بالاکوٹ آپریشن: ’ہدف کو نشانہ بنایا، مرنے والوں کی تعداد گننا ہمارا کام نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images
Image caption بی ایس دھنوا نے کہا کہ یہ قیاس آرائیاں درست نہیں کہ انڈین طیارے اپنے ممکنہ ہدف کو نشانہ بنانے میں ناکام رہے

انڈیا کی فضائیہ کے نئے سربراہ ایئر چیف مارشل بریندر سنگھ دھنوا نے کہا ہے کہ انڈین طیاروں نے بالاکوٹ میں اپنے اہداف کو نشانہ بنایا تھا اور کارروائی میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد گننا ان کا کام نہیں۔

انڈیا کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ فضائی کارروائی کے دوران بالاکوٹ میں کالعدم تنظیم جیشِ محمد کے ایک کیمپ کو نشانہ بنایا گیا ہے اور اس میں 250 سے زیادہ شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

بالاکوٹ میں انڈین طیارے پاکستانی طیاروں سے کیسے بچے؟

اپنی ہی فوج پر تو شک نہ کریں: نریندر مودی

انڈیا کو پاکستانی فضائیہ کے بارے میں کیا جاننا ضروری ہے؟

تاہم پاکستان نے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ انڈین طیارے جلدبازی میں جابہ کے علاقے میں غیرآباد پہاڑی علاقے میں بم گرا کر واپس چلے گئے تھے۔

پاکستان کا یہ بھی کہنا ہے کہ جس علاقے میں کارروائی ہوئی وہاں کسی شدت پسند تنظیم کا کوئی تربیتی کیمپ موجود نہیں۔

دہلی میں بی بی سی کے نامہ نگار شکیل اختر کے مطابق بالاکوٹ میں بمباری کے بعد پہلی مرتبہ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بی ایس دھنوا نے کہا کہ یہ قیاس آرائیاں درست نہیں کہ انڈین طیارے اپنے ممکنہ ہدف کو نشانہ بنانے میں ناکام رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر ہم ایک ہدف کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بناتے ہیں تو پھر ہم اسے نشانہ بناتے ہیں۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’اگر ہم نے جنگل میں بم گرائے تو وہ (پاکستان) اس کا جواب کیوں دیتے۔‘

بازی عمران خان نے جیتی یا نریندر مودی نے؟

کیا اپوزیشن دہشت گردوں کے ساتھ ہے؟: نریندر مودی

اس سوال کے جواب میں کہ پاکستان نے اس دعوے کی تردید کی ہے کہ اس آپریشن میں کوئی ہلاکت ہوئی ہے تو کیا وہ بتا سکتے ہیں ہیں کہ اس کارروائی میں کتنے لوگ مارے گئے ،ایئر مارشل دھنوا نے کہا: 'ہم اپنا ہدف گنتے ہیں یہ نہیں گنتے کہ کتنے لوگ مارے گئے۔ یہ فضائیہ کا کام نہیں ہے۔ کتنے لوگ مارے گئے ہوں گے اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپریشن کے وقت وہاں کتنے لوگ تھے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا نے بالاکوٹ حملے میں میراج 2000 طیارے استعمال کیے تھے

ان کا یہ بیان اس پس منظر میں اہم ہے کہ انڈین میڈیا میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ اس کارروائی میں 'تین سو سے چار سو دہشت گرد' مارے گئے۔ خود خارجہ سیکریٹری وجے گوکھلے نے بالاکوٹ کے واقعے کے بعد پہلی نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ 'بالا کوٹ کے جیش محمد کے ٹریننگ کیمپ پر اس حملے میں بڑی تعداد میں جیش کے سینیئر کمانڈر، ٹرینرز اور فدائین مارے گئے ہیں'۔

حکمراں جماعت بی جے پی کے صدر امت شاہ نے کل ایک تقریر میں کہا تھا کہ فضائی کارروائی میں ڈھائی سو سے زیادہ دہشت گرد مارے گئے۔

انڈین فضائیہ کے سربراہ نے پاکستانی طیاروں کا نشانہ بننے والے روسی ساخت کے پرانے مگ -21 طیاروں کے فضائی کارروائی میں استعمال کرنے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ یہ طیارے جدید آلات سے مزین ہیں اور اور انھیں اپ گریڈ کیا گیا ہے۔

انھوں نے مزید کہا: 'ایک منصوبند آپریشن ہوتا ہے۔ آپ منصوبہ بناتے ہیں، اس پر عمل کرتے ہیں جیسا پہلی سٹرائیک میں ہم نے کیا۔ اس میں تو کوئی مگ نہیں تھا۔ اس میں ہمارے بہترین طیارے استعمال ہوئے تھے لیکن جب دشمن کی طرف سے کوئی کارروائی ہوتی ہے تو جو بھی دستیاب طیارے ہوتے ہیں وہ بھیج دیے جاتے ہیں۔ سبھی طیارے دشمن سے لڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔'

بی ایس دھنوا نے یہ بھی بتایا کہ انڈین پائلٹ ابھینندن وردمان کا طبی معائنہ کیا گیا ہے اور اگر وہ طبی طور پر پوری طرح پرواز کے لیے صحتمند پائے گئے تو وہ واپس اپنی یونٹ میں پرواز کے لیے جوائن کریں گے ۔

انھوں نے مزید کہا کہ انڈین فضائیہ میں فرانس کے جدید ترین رفال اور روسی ساخت کے سخوئی طیارے جلد ہی شامل کیے جائیں گے۔

بہر حال انھوں نے کہا کہ یہ آن گوئنگ آپریشن ہے تو زیادہ تفصیلات جاری نہیں کی جا سکتی۔

اسی بارے میں