مودی کا اپوزیشن سے سوال: کیا وہ دہشت گردوں کے ساتھ ہیں؟

انڈیا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مودی نے حزب اختلاف سے سوال کیا ہے کہ وہ مسلح افواج کی حمایت کرتی ہیں یا وہ ان پر شک کرتی ہیں

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے حزب اختلاف کی جماعتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے بیانات سے پاکستان کی مدد کر رہی ہیں۔

انھوں نے ان جماعتوں سے جاننا چاہا ہے کہ وہ ملک کے ساتھ ہیں یا ان طاقتوں کے ساتھ جو دہشت گردی کو ہوا دے رہی ہیں۔

جنوبی ریاست تمل ناڈو میں ایک سیاسی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے اپوزیشن پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ پورا ملک سکیورٹی فورسز کی حمایت میں کھڑا ہے 'لیکن کچھ سیاسی جماعتیں دہشت گردی کے خلاف ہماری لڑائی کے بارے میں شک کر رہی ہیں۔‘

نامہ نگار شکیل اختر کے مطابق انھوں نے کہا کہ یہ وہی لوگ ہیں جن کے بیانات سے پاکستان کو مدد مل رہی ہے اور انڈیا کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ انھوں نے کہا ان کے بیانات کے حوالے پاکستان کی پارلیمنٹ اور ریڈیو پر دیے جا رہے ہیں۔

اسی بارے میں

اس بار تو لگتا ہے کہ بال بال بچ گئے!

’الیکشن کے لیے انڈیا کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا‘

کیجروال آئی ایس آئی کے ایجنٹ ہیں، منوج تیواری

نریندر مودی کی مسلح افواج کے سربراہان سے ملاقات

مودی نے حزب اختلاف سے سوال کیا ہے کہ وہ مسلح افواج کی حمایت کرتی ہیں یا وہ ان پر شک کرتی ہیں۔

انھوں نے کہا 'انھیں اس کی وضاحت کرنی چاہیے کہ وہ مسلح افواج کے ساتھ ہیں یا ان طاقتوں ک حمایت کرتے ہیں جو ہماری سرزمین پر پر دہشت گردی کو ہوا دے رہی ہیں۔'

انھوں نے حزب اختلاف کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے سیاسی مفاد کے لیے انڈیا کو کمزور نہ کریں۔ '

’دفاع اور قومی سلامتی کے معاملے میں ہم پہلے انڈین ہیں، صرف انڈین، آپ کی سیاست انتظار کر سکتی ہے اس وقت ملک کی سلامتی داؤ پر ہے۔'

مودی کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب پاکستان نے اپنی گرفت میں آئے ایک انڈین پائلٹ کو انڈیا کے حوالے کر دیا ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان زبردست کشیدگی میں اس وقت ایک ٹھہراؤ سا ہے۔

اس دوران ملک کے چیف الیکشن کمشنر سنیل اروڑہ نے کہا ہے کہ پارلیمانی انتخابات 'وقت پر' ہوں گے۔

وقت پر انتخابات ہونے کی صورت میں آئندہ ہفتے انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کیے جانے کی توقع ہے۔ نئی پارلیمنٹ میں کے اواخر تک وجود میں آنی ہے۔

اسی بارے میں