مودی کی انتخابی مہم اور قومی سلامتی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نریندر مودی نے حزب اختلاف کی جماعتوں کو قومی سلامتی پر سیاست چمکانے سے باز رہنے کا کہا تھا

امریکی صحافی مائیکل کنرلی کا کہنا ہے کہ جب کسی سیاست دان کے منہ سے سچ نکل جائے تو اسے زبان کی لغزش کہا جا سکتا ہے۔

گزشتہ ہفتے انڈیا کی حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کے سرکردہ رہمنا نے یہ ہی حرکت سر زد ہو گئی۔ بی ایس یدیورپا نے کہا کہ پاکستان پر انڈیا کے فضائی حملے سے ان کی جماعت آئندہ عام انتخابات میں دو درجن سے زیادہ نشستیں حاصل کرے گی۔

کرناٹک کی ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ یدیورپا کی یہ بات حیران کن طور پر صاف گوئی پر مبنی تھی۔ لیکن ان کا یہ بیان فوراً ہی حزب اختلاف کی جماعتوں نے اُچک لیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ نریندر مودی کی جماعت کی طرف سے کھلا اعتراف ہے کہ آئندہ عام انتخابات سے صرف ایک ماہ قبل وہ جوہری صلاحیت رکھنے والے اپنے ہمسایہ ملک سے کشیدگی بڑھا رہا ہے۔ نریندر مودی مسلسل دوسری مرتبہ اقتدار حاصل کرنے کی کوششوں میں ہے۔

یدیورپا کی صاف گوئی نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو بھی شرمندگی سے دوچار کر دیا ہے۔ وفاقی وزیر وی کے سنگھ کو اس بارے میں ایک بیان دینا پڑا جس میں کہا گیا کہ گزشتہ ہفتے پاکستان کے خلاف فضائی حملہ ملک کے دفاع اور شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا تھا نہ کہ انتخابات میں چند نشستیں جیتنے کے لیے۔ کوئی سیاسی جماعت یہ اعتراف کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتی کہ وہ جنگ کی سی کیفیت پیدا کر کے انتخابی فائدہ حاصل کرنا چاہتی ہے۔

جب انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر تھی اس وقت بھی نریندر مودی بہت اطمینان سے اپنے معمولات میں مشغول تھے۔ انڈین فضائیہ کے بالاکوٹ پر حملے کے چند گھنٹوں بعد ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نریندر مودی نے کہا کہ ملک محفوظ ہاتھوں میں ہے اور وہ دہشت گردی کے خلاف اب بے بسی کا شکار نہیں ہوگا۔

اگلے روز پاکستان نے جوابی حملہ کیا اور انڈین فضائیہ کے ایک مگ 21 طیارے کو اپنے علاقے میں گرا لیا جس کا پائلٹ بھی پاکستان فوج کے ہاتھ چڑھ گیا۔ دو دن بعد پاکستان نے اس پائلٹ کو رہا کر دیا۔ نریندر مودی نے سائنسدانوں کے ایک اجلاس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا کا فضائی حملہ ایک 'پائلٹ پراجیکٹ' تھا ابھی اس طرح کے حملے اور ہوں گے۔

ایک اور موقعے پر خطاب کرتے ہوئے ان کی جماعت کے سربراہ امت شاہ نے پاکستان پر فضائی حملے میں 250 افراد کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا جبکہ انڈیا کے اعلیٰ دفاعیٰ اہلکاروں کا کہنا تھا کہ انھیں نہیں معلوم کے اس حملے میں کتنے افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

ملک کے کئی شہروں میں مودی کے فاتحانہ پوسٹر لگائے گئے جن میں انھیں فوجیوں کے درمیان ایک جدید ترین گن اٹھائے ہوئے دکھایا گیا اور پس منظر میں لڑاکا طیاروں اور زمین سے اٹھتے ہوئے شعلے دکھائے گئے۔

انڈیا کی مشہور ٹی وی اینکر برکھا دت نے اس پوسٹر پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ فوجیوں کی تصویریں انتخابی پوسٹر اور سٹیج پر لگی دیکھ کر وہ یقینی طور پر پریشان ہوئی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس پر پابندی ہونی چاہیے کیونکہ وردی کو ووٹ حاصل کرنے کے لیے استعمال کرنے سے وردی کی حرمت پر حرف آتا ہے۔

مودی نے حزب اختلاف کی جماعتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ سرحدوں پر کشیدگی کو سیاست کے لیے استعمال نہ کریں۔ حزب اختلاف کی جماعتیں اس بات پر جھنجھلاٹ کا شکار ہیں کہ مودی نے اپنے ہی الفاظ کی پاسداری نہیں کی۔

گزشتہ ہفتے انھوں نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ قومی سلامتی کو چھوٹے چھوٹے سیاسی مفادات سے بالا تر رکھنا چاہیے۔

