پلوامہ: حملہ آورعادل ڈار کے گھر کا آنکھوں دیکھا حال

عادل ڈار کا گھر تصویر کے کاپی رائٹ Zubair Ahmad/BBC
Image caption سرینگر میں عادل ڈار کا گھر

پلوامہ میں 14 فروری کو ہونے والا خودکش حملہ پاکستان اور انڈیا کو جنگ کے دہانے پر لے آیا۔

یہ حملہ جموں اور سرینگر کی ہائی وے پر ہوا، حملے کی جگہ سے 20 سالہ حملہ آور عادل ڈار کا گھر صرف دس کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

کاک پورہ گاؤں میں اپنے گھر سے ایک برس قبل بھاگ جانے کے بعد عادل ڈار جیش محمد میں شامل ہو گئے اور بندوق اٹھا لی۔

عادل ڈار کا گھر دو منزلہ ہے جہاں ان کے گھر والے پہلی منزل پر رہتے ہیں۔ یہ کسانوں کا خاندان ہے۔ جب میں سردی اور بارش کے موسم میں وہاں پہنچا تو عادل کے دو بھائیوں اور والد نے بی بی سی سے بات کرنے سے انکار کر دیا۔

کچھ دیر بعد عادل کے والد غلام حسن ڈار نے بات چیت شروع کی اور بولے ’لاش کو یہاں نہیں لایا گیا، بیٹے کی تدفین نہیں ہوئی لہذا سب نامکمل لگتا ہے۔‘

یہ بھے پڑھیے

شدت پسند تنظیم ’جیش محمد‘ کیا ہے؟

شدت پسند تنظیموں پر پابندیاں کتنی موثر؟

اوڑی سے پلوامہ حملے تک

تصویر کے کاپی رائٹ Zubair Ahmad/BBC
Image caption اسداللہ نائیکو، ریاض نائیکو کے والد

جب میں نے ان سے پوچھا کہ کیا انھیں سی آر پی ایف اہلکاروں کی ہلاکت پر افسوس ہے؟

انہوں نے جواب دیا ’ سپاہی بھی اپنا کام کر رہے تھے، ان کے خاندان بھی ان کو کھونے کے صدمے سے دوچار ہیں، ہماری طرح کچھ خاندانوں کو بھی ان کے بیٹوں کی لاشیں نہیں ملی ہیں، وہ بھی یہ درد محسوس کر رہے ہوں گے۔‘

عادل جیش محمد کا حصہ تھا لیکن پلوامہ سمیت جنوبی کشمیر میں متحرک جیش محمد اور لشکر طیبہ کی کارروائیاں انتہائی کم ہیں۔ ماہرین کے مطابق جنوبی کشمیر میں سب سے زیادہ متحرک حزب المجاہدین ہے۔

حزب المجاہدین کی قیادت 33 سالہ ریاض نیکو کے ہاتھ میں ہے جو ہمیشہ ایک استاد رہا ہے۔ نیکو کا نام وادی کے ’موسٹ وانٹڈ‘ افراد کی فہرست میں سب سے اوپر ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Zubair Ahmad/BBC
Image caption ریاض نائیکو کی دادی

ریاض نائیکو کون ہیں؟

نائیکو کا تعلق پلوامہ کے گاؤں بیگ پورہ سے ہے،سات برس قبل ریاضی میں اپنی ڈگری مکمل کرنے کے بعد نائیکو نے ہتھیار اٹھالیا۔

ریاض نائیکو کے اہل خانہ نے اب یہ تسلیم کر لیا ہے کہ گھر میں جلدی یا دیر سے نائیکو کی لاش ہی آئے گی۔ نائیکوکے والد اسداللہ نائیکو کہتے ہیں کہ جب بھی کوئی انکاؤنٹر ہوتا ہے تو محسوس ہوتا ہے کہ ان کا بیٹا مرنے والوں میں شامل ہوگا۔

جب ان سے علیحدگی پسند تحریک کی حمایت اور بحیثیت والد ان کے جذبات کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا ’ بحیثیت مسلمان یہ فخر کی بات ہے، ہم یہ نہیں گے کہ یہ غلط ہے، اگر وہ منشیات یا غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہوتا تو ہمارا نام بدنام ہوتا لیکن ہمیں اس بات کا سکون ہے کہ وہ صحیح کام کر رہا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Zubair Ahmad/BBC
Image caption غلام حسن ڈار، عادل ڈار کے والد

کشمیری لوگ ان کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟

کشمیر میں تعینات سرکاری حکام کے مطابق مقامی لوگ ان جیسے لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔

ڈار یا نائیکو کا خاندان، یہ عام لوگ ہیں لیکن جب ان کے بچے ہتھیار اٹھا لیتے ہیں تو وہ معاشرے میں ایک اعلی مرتبہ حاصل کر لیتے ہیں۔ انتہا پسندوں کو مقامی لوگوں کی سپورٹ حاصل ہے۔ اگر مقامی لوگ انھیں پناہ نہ دیں، ان کے لیے کھانے کا بندوبست نہ کریں اور پولیس آنے سے پہلے انہیں خبردار نہ کریں تو یہ تحریک نہ چل سکے۔

لیکن دوسری طرف سیکورٹی فورسز کے پاس بھی مقامی لوگوں پر مشتمل مخبروں کا ایک بڑا نیٹ ورک موجود ہے۔ اکثر انکاؤنٹر کسی مقامی مخبر کی جانب سے پولیس کو شدت پسندوں کی سرگرمیوں کی اطلاع ملنے کے بعد کیے جاتے ہیں۔ ڈار اور نائیکو جیسے لوگ اکثر مقامی لوگوں کی مدد اور آنکھ مچولی کی وجہ سے بچ نکلتے ہیں۔ انکاؤنٹر کے وقت مقامی لوگ کبھی سینہ تان کر پولیس کے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں اور کبھی ان پر پتھر برسانا شروع کر دیتے ہیں۔

ہم نے جموں اور کشمیر کے گورنر ستیاپال ملک سے پوچھا کہ کیا حالیہ دنوں میں شدت پسندوں کی حکمت عملی میں کوئی تبدیلی آئی ہے؟ اس کے جواب میں ستیاپال ملک نے کہا کہ ’جہاں تک مجھے ہے معلوم پاکستان میں موجود ان کے سربراہوں پر دباؤ آیا ہے کہ تم نے ہمارا نام ڈبو دیا۔ کسی بڑی کارروائی کی حکمت عملی پاکستان اور آئی ایس آئی کے دباؤ پر تیار کی جاتی ہے۔‘

وادی میں متحرک جیش محمد، لشکر طیبہ اورحزب المجاہدین مختلف نظریات کی تنظیمیں ہیں۔ پہلی دو تنظیمیں پاکستانی ہیں جو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں موجود ہیں اور جن میں کچھ مقامی شدت پسند شامل ہیں جبکہ زیادہ تر بارڈر پار سےآتے ہیں۔ ان تینوں تنظیموں سے بنائی گئی جہاد کونسل پاکستان میں ہے، جس میں مسعود اظہر اور خافظ محمد سیعد بھی شامل ہیں۔

نظریات میں فرق کے باوجود اکثر ان میں آپریشنل مطابقت پائی جاتی ہے۔ حکام کے مطابق ایسا پلوامہ میں ہوا۔

کیا اس کے بعد بھی اتنے بڑے حملے ہوں گے؟

دہلی کی جامعہ ملیہ یونیورسٹی کے ایمن ماجد نے کشمیر میں جاری علیحدگی پسند تحریک پر خاصی تحقیق کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’میرے خیال میں اس طرح کے اور حملے نہیں ہوں گے۔ میڈیا یہ کہہ رہا کہ کشمیر میں ایسے حملے دوبارہ ہوں گے لیکن میری سمجھ ہے کہ ایسے بڑے حملے کبھی کبھار ہوتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

پلوامہ حملے کی تحقیقات جاری ہیں۔ لیکن کیا یہ حکومت کی ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے؟

یونیورسٹی آف کشمیر میں تدریس سے وابستہ ابراہیم وانی کا کہنا ہے کہ حکومت نے گزشتہ برس دعویٰ کیا تھا کہ وہ شدت پسندی پر قابو پا چکی ہے لیکن پلوامہ حملہ اس کی نفی کرتا ہے۔’2018 میں دعوی کیا گیا کہ بہت سے شدت پسند مارے جا چکے ہیں جسے فوج کی کامیابی سمجھا گیا لیکن پلوامہ نے اسے غلط ثابت کر دیا۔

حکام جانتے ہیں کہ انکاؤنٹر میں ایک شدت پسند مرتا ہے تو دوسرا اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ پولیس رپورٹ کے مطابق ایک وقت میں ریاست میں متحرک مسلح نوجوانوں کی تعداد 150 سے 250 ہے۔ شدت پسند جانتے ہیں کہ یہ تعداد سیکورٹی فورسز کو پریشان کرنے کے لیے کافی ہے۔

جنوبی کشمیر میں حملوں کی تعداد زیادہ ہے جس میں سکیورٹی اہلکاروں کے مرنے کی تعداد بھی زیادہ ہے۔ حزب المجاہدین پہاڑی علاقوں میں زیادہ متحرک ہے جہاں جنگلات بھی کم ہیں۔ لشکر طیبہ اور جیش محمد کے شدت پسندوں کو مشکل درپیش آسکتی ہے کیونکہ انھیں کشمیری زبان نہیں آتی ہے۔

انٹیلی جنس اداروں کے مطابق شمالی کشمیر میں جیش محمد اور لشکر طیبہ کے شدت پسندوں کی تعداد زیادہ ہے۔ وہ پہاڑوں اور جنگل کے راستوں سے واقف ہیں اور وہ حزب اللہ کے نوجوانوں سے زیادہ تجربہ کار ہیں اور پاکستان سے زیادہ لوگ آ کر ان میں شامل ہو رہے ہیں۔ حال ہی میں ہندوارا میں ایک انکاؤنٹر 72 گھنٹوں تک جاری رہا جس میں سیکورٹی اہلکار مارے گئے۔ ایک رپورٹر نے وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان سے آئے تھے لہذا انہیں کنٹرول کرنا مشکل تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Zubair Ahmad/BBC

اب آگے کیا ہو گا؟

گورنر ستیا پال کا خیال ہے کہ پلوامہ کا حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب لگ رہا تھا کہ حالات بہتر ہو رہے ہیں۔

انھوں نے اعترف کیا کہ کشمیر میں جاری تشدد کا صرف ایک حل ہے اور وہ یہ کہ بات چیت شروع کی جائے لیکن ان کے مطابق ’ پہلے چیزوں کو بہتر ہونا چائیے، اگر پاکستان شدت پسندوں کی سپورٹ چھوڑ دیتا ہے تو اس کے بعد ہی مذاکرات شروع ہو سکتے ہیں۔

غلام حسن ڈار ایک خود کش حملہ آور کے والد ہیں، وہ بار بار ان حالات کا ذمہ دار ریاست کے رہنماؤں کو سمجھتے ہیں۔ وہ اپنے بیٹے کو شدت پسند بننے سے نہیں روک پائے لیکن ان کے خیال میں پرتشدد کارروائیاں روکنے کا صرف ایک راستہ ہے اور وہ یہ کہ پاکستان، بھارت اور کشمیر کے درمیان بات چیت ہو۔

غلام حسن ڈار کے مطابق پر تشدد کارروائیوں میں ایک انسان مر جاتا ہے، ’ہندو، سکھ اور مسلمان سب انسان ہیں اور ایک انسان ہی مرتا ہے، بہتر ہوتا اگر لیڈر خود غرض بننے کی بجائے کشمیر کا مسئلہ حل کرتے۔‘

پلوامہ حلمے کے بعد روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے انکاؤنٹروں کو دیکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ پرتشدد کارروائیوں کا جلدی خاتمہ ابھی ممکن نہیں ہے۔

اسی بارے میں