بازی عمران خان نے جیتی یا نریندر مودی نے؟

عمران خان تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ عمران خان نے اپنے ملک اور کچھ انڈینز کی وجہ سے ادراک کی جنگ جیت لی ہے۔

پاکستان کی طرف سے گرفتار کیے گئے انڈین پائلٹ کی رہائی کے بعد دونوں جوہری قوتوں کے مابین کشیدگی میں کمی متوقع ہے۔ مگر اس بحران میں جیت کس کی ہوئی؟

جمعرات کی دوپہر پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے پارلیمان میں اعلان کیا کہ گرفتار کیے گئے انڈین پائلٹ کو امن کے پیغام کے طور پر رہا کیا جائے گا۔

دہلی میں انڈین وزیر اعظم نریندر مودی سائنسدانوں کی ایک میٹنگ سے خطاب کر رہے تھے۔ عمران خان کے بیان کا جواب مودی نے ایک طنز بھری مسکراہٹ سے دیا اور کہا ’پائلٹ پراجیکٹ مکمل ہو گیا ہے‘ اور ’اب ہمیں اسے حقیقت بنانا ہوگا‘۔ مودی کے حامیوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی لیکن باقی لوگوں کو مودی کی بات گھمنڈ سے لیس اور بد مزہ لگی۔

یہ بھی پڑھیے:

انڈین پائلٹ ابھینندن کو بھارتی حکام کے حوالے کر دیا گیا

انڈیا، پاکستان 2001 میں جنگ کے دہانے سے کیسے واپس آئے؟

انڈیا کو پاکستانی فضائیہ کے بارے میں کیا جاننا ضروری ہے؟

منگل کو انڈین جنگی طیاروں کی پاکستان میں شدت پسندوں کے تربیتی کیمپ پر مبینہ حملے کے بعد مودی نے انتخاباتی مہم کی ریلی سے خطاب کیا۔ انڈیا میں ایک ماہ سے بھی کم وقت میں فیصلہ کُن انتخابات ہونے والے ہیں۔ بے باک انداز میں ہاتھ ہلاتے ہوئے انھوں نے لوگوں کو بتایا ’میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ ملک محفوظ ہاتھوں میں ہے۔‘

24 گھنٹے سے قبل پاکستان نے جوابی حملہ کیا اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں انڈین جنگی طیارے کو مار گرایا اور پھر پائلٹ ابھینندن ورتھمان کو پکڑ لیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR
Image caption پاکستان نے اپنے زیر انتظام کشمیر میں انڈین جنگی طیارے کو مار گرا کر پائلٹ ابھینندن ورتھمان کو گرفتارکر لیا۔

جب دونوں فریقین پر کشیدگی کم کرنے کا دباؤ تھا تو وزیر اعظم عمران خان نے پائلٹ کی رہائی کی پیشکش کی۔ سابق انڈین سفیر اور سٹریٹیجک امور کے ماہر کے سی سنگھ کا کہنا ہے کہ مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور انڈین حکومت میں بیٹھے عقاب ’عمران خان کی سفارتی ریورس سوئنگ کی وجہ سے تنہا ہو جائیں گے‘۔

سکیورٹی بحران

2014 میں حکومت میں آنے کے بعد سے مودی نے بیانیے پر سخت گرفت رکھی۔ وسیع پیمانے پر خوش آمد کرنے والا مقامی میڈیا وفاداری سے مودی کے مضبوط قوم پرست خیالات کو پھیلاتا ہے۔ بہت سے لوگوں نے سوال کیا کہ میڈیا سے بات کرنے کے لیے مودی نے اپنے سفیروں اور فوج کو کیوں چُنا اور عوام سے خود بات کیوں نہیں کی، جب ملک اتنے نازک حالات سے گزر رہا تھا اور جوہری طاقت کے حامل پاکستان کے ساتھ جنگ کی افواہیں گردش کر رہی تھیں۔

