ایل او سی پر امن کا انتظار تاکہ بچے گولہ بارود کے بجائے کتابوں سے کھیلیں

شیل

وہ دھیرے سے میری حفاظتی جیکٹ کو چھوتی ہے اور دوسرا ہاتھ آگے بڑھا کر کہتی ہے 'یہ دیکھو۔' اس کی ننھی سی مٹھی میں گولے کے کچھ ٹکڑے ہیں۔

کالے اور بدبودار لوہے کے ٹکڑوں کو وہ کسی فتح کے میڈل کے طور پر پیش کرتی ہے۔

اس کے چہرے پر مسکراہٹ پھیلی ہوئی ہے کیونکہ آج اس نے اچھی تعداد میں یہ ٹکڑے اکٹھے کیے ہیں اور اسے اس کھیل میں دوسرے بچوں کو پیچھے چھوڑنے کی امید ہے۔

لائن آف کنٹرول کی صورتحال کے بارے میں مزید پڑھیے

’ٹارچ بھی نہیں جلاسکتے تھے‘

سمجھوتہ ایکسپریس بحال، لائن آف کنٹرول پرکشیدگی

میں اس سے ان ٹکڑوں کو پھینک کر صابن سے ہاتھ دھونے کے لیے کہتی ہوں۔ ایک پولیس اہلکار نے بتایا ہے کہ ان ٹکڑوں سے کیمیائی گیس نکلتی ہے جو خطرناک ہوسکتی ہے۔

وہ ہاتھ پیچھے کھینچ کر مٹھی بند کر لیتی ہے۔ میں پوچھتی ہوں: 'تمہیں ڈر نہیں لگتا؟' وہ کہتی ہے: 'ہم بڑے ہوکر پولیس بنیں گے، ہم بہادر ہوں گے، ہمیں کس بات کا ڈر؟'

لائن آف کنٹرول کے قریب کلاسیا گاؤں میں بچوں کا واسطہ زیادہ تر گولہ بارود اور ان کا استعمال کرنے والوں سے ہی پڑتا ہے۔

کشیدگی میں اضافے کے نتیجے میں سکول بند ہو جاتے ہیں۔ زراعت اور مزدوری کے علاوہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد نوکریوں کے مواقع کم ہیں۔

زیادہ تر خاندانوں میں سے کوئی نہ کوئی پولیس یا فوج میں ہی ملازمت حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

اپنی ہی فوج پر تو شک نہ کریں: نریندر مودی

انڈیا، پاکستان 2001 میں جنگ کے دہانے سے کیسے واپس آئے؟

کیا اپوزیشن دہشت گردوں کے ساتھ ہے؟: نریندر مودی

ہم جموں کے قریب راجوری ضلع کے نوشہرا علاقے میں زیرو پوائنٹ کے قریب ہیں۔ لائن آف کنٹرول پر موجود انڈین کیمپ یہاں سے نظر آتے ہیں۔

خطرہ بہت قریب ہے اور بہت سے لوگوں نے اس گولہ باری کے نتیجے میں اپنے عزیزوں کو کھویا ہے۔ کلاسیا گاؤں کے رتن لعل کی بیوی بھی اس کا شکار ہوئی تھیں۔

جنگ کی قیمت

رتن لعل بتاتے ہیں: 'کوئی کھیتی باڑی کر رہا ہے، اور کوئی کہیں اور، جب شیلنگ ہوتی ہے تو اس سے بچنے کے لیے کسی شیلٹر تک پہنچنا بھی مشکل ہوتا ہے۔ اسی طرح میری بیوی بھی کنویں پر پانی بھرنے گئی تھی اور اچانک گولہ آکر گرا تو ان کی جائے حادثہ پر ہی موت ہو گئی۔'

پاکستان اور انڈیا کی کشیدگی میں اپنے گھر کے ایک فرد کو کھونے کے باوجود رتن لعل کا بیٹا اب فوج میں ہے۔

ان کے مطابق مناسب تعلیم کی کمی کی وجہ سے ان کے بچوں کو مجبوراً فوج میں جانا پڑتا ہے۔

اشونی چوہدری ان کے پڑوسی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مسلسل طور پر پاکستانی شیلنگ کا خوف بچوں کے ذہن پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔

وہ کہتے ہیں: 'یہ بچے ایسے حالات میں اپنے امتحانات کی تیاریاں بھی نہیں کرسکتے۔ آپ ہی بتائیے کہ یہ بچے دہلی اور ممبئی کے سکولوں میں پڑھنے والے بچوں کے ساتھ کس طرح مقابلہ کر سکتے ہیں؟'

Image caption رتن لعل

گھر میں قید

قریبی گاؤں گنیہا کی رہائشی سودیش کماری کا بیٹا بھی فوج میں ہے۔ لیکن یہاں ان کی اپنی زندگی بھی جنگ کے میدان سے کم نہیں۔

گھر کی دیواروں میں جگہ جگہ سوراخ نظر آتے ہیں اور چاروں جانب کانچ اور دوسرے ملبے بکھرے ہوئے ہیں۔

گذشتہ شام کو ہونے والی چھ گھنٹے کی شیلنگ کا خوف ابھی بھی تازہ ہے۔

دبی آواز میں وہ کہتی ہیں: 'بنکر بھی ہل چکا تھا، بچے اور بڑے سب رونے لگے تھے۔ ہم گھبرائے ہوئے تھے۔ ہمارے چاروں جانب شیلنگ ہو رہی تھی۔ ہم باہر نہیں نکل سکتے تھے۔'

ایسے ماحول میں سودیش خود کو گھر میں قید پاتی ہیں۔ کشیدگی میں اضافے کی صورت میں بھی زیادہ تر خواتین اپنا گھر بار چھوڑ کر جانے سے ہچکچاتی ہیں۔

چھوٹے بچوں اور مویشیوں کی دیکھ بھال کے علاوہ سکولوں میں قائم کیمپوں میں اجنبیوں کے درمیان رہنا ان کے لیے مشکل امر ہے۔

Image caption سودیش کماری

بنکر کا انتظار

سودیش خوش ہیں کہ ان کے گاؤں میں بنکر تعمیر کیا گيا ہے۔ رتن لعل سمیت بہت سے دوسرے گاؤں والوں کو یہ بھی میسر نہیں۔

گذشتہ سال اگست میں انڈین وزارت داخلہ نے سرحدی گاؤں میں 14،000 بنکروں کی تعمیر کا اعلان کیا تھا لیکن ان میں سے اب تک 1،500 ہی بنے ہیں۔

رتن لعل کے گاؤں سمیت بہت سے لوگوں کو اب تک انتظار ہے۔

جموں کے ڈویژنل کمشنر سنجیو ورما کے مطابق وہ اگلے تین ماہ میں باقی بنکروں کی تعمیر کا کام مکمل کرلیں گے۔

بنکر سکیورٹی فراہم کرتا ہے لیکن طویل مدت تک اس میں رہنا آسان نہیں ہے۔ عام طور پر ایک بنکر میں ایک درجن لوگ پناہ حاصل کرتے ہیں۔

اگر بنکر میں پانی بھر جائے تو مزید گھٹن ہوتی ہے۔ ایسا سودیش کے گھر کے پاس بنے بنکر کے ساتھ بھی ہوا تھا۔

سودیش یہاں شادی کے بعد آئیں۔ 35 سال تک لائن آف کنٹرول کے پرخطر ماحول میں رہنے کا ملال تو نہیں لیکن اب وہ تھک چکی ہیں۔

وہ اس دن کی منتظر ہیں کہ امن آئے تو انھیں گھر جلدی لوٹنے کی فکر نہ ہو اور بچے گولہ بارود سے نہیں بلکہ کتابوں سے کھیليں۔

اسی بارے میں