او آئی سی: سشما سوراج کی پاکستان کا نام لیے بغیر تنقید

او آئی سی تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER @OIC_OCI
Image caption سشما سوراج، اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کے اجلاس سے خطاب کر رہی ہیں

انڈیا کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے گذشتہ روز اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’انتہا پسندی کے خلاف جنگ کسی مذہب کے خلاف نہیں ہے۔‘

سشما سوراج کا کہنا تھا کہ ’جو ملک انتہا پسندی کو پناہ گاہ فراہم کرتا ہے اور انھیں مالی تعاون دیتا ہے، اسے شدت پسندی کے کیمپوں کو ختم کرنے کے لیے کہا جانا چاہیے۔‘

انھوں نے کہا کہ یہ ایک وبائی مرض ہے جو تیزی سے پھیل رہا ہے اور اسے مختلف طریقوں سے چلایا جا رہا ہے۔

سشما سوراج نے مزید کہا ’اگر ہم انسانیت کو بچانا چاہتے ہیں، تو ہمیں یقیناً شدت پسندوں کی فنڈنگ کرنے والے اور انھیں پناہ دینے والے ممالک سے ان کی زمین پر شدت پسند کیمپوں کے بنیادی ڈھانچوں اور پناہ گاہوں کو ختم کرنے کے لیے کہنا چاہیے۔‘

او آئی سی کانفرنس میں انڈین وزیر خارجہ کو مدعو کیے جانے کی وجہ سے پاکستان نے اس میں شرکت کرنے سے انکار کر دیا تھا اور پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قريشی نے اس کانفرنس میں شرکت نہیں کی۔

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں پلوامہ کے مقام پر ہونے والے شدت پسند حملے اور پاکستان میں کالعدم تنظیم جیش محمد کے تربیتی کیمپوں پر انڈیا کے فضائی حملے کے تین دن بعد سشما سوراج نے او آئی سی کے پلیٹ فارم سے پاکستان کا نام لیے بغیر اسے تنقید کا نشانہ بنایا۔ جیش نے پلوامہ حملے کے ذمہ داری قبول کی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

کیا اپوزیشن دہشت گردوں کے ساتھ ہے؟: نریندر مودی

اس بار تو لگتا ہے کہ بال بال بچ گئے!

پاکستان، انڈیا کشیدگی: پس پردہ سفارتی کاوشیں

سشما سوراج نے کہا کہ انتہا پسندی کے خطرے کو ’صرف فوجی، خفیہ یا سفارتی‘ طریقوں سے نہیں شکست دی جا سکتی، بلکہ اسے ’اقدار کی مضبوطی اور مذہب کے پیغام‘ سے جیتا جا سکتا ہے۔

انھوں نے کہا ’یہ تمدن اور ثقافت کا ٹکراؤ نہیں ہے بلکہ نظریات اور اصولوں کے درمیان مقابلہ ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے انڈیا کو مدعو کیے جانے کی وجہ سے او آئی سی اجلاس میں شرکت نہیں کی

او آئی سی میں انڈیا کی موجودگی کس قدر اہم ہے؟

یہ پہلا موقع ہے جب او آئی سی نے انڈیا کو اپنی کانفرنس میں خصوصی مہمان کے طور پر مدعو کیا ہے۔ او آئی سی میں ہمیشہ سے سعودی عرب کا غلبہ اور پاکستان کا بول بالا رہا ہے۔

لیکن جمعے کو انتہا پسندی پر سشما سوراج کا کھل کر بولنا اور پاکستان کا اس میں شامل نہیں ہونا انڈیا کی خارجہ پالیسی کے لحاظ سے کتنا اہم ہے؟

انڈیا کے خیال میں او آئی سی پاکستان کے لیے ایک ایسا بین الاقوامی پلیٹ فارم رہا ہے جہاں اس پر کوئی روک ٹوک نہیں رہی۔

انڈیا کا الزام ہے کہ پاکستان نے اس فورم کا بے جا استعمال کیا ہے اور کشمیر، بابری مسجد اور مسلمانوں کے ساتھ مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی قراردادوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کی زبان انڈیا کے لیے ناقابل برداشت رہی ہے۔

ابتدا میں انڈیا نے پہلے تو ان پر سخت اعتراضات کا اظہار کیا لیکن 2001 کے بعد سے اس نے کوئی رد عمل دینا ہی بند کر دیا۔

لیکن اب، جبکہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان پلوامہ حملے کے بعد کشیدگی اپنے عروج پر ہے اور انڈیا پاکستانی سرحد پر شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو فضائی حملوں سے نشانہ بنانے کے دعوے کر رہا ہے، او آئی سی کے پلیٹ فارم پر انڈیا کی موجودگی کی اہمیت کئی گنا بڑھی ہوئی نظر آتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER @MEAINDIA
Image caption انڈیا کے سابق سفارت کار تلميذ احمد کہتے ہیں کہ سشما سوراج کا اس پلیٹ فارم سے بات چیت کرنا انڈیا کے نقطۂ نظر سے بہت اہم ہے

او آئی سی میں انڈیا کو کیوں مدعو کیا گيا؟

اسلامی ممالک کی تنظیم (او آئی سی) 57 ممالک کا ایک گروپ ہے، جو مجموعی طور پر اسلامی عقائد والے ممالک پر مبنی ہے۔

پچاس سال قبل یروشلم میں الاقصی مسجد پر حملے کے بعد مسلمانوں کے مقدس مقامات کو محفوظ بنانے، باہمی تعاون بڑھانے، نسلی امتیاز اور استعماریت کی مخالفت کرتے ہوئے اس گروپ کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ لیکن اس کی ابتدا سے ہی انڈیا کے ساتھ تنازعات شروع ہو گئے۔

انڈیا کے سابق سفارت کار تلميذ احمد کہتے ہیں کہ سشما سوراج کا اس پلیٹ فارم سے بات چیت کرنا انڈیا کے نقطۂ نظر سے بہت اہم ہے۔

یہ بھی پڑھیے

گستاخانہ خاکے: پاکستانی وزیرخارجہ کا او آئی سی کو خط

’دنیا مشرقی یروشلم کو فلسطین کا دارالحکومت تسلیم کرے‘

’اسلامی دنیا بہت زیادہ منقسم ہے‘

وہ کہتے ہیں کہ ’1969 میں رباط میں انڈیا کے ساتھ جو بدسلوکی کی گئی تھی اب اسے درست کیا جا رہا ہے۔ یہ سب سے اہم پہلو ہے۔‘

’دوسری بات یہ ہے کہ 1990 سے پاکستان نے او آئی سی کے پلیٹ فارم کا استعمال کیا ہے اور انڈیا کے خلاف کئی قرارداد پیش کی ہیں جن کی زبان اور ان میں جو دھوکہ کیا گیا ہے، وہ برداشت سے باہر ہے۔ انڈیا نے 2001-02 میں اس وقت اپنا رخ طے کیا جب جسونت سنگھ وزیر خارجہ تھے۔ انھوں نے ان قراردادوں پر دھیان نہ دینے کی ہدایت کی۔‘

تلذيم احمد کہتے ہیں ’پاکستان ہر سال او آئی سی کا استعمال کرتا رہا ہے اور انڈیا کے خلاف یکطرفہ قراردادیں پیش کرتا رہا ہے۔ میرے خیال سے او آئی سی کے کئی ذمہ دار ممالک کو یہ لگنے لگا ہے کہ یہ اپروچ درست نہیں ہے، اسے ٹھیک کرنا چاہیے۔ انڈیا کو مدعو کرنا اور انڈین وزیر خارجہ کو ’مہمان خصوصی‘ بنانا ظاہر کرتا ہے کہ وہ 50 سال پرانی اپنی غلطی کو اب سدھار رہے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER @MEAINDIA
Image caption تلميذ احمد کہتے ہیں: 'ہندوستان کو اس پلیٹ فارم پر بلانے میں متحدہ عرب امارات کا اہم کردار ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ سعودی عرب سے بات چیت کیے بغیر متحدہ عرب امارات انڈیا کو مدعو نہیں کر سکتا تھا'

1969 میں کیا ہوا تھا؟

اگست 1969 میں ایک اسرائیلی شخص (جسے بعد میں ذہنی مریض کہا گیا)، اس نے الاقصی مسجد پر حملہ کیا اور اس میں آگ لگانے کی کوشش کی۔ 1967 کی جنگ کے بعد یہ مسجد اسرائیل کے مقبوضہ علاقوں میں شامل ہو گئی۔

اس وقت مسلم ممالک میں خاصی بے چینی محسوس کی گئی اور کہا گیا کہ وہ مسجد کو منہدم کرنے کی سازش تھی۔ اس مسئلے پر غور و غوض کے لیے 24 مسلم ممالک کے نمائندے مراکش کے شہر رباط میں جمع ہوئے۔

مراکش کے بادشاہ حسن نے سب کو مدعو کیا تھا۔ لیکن اس میں در اصل سعودی عرب کی کوششیں شامل تھی۔ اس وقت وہاں شاہ فیصل کی حکومت تھی۔

رباط میں منعقد اجلاس میں مسجد الاقصی پر حملے کی مذمت کی گئی۔ مراکش نے اس موقعے پر ہندوستان کو بھی مدعو کیا تھا۔ انڈیا کو اس لیے مدعو کیا گیا تھا کیونکہ یہاں مسلمانوں کی بڑی تعداد آباد ہے۔

انڈیا اسلامی ثقافت کا گہوارہ رہا ہے اور اسی لیے انڈیا اس گروپ میں قدرتی شراکت دار تھا۔

اس وقت کے مرکزی وزیر فخرالدين علی احمد کی قیادت میں انڈین وفد وہاں جانے والا تھا لیکن اس سے پہلے پاکستان کے رہنما یحیی خان نے کہا کہ انڈیا کو مدعو نہیں کرنا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ اگر انڈیا آیا اور اس کا رکن بنا تو پاکستان اپنا نام واپس لے لے گا۔

اس وقت پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات بہت مضبوط تھے۔ سعودی عرب کے فیصلے سے انڈیا کی دعوت منسوخ کردی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER @MEAINDIA
Image caption '1969 میں رباط میں انڈیا کے ساتھ جو بدسلوکی کی گئی تھی اب اسے درست کیا جا رہا ہے۔ یہ سب سے اہم پہلو ہے‘

تلمیذ احمد کہتے ہیں: ’انڈین وفد کو کانفرنس روم سے ہٹا دیا گیا۔ انڈیا کی بہت بےعزتی کی گئی. انڈین وفد کو جہاں سرکاری طور پر ٹھہرایا گیا تھا، وہاں سے بھی اسے نکال دیا گیا۔ میں اسے انڈیا کی سب سے بڑی بےعزتی کہوں گا۔ انڈیا کو کئی طرح سے شرمسار کیا گيا۔‘

تلميذ احمد کہتے ہیں: ’ہندوستان کو اس پلیٹ فارم پر بلانے میں متحدہ عرب امارات کا اہم کردار ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ سعودی عرب سے بات چیت کیے بغیر متحدہ عرب امارات انڈیا کو مدعو نہیں کر سکتا تھا۔‘

دہلی کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں بین الاقوامی امور کے ماہر پروفیسر کمال پاشا کہتے ہیں کہ ’پاکستان نے یہاں کشمیر کے ایک حصے کو انڈین قبضے والا کشمیر کہا۔ پاکستان نے کہا کہ انڈیا میں مسلمانوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی جاتی ہے۔ پاکستان نے اس پلیٹ فارم سے انڈیا میں بابری مسجد کے انہدام اور اس کے بعد فسادات کا مسئلہ اٹھایا۔‘

’پاکستان کے اس طرح کی قراردادیں ہر سال بڑھتی چلی گئیں اور ان کی زبان بھی خراب ہوتی چلی گئی۔ اس طرح او آئی سی نے پاکستان کی قراردادوں کے ذریعہ کشمیر پر جو رخ قائم کیا، وہ بھارت کے بالکل خلاف ہے۔ لیکن یہ بات قابل غور ہے کہ یہ قراردادیں او آئی سی کے تمام ارکان کے رویے کی عکاسی نہیں کرتیں۔‘

مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس پلیٹ فارم کا استعمال کرتے ہوئے سشما سوراج نے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے کہ انڈیا اعتدال پسند اسلام کی عکاسی کرتا ہے۔

اسی بارے میں