انڈیا کی مرکزی حزبِ اختلاف کی جماعتیں مودی کے اس فیصلے سے ناخوش تھیں۔ 21 پارٹیوں نے انتخابات کی میٹنگ اور سیاسی تقریبات میں شرکت کرنے اور مودی کے دورِ حکومت میں ملک کے سب سے بڑے سکیورٹی بحران کے دوران موبائل ایپ لانچ کرنے کی وجہ سے اُن پر تنقید کی۔

بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ پاکستان نے فوری اور بے باک جوابی حملے سے انڈین جنگی طیارہ گرا کر اور پائلٹ کو گرفتار کر کے مودی کو حیرت زدہ کر دیا۔

اگلے دو دن عمران خان نے کشیدگی میں کمی لانے کی پیشکش کی، امن کی بات کی اور پائلٹ کی رہائی کا اعلان کیا۔ کے سی سنگھ کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے ’باوقار اعتدال پسندی اور بات چیت کے ذریعے سے اختلافات حل کرنے کی آمادگی‘ ظاہر کی اور انڈین پائلٹ کو واپس بھیجنے کے اپنے فیصلے سے سب کو حیران کر دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’اب تک پاکستان نے یہ ظاہر کیا ہے کہ وہ انڈیا کا مقابلہ کر سکتا ہے‘۔

عمران خان نے عوام سے خطاب کیا اور فوجی حکام نے میڈیا کو باقاعدگی سے اپ ڈیٹ کیا۔ انڈیا میں بہت سے تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ انڈیا کو مشکل حالات میں نہ ڈال کر اور کشیدگی ختم کرنے کی راہ چھوڑ کر عمران خان ایک سمجھدار رہنما کے طور پر سامنے آئے۔

حالات مودی کے ہاتھ سے باہر نظر آئے۔ مصنف اور تاریخ دان شری ناتھ راگھاون کا کہنا ہے ’جس بھی طرح سے گُھما کر دیکھ لیں، انڈیا پاکستان کے حملے سے حیرت زدہ رہ گیا۔‘

ذرا اس زاویے پر بھی لمحے بھر کو غور کریں۔ 14 فروری کو پلوامہ حملے میں انڈین فورسز کے 40 فوجی ہلاک ہو گئے۔ اس کے نتیجے میں انڈیا کی طرف سے25 اور 26 کی درمیانی شب آدھی رات کو جوابی حملہ کیا گیا۔ پاکستان کا جواب فوری اور دلیرانہ تھا اور اس نے اگلے روز دن کی روشنی میں بھارت پر حملہ کیا۔

’بدلہ حکمتِ عملی نہیں ہو سکتا‘

پائلٹ کی گرفتاری کا مطلب تھا کہ انڈیا کے لیے گذشتہ صبح کے حوصلہ افزا حالات اور مودی اور ان کی حکومت کی توقعات اب پائلٹ کو گھر لانے پر مرکوز ہو گئیں۔ انڈین حکام کی طرف سے بریفنگ پاکستان کی طرف سے حملہ کرنے کے 30 گھنٹوں کے بعد دی گئی۔ مودی اور ان کی حکومت کے پاس بیانیہ کنٹرول میں رکھنے کی زیادہ گنجائش نہیں تھی۔

جارحانہ انداز میں بیانیے کو کنٹرول کرنے کی کوشش سے نقصان ہو سکتا ہے۔ مودی وہ پہلے وزیراعظم نہیں ہیں جن کے دورِ حکومت میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد گروہ کی وجہ سے سکیورٹی حالات خراب ہوئے ہیں۔ سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی اور منموہن سنگھ بھی سرحد کے پار سے اس قسم کے حالات کا سامنا کر چکے ہیں اور ان کی جوابی حملہ کرنے کی صلاحیتیں بھی ایسی ہی تھیں لیکن انھوں نے کشیدگی کم کرنے کے لیے منصوبہ بندی کر کے فیصلہ کیا۔ راگھاون کہتے ہیں ’بدلہ ایک سٹریٹجک مقصد نہیں ہو سکتا۔ جذبات کی بنیاد پر کی جانے والی حکمت عملی کا ناکام ہونا مقصود ہے۔‘

انڈیا میں بڑی تعداد میں میڈیا نے پائلٹ کی واپسی کو مودی کی فتح قرار دیا ہے۔ بہت کم لوگ پلوامہ حملے کی وجہ بننے والی بڑے پیمانے پر انٹیلیجنس کی ناکامی اور دن کی روشنی میں پاکستان کے انڈین فضا میں داخلے کے بارے میں سوال کر رہے ہیں۔

ایک مشہور دفاع تجزیہ کار اجے شُکلا کا کہنا ہے کہ انڈیا کی فوج نے ایسی دہشت گردی جس کی پشت پناہی پاکستان کرتا ہے، کے سلسلے میں خودکار فوجی سٹرائک کی دھمکی دے کر نئی روایت قائم کرنے کا اپنا سٹرٹیجک مقصد پورا نہیں کیا۔

ان کا مزید کہنا ہے ’اب تک پاکستان نے یہ ظاہر کیا ہے کہ وہ انڈیا کا مقابلہ کر سکتا ہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ انڈین فوج بدلے کو اس نہج پر لے جائے جس کا مقابلہ پاکستان نہ کر سکے۔ تاہم، دہائیوں کی لاپرواہی اور فنڈنگ میں کمی کی وجہ سے انڈین فوج اتنی کھوکھلی ہو گئی ہے کہ مودی اس کی پاکستان کو فوری سزا دینے کی صلاحیت پر انحصار نہیں کر سکتا اور وہ بھی نسبتاً خون بہائے بغیر۔‘

انڈین طیاروں کی طرف سے پاکستان میں دہشت گردوں کے کیمپ پر مبینہ حملے میں کیے جانے والے نقصان کے بارے میں تفصیلات واضح نہیں ہیں۔ اگرچہ میڈیا نے 300 دہشت گردوں کے مارے جانے کی کھلم کھلا اطلاعات دی ہیں مگر انڈین حکام مارے جانے والے دہشت گردوں کی تعداد کے بارے میں مبہم ہیں۔ بظاہر مودی کو کڑے سوالات کی طرف دھیان دینا چاہیے اور خوف کھانا چاہیے کہ ان کی بیانیے میں اتنا دم نہیں رہا۔

لیکن ایسا نہیں ہے۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ عمران خان نے اپنے ملک اور کچھ انڈینز کی وجہ سے ادراک کی جنگ جیت لی ہے لیکن انڈیا میں اپنی مضبوط بنیاد کی وجہ سے بیانیے پر کنٹرول مودی کا ہی ہے۔

کالم نگار اور مصنف سنتوش دیسائی کہتے ہیں ’مودی پر یقین نہ رکھنے سے زیادہ بڑی تعداد ان لوگوں کی ہے۔ میڈیا کے بیانیے پر تقریباً کامل کنٹرول کی وجہ سے مجھے نہیں لگتا کہ وہ ادراک کی جنگ ہار رہے ہیں۔ ان کے حامیوں کا ماننا ہو گا کہ مودی نے وہ کیا جو وہ عموماً کرتے ہیں، اور خان بولنے پر مجبور ہو گئے اور دباؤ میں آ کر پائلٹ کو رہا کر دیا۔‘

جس نے بھی ادراک کی جنگ جیتی ہے اس دکھی کہانی کا ایک مثبت پہلو ضرور ہے۔ ایم آئی ٹی میں پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر ویپن نارنگ کے مطابق دونوں فریقین کو جنگ نہیں درکار۔ ان کا ماننا ہے کہ اِن لوگوں نے ’اپنا کیوبن میزائل کرائسِس کا لمحہ دیکھ لیا ہے اور تسلیم کر لیا ہے کہ ایک دو غلط فیصلوں سے کشیدگی میں نا قابلِ کنٹرول اضافہ ہو سکتا ہے۔‘

لہذا دونوں فریقین معمول پر واپس آ سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے ’پاکستان دہشت گردی پر کریک ڈاؤن کر سکتا ہے اور دوبارہ سے ایسے حالات کو جنم دینے سے روک سکتا ہے۔ انڈیا سٹرٹیجک پابندی برقرار رکھ سکتا ہے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں