انڈیا پاکستان: ٹی وی پر جنگ کس طرح لڑی گئی

میڈیا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کشمیر کے پلوامہ میں مہلک حملے کے بعد جہاں انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا وہیں ٹی وی چینلوں پر بھی جنگی بگل بجتے نظر آ رہے ہیں۔

دونوں ممالک کے ٹی وی چینلوں پر تعصب اور سنسنی پھیلانے کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ دلی میں بی بی سی کی نمائندے رجنی ودیاناتھن اور اسلام آباد میں سکندر کرمانی نے اس موضوع پر روشنی ڈالی ہے۔

یہ ایک ایسا ڈراما تھا جو تقریباً ٹی وی کے لیے تیار کیا گیا تھا۔

انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب انڈیا نے 26 فروری کو اعلان کیا کہ اس نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے پلوامہ میں تقریبا دو ہفتے قبل ہونے والے خودکش حملے کے جواب میں پاکستان کے بالاکوٹ میں شدت پسندوں کے کیمپ پر فضائی حملہ کیا ہے۔

اس کے دوسرے دن یعنی 27 فروری کو پاکستان نے انڈیا کا ایک جنگی طیارہ مار گرایا اور اس کے پائلٹ کو گرفتار کر لیا۔

یہ بھی پڑھیے

حملے کی صورت میں جوابی حملہ کریں گے: عمران خان

بازی عمران خان نے جیتی یا نریندر مودی نے؟

انڈیا: پلوامہ حملے کا سیاسی فائدہ کس کو ہو گا؟

پائلٹ ابھینندن ورتھمان کو 'امن کے پیغام' کے طور پر رہا کر دیا گیا اور پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے متنبہ کیا کہ ایٹم بموں سے لیس دونوں ممالک کسی قسم کی غلطی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

اس کے بعد ٹی وی پر پاک انڈیا کشیدگی کے بارے میں پروگراموں کا ایک سلسلہ چل نکلا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

تو کیا لوگ صحافیوں سے زیادہ وطن پرست نکلے؟

رجنی ویدیاناتھن: انڈیا کے ٹی وی چینلوں نے اس سٹوری کی مسلسل کوریج میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ خبر بخار کی طرح دماغ پر چڑھی ہوئی تھی۔

کوریج اکثر جذبات اور وطن پرستی کی زد میں آئی اور اس قسم کی شہ سرخیاں سکرین پر تیرتی نظر آئیں: 'پاکستان نے انڈیا کو سبق سکھا دیا'، 'بزدل پاکستان'، 'پرسکون رہیں اور انڈیا کی حمایت کریں' وغیرہ۔

جبکہ بعض چينلوں کے نمائندے اور مبصر انڈیا سے میزائل کے استعمال اور دوبارہ حملہ کرنے کی اپیل کرتے رہے۔ جنوبی ہند کے ایک رپورٹر تو پروگرام کے دوران جنگی لباس میں ملبوس کھلونے والی بندوق کے ساتھ پروگرام پیش کرتے نظر آئے۔

اور جب میں انڈیا کے شمالی شہر امرتسر میں بین الاقوامی سرحد کے پاس انڈین پائلٹ کی رہائی اور انڈیا کو سپرد کیے جانے کی کوریج ہو رہی تھی تو میں نے دیکھا کہ ایک خاتون نے اپنے گال پر انڈیا کا پرچم پینٹ کرا رکھا ہے۔ ایک خفت آمیز ہنسی کے ساتھ انھوں نے کہا کہ 'میں بھی صحافی ہوں۔'

اخبار کے صحافی سلیل ترپاٹھی نے ایک سخت تنقیدی مضمون لکھا کہ انڈیا اور پاکستان دنوں ملکوں نے اس واقعے کی کس طرح کوریج کی اور یہ کہنے کی کوشش کی کہ کس طرح انھوں نے غیرجانبداری کو طاق پر رکھا دیا۔ انھوں نے کہا کہ 'فرط جذبات سے مغلوب ایک بھی ٹی وی چینل کے نیوز اینکر نے اپنے پیشے کے تقاضوں کا پاس نہیں کیا۔'

سکندر کرمانی: گذشتہ ہفتے ایک انڈین طیارے کو مار گرانے کے تھوڑی دیر بعد پاکستانی فوج نے پریس کانفرنس کی۔

جوں ہی یہ ختم ہوئی صحافیوں نے 'پاکستان زندہ باد' کا نعرہ لگایا۔ یہ 'صحافتی حب الوطنی' کی واحد مثال نہیں۔

