جیشِ محمد: انڈین وزیر گریراج سنگھ کا تباہی دکھانے کے لیے جعلی تصاویر کا استعمال

تصاویر تصویر کے کاپی رائٹ Google/Zoom Earth
Image caption سیٹلائٹ تصاویر کے بارے میں کہا گیا کہ وہ حملے سے پہلے یعنی 23 فروری اور حملے کے بعد 26 فروری کو لی گئیں

انڈیا کے وزیر شندلیہ گریراج سنگھ کی ایک ٹویٹ حال ہی میں وائرل ہوئی جس میں انھوں نے پاکستانی علاقے بالاکوٹ میں انڈین فضائیہ کی کارروائی سے ہونے والا مبینہ نقصان کی تصاویر دکھائی تھیں۔

گریراج سنگھ نے ایک ہندی نیوز چینل کی ویڈیو بھی شیئر کی جس میں کہا گیا کہ یہ شدت پسند تنظیم جیشِ محمد کا وہ کیمپ ہے جو انڈین فضائیہ کے حملے میں تباہ ہوا۔

وزیر نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ’یہ تصاویر واضح طور پر دکھا رہی ہیں کہ انڈین فضائیہ نے پاکستان میں دہشت گردوں کے تربیتی کیمپ کو تباہ کر دیا ہے۔‘

اس ویڈیو میں دو سیٹلائٹ تصاویر دکھائی گئیں جن میں سے ایک کے بارے میں کہا گیا کہ وہ حملے سے پہلے یعنی 23 فروری کی ہے اور دوسری حملے کے بعد 26 فروری کو لی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’292 شدت پسندوں کی ہلاکت‘ کی حقیقت کیا ہے؟

’ایک نہیں بلکہ تقریباً پانچ دھماکے ہوئے، علاقہ لرز اٹھا‘

’ہدف کو نشانہ بنایا، مرنے والوں کی تعداد گننا ہمارا کام نہیں‘

اس ویڈیو کو ہزاروں افراد نے شیئر کیا اور یہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔ بےشمار افراد نے ان سیٹلائٹ تصاویر کو فیس بک، ٹوئٹر اور واٹس ایپ پر یہ کہتے ہوئے شیئر کیا کہ یہ انڈین حملے میں کیمپوں کی تباہی کا ثبوت ہیں۔

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع پلوامہ میں ہونے والے خودکش حملے میں 40 نیم فوجی اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد انڈیا نے جیشِ محمد کے کیمپ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔

اس حملے کی ذمہ داری جیشِ محمد نے قبول کی تھی۔

انڈین فضائیہ کے سربراہ نے کہا تھا کہ جنگی طیاروں کو جو اہداف دیے گئے تھے انھیں کامیابی سے نشانہ بنایا گیا ہے تاہم اس کارروائی میں مرنے والوں کی تعداد گننا ان کا کام نہیں۔

बीजेपी تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

تاہم کیمپ کی تباہی کی جو تصاویر بطور گریراج سنگھ اور دائیں بازو کے گروپوں کی جانب سے ثبوت شیئر کی جا رہی ہیں ان میں کئی نقائص ہیں۔

انڈیا کا جیشِ کیمپ پر حملے کا دعویٰ، پاکستان کا انکار

انڈیا کا پاکستان کی حدود میں حملہ، مفروضے اور حقائق

یہ دونوں تصاویر خبر رساں ادارے کی جانب سے بدھ کو شائع کردہ کیمپ کی تصاویر سے بھی مطابقت نہیں رکھتیں۔

جابہ تصویر کے کاپی رائٹ Bing Maps/Zoom Earth
Image caption گوگل پر ریورس امیج سرچ کی مدد سے معلوم ہوا کہ مبینہ طور پر حملے کے بعد کا منظر دکھانے والی تصویر انٹرنیٹ پر اس کارروائی سے برسوں پہلے سے موجود ہے

یہ تصاویر کہاں کی ہیں؟

جب ہم نے اسے کوارڈینیٹس کی مدد سے گوگل میپس پر تلاش کی تو معلوم ہوا کہ یہ جابہ میں واقع ایک عمارت کی تصویر ہے جو کہ ممکنہ طور پر لڑکیوں کا ایک ہائر سکینڈری سکول ہے۔

تاہم انڈین فضائیہ کی کارروائی کے بعد انڈیا سے تعلق رکھنے والے کچھ انٹرنیٹ صارفین نے اس عمارت کو ایک نیا نام دینے کی کوشش کی اور اسے جیش کا مدرسہ اور تربیتی سکول قرار دے دیا۔

جابہ تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption کچھ انٹرنیٹ صارفین نے لڑکیوں کے سکول کی عمارت کو ایک نیا نام دینے کی کوشش کی اور اسے جیش کا مدرسہ اور تربیتی سکول قرار دے دیا

یہ تصاویر کب لی گئیں؟

گریراج سنگھ کی ٹویٹ میں موجود ویڈیو میں ٹی وی چینل نے دعویٰ کیا کہ سیٹلائٹ تصاویر حملے سے تین دن قبل اور حملے کے بعد کی ہیں۔

بی بی سی کی تحقیق کے دوران ان تصاویر کو جب گوگل پر ریورس امیج سرچ کی مدد سے جانچا گیا تو معلوم ہوا کہ مبینہ طور پر حملے کے بعد کا منظر دکھانے والی تصویر انٹرنیٹ پر اس کارروائی سے برسوں پہلے سے موجود ہے۔

ویڈیو میں شیئر کیے گئے کوارڈینیٹس کی مدد سے ہم یہ جاننے میں کامیاب ہوئے کہ یہ تصویر ’زوم ارتھ‘ نامی ویب سائٹ سے لی گئی ہے جو کہ ناسا اور مائیکروسافٹ بنگ میپس کی مدد سے نقشہ جات کے سیٹیلائٹ امیج دکھاتی ہے۔

اس ویب سائٹ کے بانی پال نائیو ہیں جو لندن میں قیام پذیر ہیں۔ ان تصاویر کے بارے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی مذکورہ تصویر بہت پرانی ہے۔‘

वायरल تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

ان کا کہنا تھا کہ ’صرف ناسا روزانہ کی بنیاد پر نئی تصاویر اپ ڈیٹ کرتا ہے۔ بنگ میپس کی تصاویر روزانہ اپ ڈیٹ نہیں کی جاتیں۔‘

وائرل ہونے والی تصویر کتنی پرانی ہے، اس سوال پر پال کا کہنا تھا کہ ’میں کہہ سکتا ہوں کہ یہ چند دن یا مہینوں کی بات نہیں یہ برسوں پرانی تصویر ہے۔ میرے خیال میں سیٹیلائٹ تصویر میں دکھائی دینے والی عمارت زیرِ تعمیر تھی۔‘

پال نائیو نے اس بارے میں ٹوئٹر پر بھی پیغام جاری کیا ہے کہ ان تصاویر کا فضائی کارروائی سے کچھ لینا دینا نہیں۔

نقشہ

دکھائی جانے والی پہلی تصویر گوگل میپس سے لی گئی ایک سیٹلائٹ تصویر ہے۔

یہ بھی جابہ کی ہی ہے لیکن عمارت کی حالت دیکھ کر لگیا ہے کہ یہ تصویر زیادہ پرانی نہیں۔

ٹی وی چینل کا دعویٰ ہے کہ یہ تصویر 23 فروری کو لی گئی لیکن اس دعوے پر سوشل میڈیا پر بہت سے صارفین نے یہ سوال اٹھایا کہ اگر یہ تصویر 23 فروری ہے کی تو اس کے بعد گوگل میپس پر اس عمارت کی حالت کیوں نہیں بدلی۔

یہ وہ حقائق ہیں جن سے گریراج سنگھ اور ٹی وی چینل کے دعوؤں پر وہ سوال کھڑے ہوتے ہیں جن کا جواب اب تک سامنے نہیں آیا۔

اسی بارے میں