ادنیٰ سیاسی مفاد

کیا حالیہ بحران سے مودی کو زیادہ ووٹ حاصل کرنے میں مدد ملے گی؟ دوسرے لفظوں میں کیا قومی سلامتی انتخابی مہم میں ایک مرکزی نکتہ بن سکتی ہے؟

اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ مودی اپنی انتخابی مہم قومی سلامتی کے مسئلہ پر ہی چلائیں گے۔ گزشتہ ماہ پلوامہ پر دہشت گردی کے حملے میں چالیس فوجیوں کی ہلاکتوں کے واقع سے قبل مودی سیاسی طور پر کمزور نظر آ رہے تھے۔

ان کی جماعت نے پانچ ریاستی انتخابات میں سے تین میں شکست سے دوچار ہو گئی تھی۔ اس کے علاوہ ملک میں کسانوں کی حالت اور بڑھتی ہوئی بے روز گاری جیسے اہم مسائل سے حکومت نمٹنے میں ناکام نظر آ رہی تھی۔

اب بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ مودی کے جیتنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں کہ کیونکہ اب وہ ملک کی سرحدوں کے طاقت ور محافظ کے طور پر اپنے آپ کو پیش کر رہے ہیں۔

انتخابی اعداد و شمار کے ماہر اور سیاست دان یوگندر یادیو کا کہنا ہے کہ یہ جنگ اور قومی سلامتی کو انتخاب میں کامیابی حاصل کرنے کی بدترین مثال ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ کیا مودی اس میں کامیاب ہوں گے کہ نہیں۔

قومی سلامتی کے مسئلہ پرانتخاب لڑنے والی حکمران جماعت کیا کامیابی حاصل کر پائے گی اس کے بارے میں ملے جلے اشارے مل رہے ہیں۔

امریکی کی براؤن یونیورسٹی میں سیاسیات کے پروفیسر آشوتوش واراناسی کا کہنا ہے کہ ماضی میں عام انتخابات سے اتنے قریب قومی سلامتی کا کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوا۔

چین سے سنہ 1962 میں اور 1971 ۔میں جنگ عام انتخابات کے بعد ہوئی تھیں۔ سنہ 1965۔ میں جب پاکستان سے جنگ ہوئی تو عام انتخابات دو سال بعد ہونا تھے۔

انڈین پارلیمنٹ پر سنہ 2001۔ میں حملے کا واقعہ جس کی وجہ سے انڈیا اور پاکستان جنگ کے دہانے تک پہنچ گئے تھے عام انتخابات سے دو سال بعد ہوا تھا۔

ممبئ پر سنہ 2008۔ میں دہشت گردی کے جو حملے ہوئے تھے اس وقت عام انتخابات پانچ ماہ بعد ہونا تھے اور کانگریس نے قومی سلامتی کو اپنے انتخابی مہم کا حصہ بنائے بغیر انتخابات میں کامیابی حاصل کر لی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مودی نے اس دوران اپنے انتخابی مہم جاری رکھی

پروفیسر واراناسی نے کہا کہ ایک انتہائی منقسم ملک میں قومی سلامتی سے متعلق یہ واقعہ عام انتخابات سے صرف چند ہفتوں قبل پیش آیا ہے۔ شہروں میں متوسط طبقے میں اضافے کا مطلب ہے کہ قومی سلامتی کا مسئلہ بہت بڑی آبادی کے لیے بہت اہم ہے۔

پروفیسر وارانسی کے مطابق سب سے بڑھ کر یہ بات اہم کہ دلی میں کسی کی حکومت قائم ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہندو قوم پرست دائیں بازو کی جماعت ہمیشہ سے ہی کانگریس کے مقابلے میں قومی سلامتی کے معاملات میں سخت گیر موقف کی حامل رہی ہے۔

علاقائی جماعتوں کے لیے ماسوائے چند ایک کے قومی سلامتی کا معاملہ اتنا بڑا انتخابی مسئلہ نہیں بنتا کیونکہ یہ علاقی شناخت اور ذات پات کی بنیادوں پر سیاست کرتی ہیں۔

براؤن یونیورسٹی کے ایک اور پروفیسر بھانو جوشی کے خیال میں مودی کی سخت گیر اور جارحانہ خارجہ پالیسی اور ان کے بیرون ملکوں دوروں میں عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں ان کے ووٹروں کے لیے دل جیتنے کا باعث بن سکتی ہیں۔

انھوں نے کہ انڈیا کے شمالی حصوں میں کام کے دوران انھیں لگا کہ لوگ بین الاقوامی سطح پر انڈیا کے اثر و رسوخ میں اضافے کا اکثر ذکر کرتے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ یہ بالاکوٹ پر فضائی حملے اور پاکستان اور انڈیا کے درمیان پائی جانے والی دشمنی کے پس منظر میں یہ تاثر مزید تقویت پڑے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں