انڈیا، پاکستان کشیدگی کے باوجود کرن اور پروندر سنگھ کے دلوں کے تار جڑ گئے

کرن اور پروندر تصویر کے کاپی رائٹ BBC/AVINASH KAMBOJ

انڈیا اور پاکستان کے درمیان الجھے رشتوں کے تار کو سلجھانے میں ابھی قدرے وقت درکار ہے لیکن سرحد کے دونوں جانب رہنے والے دو افراد کے دل کے تار جڑ گئے ہیں۔

یہ محبت کہانی پاکستان میں سیالکوٹ کی ایک رہائشی کرن سرجیت اور انڈیا میں انبالہ کے رہائشی پروندر سنگھ کی ہے۔ 14 فروری کو ہونے والے پلوامہ حملے کے بعد ان کی شادی تاخیر کا شکار ہو گئی۔ اب تمام کوششوں کے بعد انھوں نے ہفتے کے روز اپنی محبت کو شادی کا نام دے دیا۔

دونوں کی شادی سکھ مذہب کے رسم و رواج کے مطابق انڈیا کے شہر پٹیالہ کے ایک گرودوارے میں ہوئی۔

یہ بھی پڑھیے

’انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں شادی نہ کریں‘

کراچی کی دلہن، انڈیا کی قومی خبر بن گئی

’پاکستانی سہیلی کے بغیر شادی نہیں‘

پلوامہ حملے کے بعد یہ پہلی شادی ہے جو دونوں ممالک کے درمیان ہوئی ہے۔ ان دونوں خاندانوں کے لوگ چاہتے ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات جلد از جلد بہتر ہوں۔

اس شادی میں میڈیا بھی بڑی تعداد میں موجود تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC/AVINASH KAMBOJ

ان کی ملاقات کیسے ہوئی؟

کرن اور پروندر کی پہلی ملاقات سنہ 2014 میں ہوئی۔ اس وقت کرن کی عمر 27 سال اور پروندر کی 33 سال تھی۔ تقسیم ہند کے وقت کرن کا خاندان پاکستان منتقل ہو گیا تھا۔ اب کرن 45 دنوں کے ویزے پر انڈیا آئی ہوئی ہیں۔ ان کا ویزہ جون سنہ 2019 کو ختم ہو جائے گا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پروندر نے کہا کہ اب وہ کرن کو ہندوستانی شہریت دلانے کے لیے حکومت ہند کے محکمے میں درخواست دیں گے۔

پروندر نے بی بی سی کو بتایا کہ ان دونوں کے خاندانوں نے سنہ 2016 میں ہی شادی کا منصوبہ بنایا تھا جس کے تحت ان کے خاندان کو شادی کے لیے پاکستان جانا تھا لیکن پاکستانی ہائی کمیشن نے ان کا ویزا منسوخ کر دیا تھا۔

انھوں نے بتایا: 'اس کے بعد دونوں خاندانوں نے فیصلہ کیا ہے کہ کرن اور ان کے اہل خانہ انڈیا آئيں گے تو شادی ہوگی۔ اس طرح ہم مل گئے۔'

کرن پاکستان کے ایک پرائیوٹ سکول میں معلمہ ہیں۔ انھوں نے کہا: 'ہماری شادی امن کے مثبت پیام کی علامت ہے۔'

دلھن کے والد سرجیت چیمہ نے کہا 'ہمارے بچوں کی شادی بھی دونوں حکومتوں کو ایک پیغام دیتی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے باوجود بھی لوگ ملنا چاہتے ہیں اور تعلقات کو بہتر بنانے میں مصروف ہیں۔ اگر امن بحال ہو تو یہ دونوں ممالک کے لوگوں کے حق میں بہتر ہوگا۔'

اسی بارے میں