نجی چینل 92 نیوز کے دو اینکروں نے خبر پیش کرتے ہوئے فوجی وردی پہن رکھی تھی۔ بہر حال دوسرے پاکستانی صحافیوں نے ان کے فیصلے کی مذمت کی۔

لیکن مجموعی طور پر جہاں انڈیا کے ٹی وی پریزنٹر غصے کے ساتھ فوجی کارروائی کا مطالبہ کر رہے تھے پاکستان میں صحافی قدرے نظم و ضبط کے ساتھ تھے جبکہ بہت سے اسے 'سرحد پار سے جنگ پھیلانے والی باتوں کا مذاق اڑا رہے تھے۔

کسانوں کی جانب سے پاکستان کو ٹماٹر برآمد کرنے سے انکار کرنے کے متعلق انڈین میڈیا کی رپورٹنگ پر ایک مقبول پریزینٹر نے اسے 'ٹومیٹیکل سٹرائک' کہا جو کہ سنہ 2016 میں انڈیا کی جانب سے کیے جانے والے سرجیکل سٹرائک کے دعوے کی جانب اشارہ تھا۔

میڈیا تجزیہ نگار عدنان رحمت نے کہا کہ پاکستانی میڈیا نے 'جنگی جنون پھیلانے کے مقابلے امن کے پیغام پھیلانے ’کا کردار ادا کیا لیکن ایسا انھوں نے پاکستانی حکام کی جانب سے کشیدگی میں اضافے کے خدشے کے اظہار کے بعد کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

وہ کیا رپورٹ کر رہے تھے؟

رجنی ویدیاناتھن: جہاں ٹی وی نیٹ ورکس ورچوئل ریئلٹی میزائلوں کے ساتھ غصے کے عالم میں عارضی 'وار روم' سے خبریں نشر کر رہے تھے وہیں نہ صرف ان رپورٹروں پر بلکہ جو وہ پیش کر رہے تھے ان کے بارے میں بھی سوال کھڑے ہو رہے تھے۔

دی پرنٹ کی میڈیا ایڈیٹر شیلجا باجپئی نے کہا کہ انڈیا کے چینلوں نے حکومت کے نقطۂ نظر پر سوال کرنے یا انھیں چیلنج کرنے کے بجائے انھیں اٹھانے میں دیر نہیں لگائی۔ انھوں نے کہا: 'بہت حد تک میڈیا نے کوئی بھی جائز سوال پوچھنا بند کر دیا ہے۔'

در حقیقت حالیہ برسوں میں چند مبصرین نے انڈیا کے میڈیا میں اہم سوالات پوچھنے کی کمی کی شکایت کی ہے۔

شیلجا باچپئی نے کہا کہ 'انڈین پریس میں بہت سوں کے لیے سرکاری بیان کو چیلنج کرنے کا خیال ہی غدار ہونے کے مترادف ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ انٹیلیجنس کی کمیاں تھیں لیکن کوئی بھی اس پر سوال نہیں کر رہا ہے۔'

دفاع اور سائنس کے سینیئر صحافی پلّو باگلا اس سے متفق ہیں۔ انھوں نے کہا: 'جنگ میں پہلا نقصان ہمیشہ سچی معلومات کا ہوتا ہے۔ بعض اوقات حب الوطنی کے جوش میں حقیقت دھندلا جاتی ہے۔'

یہ تبصرہ صرف انڈیا یا حالیہ زمانے کے لیے درست نہیں ہے۔ سنہ 2003 کی عراق جنگ کے دوران مغربی صحافی اپنے ملک کی افواج کے ساتھ چپکے رہتے تھے اور بہت بار انھی کے بیان کی رپورٹنگ کرتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PLANET LABS INC./HANDOUT VIA REUTERS

سکندر کرمانی: پاکستان میں عوام اور میڈیا دونوں نے بالاکوٹ میں ہلاکتوں پر انڈیا کے دعوے پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا۔ انڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ جیش محمد کے تربیتی کیمپ پر حملے کے دوران ان کے بہت سے جنگجو ہلاک ہوئے ہیں۔

پاکستانی ٹی و اینکر حامد میر نے اس علاقے کا دورہ کیا اور کہا: 'ہم نے وہاں (جنگجوؤں کا) نہ کوئی بنیادی ڈھانچہ دیکھا۔۔۔ نہ کوئی لاش دیکھی، نہ کوئی جنازہ۔'

'در حقیقت' قدرے توقف کے بعد 'ہم نے وہاں یہ لاش دیکھی۔۔۔ یہ کوا۔'

کیمرہ نیچے کی طرف چلا جہاں ایک کوا مردہ پڑا تھا جبکہ حامد میر نے ناظرین سے پوچھا کہ آیا یہ کوا 'دہشت گرد جیسا نظر آتا ہے یا نہیں؟'

بہر حال کسی شدت پسند تنظیم کے تربیتی کیمپ کو نشانہ بنانے کے انڈین دعووں کے شواہد نہیں ہیں لیکن بین الاقوامی میڈیا کے نمائندوں نے جن میں بی بی سی بھی شامل ہے وہاں ایک مدرسے کی شواہد دیکھے جو کہ جیش محمد سے منسلک ہے۔

سائن پوسٹ کی ایک تصویر بھی سوشل میڈیا پر گردش کرتی نظر آئی جس میں مدرسہ جانے کے راستے کی نشاندہی تھی۔ اس میں یہ بیان کیا گيا کہ یہ مدرسہ مسعود اظہر کی نگرانی میں چلتا ہے۔ مسعود اظہر کو جیش محمد تنظیم کا بانی کہا جاتا ہے۔

سائن پوسٹ کی موجودگی کی تصدیق بی بی سی اور الجزیرہ کے رپورٹروں نے کی لیکن جب تک روئٹرز کے نمائندے وہاں جاتے ہیں وہ سائن پوسٹ وہاں موجود نہیں تھا۔ اس کے باوجود اس مدرسے کے حوالے سے اور اس کے رشتے کے بارے میں پاکستانی میڈیا میں کوئی کوریج نہیں ہوئی۔

عدنان رحمت نے بی بی سی کو بتایا کہ 'مدرسے کی حیثیت پر آزادانہ طور پر پوری طرح سے جانچ کرنے پر کوئی زور نہیں دیا گیا۔'

پاکستان میں شدت پسند گروپ اور انٹیلیجنس سروسز کے درمیان مبینہ تعلقات پر رپورٹنگ کرنے کو خطرے کے نشان کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ صحافی کو اپنی جان کا ڈر ہوتا ہے جبکہ ٹی وی چینل اور اخبار کے مدیروں کو پتہ ہے کہ اگر انھوں نے کوئی بھی ایسی چیز شائع یا پیش کی جسے 'ملک مخالف' سمجھا جائے تو ان پر شدید دباؤ آ جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

کون بہتر رہا: خان یا مودی؟

رجنی ودیاناتھن: چند مہینوں میں عام انتخابات کے پیش نظر وزیر اعظم نریندر مودی اپنی انتخابی مہم میں مشغول رہے اور اپنی بعض تقاریر میں اس بحران کا ذکر ضرور کیا۔ لیکن انھوں نے اس کے متعلق قوم کے نام خطاب یا کسی پریس کانفرنس کے ذریعے براہ راست بات نہیں کی۔

اس میں حیرت کی بات بھی نہیں۔ مودی شاذ و نادر ہی پریس کانفرنس کرتے ہیں یا پھر میڈیا کو انٹرویو دیتے ہیں۔ جب خودکش حملے کی خبر آئی تو مودی کو ایک فوٹو شوٹ میں مصروف رہنے پر تنقید کا نشانہ بنایا گيا۔

حزب اختلاف کی اہم پارٹی کانگریس کے صدر راہل گاندھی نے انھیں 'پرائم ٹائم منسٹر' کہتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہ اس کے بعد تین گھنٹے تک فلمنگ میں مشغول رہے۔ وزیر اعظم مودی کے فوجی جواب کو ووٹ حاصل کرنے کا حربہ کہا گیا ہے۔

اپنی ریاست گجرات کی ایک ریلی میں نریندر مودی نے ناقدوں کی پروا کیے بغیر طنز کیا کہ 'وہ سب مودی پر سٹرائک کرنے میں مشغول ہیں جبکہ مودی نے دہشت گردی پر حملہ کر رکھا ہے۔'

سکندر کرمانی: پاکستان میں ناقدین سے بھی عمران خان کو پذیرائی ملی۔ سرکاری ٹی وی پر دو بار اور پارلیمان میں ایک بار انھوں نے اس کے متعلق بات کی جس میں وہ پرعزم نظر آئے اور انھوں نے انڈیا کو مذاکرات کی دعوت بھی دی۔

ان کے رویے نے پاکستانی میڈیا کی کوریج کے لہجے کو نسبتا نپا تلا رکھا۔

انڈین پائلٹ کو چھوڑنے کے عمران خان کے فیصلے کی وجہ سے اسلام آباد کے حکام نے اپنے آپ کو زیادہ سمجھدار فریق کے طور پر پیش کیا اور امن کی پیش قدمی کی۔

اسی بارے میں