کی نمائندگی کرتے ہوئے کر رہی ہے۔ حکومت کا انتخاب عمومی طور پر عوام ہی کرتے ہیں۔'

اس کے علاوہ صدر روحانی نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ شام کے صدر بشارالاسد نے ایرانی وزارت خارجہ کا 'واضح الفاظ' میں شکریہ ادا کیا ہے کہ اس نے شام میں خانہ جنگی کے دوران صدر بشارالاسد کی مدد کی۔

ادھر قومی سلامتی اور امور خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ منگل کو ہی ایرانی ارکان پارلیمان کی اکثریت نے صدر روحانی کو ایک خط میں درخواست کی ہے وہ جواد ظریف کو ان کے عہدے پر کام کرنے دیں۔

وزیر خارجہ جواد ظریف نے عہدے سے استعفے کا اعلان سماجی رابطوں کی ویب سائٹ انسٹا گرام پر جاری کیے گئے ایک پیغام میں کیا تھا۔

انھوں نے اپنے پیغام میں دوران حکومت کی گئی کوتاہیوں پر معافی بھی مانگی۔

'میں اپنے عہدے پر کام جاری نہ رکھنے اور اس دوران کی جانے والی تمام کوتاہیوں اور غلطیوں پر معافی مانگتا ہوں۔'

چار سال قبل ایران اور عالمی ممالک کے درمیان طے پائے جانے والے جوہری معاہدے کی تکمیل میں جواد ظریف کا کردار بہت نمایاں تھا لیکن اس کے بعد نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس معاہدے سے نکل جانے کے اعلان کے بعد اس پر سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔

اس حوالے سے مزید پڑھیے

’امریکہ نے ایران کے خلاف نفسیاتی جنگ شروع کی ہے‘

’جوہری معاہدے کے خلاف اقدام کا منہ توڑ جواب دیں گے‘

'امریکہ دھمکیاں دینا بند کرے، ایران ڈرنے والا نہیں'

جواد ظریف کے استعفی کے اعلان کی خبر کی ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے آئی آر این اے نے بھی تصدیق کی ہے۔

امریکہ سے بین الاقوامی قوانین میں ڈاکٹریٹ حاصل کرنے والے 59 سالہ جواد ظریف نے ماضی میں اقوام متحدہ میں ایران کی نمائندگی کی تھی اور اس کے بعد 2013 میں انھوں نے صدر حسن روحانی کے منتخب ہونے کے بعد وزیر خارجہ کا عہدہ سنبھالا تھا۔

استعفی کیوں دیا؟

یہ فوری طور پر واضح نہیں تھا کہ جواد ظریف کو استعفی دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔

انسٹا گرام پر جاری کیے گئے پیغام میں انھوں اپنے ہم وطنوں کا شکریہ ادا کیا لیکن کوئی وجہ نہیں بتائی کہ وہ وزارت کیوں چھوڑ رہے ہیں۔

ایران میں دیگر کئی سماجی رابطوں کی ویب سائٹ تو حکومتی پابندیوں کا شکار ہیں لیکن انسٹا گرام اس پابندی سے مستشنیٰ ہے۔

اس بارے میں یقین سے نہیں کہا جا سکتا ہے کہ صدر حسن روحانی اپنے وزیر خارجہ کا استعفی قبول کریں گے یا نہیں اور صدر کے چیف آف سٹاف نے بھی ان خبروں کی تردید کی ہے کہ استعفی منظور کر لیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکہ کی جانب سے جوہری معاہدے سے نکل جانے کے باعث حالیہ کچھ عرصے میں جواد ظریف پر ملک میں مخالفین کی جانب سے شدید دباؤ تھا

واضح رہے کہ پیر کو شامی صدر بشار الاسد نے ایران کے مرکزی رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای سے تہران میں ملاقات کی تھی لیکن مبصرین نے اس ملاقات میں جواد ظریف کی غیر موجودگی کو غور طلب قرار دیا۔

استعفی کے اعلان پر رد عمل

امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو نے ایرانی وزیر خارجہ کے اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے ٹویٹ کی کہ یہ دیکھنا ہوگا کہ یہ استعفی قبول ہوتا ہے یا نہیں۔

'جواد ظریف اور حسن روحانی کرپٹ مذہبی مافیا کے کارندے ہیں اور ہمیں علم ہے کہ سارے فیصلے آیت اللہ خامنہ ای کے ہوتے ہیں۔ ہماری پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔ ایرانی حکومت کو رویہ درست رکھنا ہوگا اور اپنے عوام کا احترام کرنا ہوگا۔'

صحافی نگار مرتضوی نے جواد ظریف کی استعفی کی خبر پر ٹویٹ میں کہا کہ تہران، واشنگٹن ، یروشلم اور ریاض میں ان کے مخالفین بہت خوش ہوں گے۔

امریکی جریدے وال سٹریٹ جرنل سے منسلک صحافی فرناز فصیحی نے ٹویٹ میں تبصرہ کیا کہ جواد ظریف کا استعفی ظاہر کرتا ہے کہ ان کی اور صدر روحانی کی طاقت اتنی موثر نہیں ہے اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ پاسداران انقلاب کی طاقت اور اثر بڑھتا جا رہا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں