انڈیا کی آزادی کے لیے لڑنے والی فریدہ بیدی کون تھیں؟

فریدہ بیدی

فریدہ بیدی نے ایک غیر معمولی زندگی گزاری۔ وہ برطانیہ کے ایک چھوٹے سے قصبے میں پیدا ہوئیں۔ اپنی محبت کے حصول کے لیے فریدہ انڈیا چلی گئیں اور وہاں جا کر انھوں نے آزادی کی تحریک میں حصہ لیا۔

فریدہ بالی وڈ اداکار کبیر بیدی کی والدہ تھیں۔ کبیر کے علاوہ ان کے دو اور بچے بھی ہیں۔ سوانح نگار اینڈریو وائیٹ ہیڈ نے ان کی غیر معمولی زندگی کے بارے میں لکھا ہے۔

`کچھ چیزیں لیبل، رنگ اور تعصب سے زیادہ گہری ہوتی ہیں اور محبت ان میں سے ایک ہے۔`

یہ تعصب کو زیر کر کے انڈین سکھ مرد سے شادی کرنے والی برطانوی خاتون فریدہ بیدی کے الفاظ ہیں جنھوں نے آگے چل کر انڈین معاشرے میں عورت اور بیوی کے کردار سے جُڑے خیالات کو چیلنج کیا۔

یہ بھی پڑھیے۔

برطانیہ، ہندوستان، اور پاکستان کا لاوارث سپاہی

’فضائی بمباری سے بےمثال تباہی‘

چی گویرا کی پچاسویں برسی کی تقریبات

انڈیا میں کمیونسٹ سیاست کا خاتمہ

فریدہ اور ان کے بوائے فرینڈ بابا پیارے لعل بیدی (جنھیں ان کے دوست بی پی ایل کہتے تھے) کی ملاقات آکسفورڈ یونیورسٹی میں ہوئی جہاں پر وہ دونوں زیرِ تعلیم تھے۔

یہ سنہ 1930 کے آغاز کی بات ہے جب نسلی تفرقے کی وجہ سے مختلف نسلوں کے لوگوں کے درمیان پیار محبت کے قصے اتنے ہی نایاب تھے جتنا فریدہ جیسے حالات رکھنے والے لڑکی کے لیے ٹاپ یونیورسٹی میں داخلہ لینا۔

وہ برطانیہ کے شہر ڈربی میں ایک دکان کے اوپر والے مکان میں پیدا ہوئیں جہاں ان کے والد زیورات اور گھڑیاں مرمت کرنے کا کاروبار کرتے تھے۔

فریدہ کو اپنے والد بمشکل یاد تھے۔ ان کے والد پہلی جنگِ عظیم لڑنے کے لیے فوج میں بھرتی ہوئے اور مشین گن کور میں خدمات انجام کیں جہاں جانی نقصان اتنا زیادہ ہوتا تھا کہ یہ ’سوسائیڈ کلب‘ کے نام سے مشہور تھی۔ ان کا انتقال فرانس میں اس وقت ہوا جب فریدہ صرف سات سال کی تھیں۔

وہ والد کی موت کو یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں ’اس موت نے میرے پورے بچپن کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔‘ اس موت نے ان کی سیاسی وفاداریاں طے کیں اور عمر بھر روحانیت کی تلاش کا حوصلہ دیا۔

فریدہ نے ایک بار کہا کہ آکسفورڈ میں گزرنے والے برسوں نے اُن کے لیے دنیا کے دروازے کھول دیے۔ وہ اس ’ڈپریشن جینیریشن‘ کا حصہ تھیں جس میں عالمی بحران، بے روزگاری اور فاشزم کے عروج کے وقت وہ اور ان کے ہم عمر طالبعلم تھے۔

انھوں نے کالج میں قدرتی طور پر باغی لڑکیوں کے ساتھ دوستی کی اور ان کے ساتھ لیبر کلب اور کمیونسٹ کلب کی میٹنگز میں شمولیت بھی کی۔

تجسس اور ریاست کے خلاف کوششیں کرنے والے لوگوں کے لیے ہمدردی کا جذبہ لے کر وہ بھی آکسفورڈ مجلس کی ہفتہ وار میٹنگز میں شامل ہونے لگیں جہاں چھوٹی تعداد میں یونیورسٹی کے انڈین طالب علم اپنے ملک کی آزادی کے لیے جدوجہد کر رہے تھے۔

خوبصورت اور ہنس مُکھ پنجابی بی پی ایل بیدی وہاں باقاعدگی سے آتے تھے۔ دوستی، دانشمندانہ تبادلہ خیال میں بدل گئی اور چند ہی ماہ میں فریدہ اور بی پی ایل ایک جوڑا بن گئے۔

سنہ 1930 کی دہائی کے آغاز میں آکسفورڈ میں خواتین کے کالج سیکس میں کافی دلچسپی رکھتے تھے، یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ وہ اس کی روک تھام میں دلچسپی رکھتے تھے۔ اگر کوئی مرد طالب علم عورتوں کے سٹوڈنٹ روم میں چائے پینے کے لیے جاتا تو ایک نگران کا وہاں موجود ہونا لازمی ہوتا تھا، دروازہ مکمل طور پر کھلا ہوا ہوتا تھا۔

فریدہ کے کالج کی انتظامیہ نے ان کا اور بی پی ایل کا رشتہ ختم کروانے کی بھرپور کوشش کی۔ انھیں نگران کی غیر موجودگی میں بی پی ایل سے ملاقات کرنے کی وجہ سے سزا دی گئی وہ قائل تھیں کہ یہ نسلی امتیاز کا معاملہ تھا۔

لیکن اپنی ساتھی طالبات میں سے وہ خوش قسمت تھیں۔ اپنے زمانے کی بڑی برطانوی سیاست دان باربرا کاسل اس وقت بہت خوش ہوئیں جب فریدہ نے انھیں بتایا کہ وہ اپنے بوائے فرینڈ سے شادی کرنے کی خواہشمند ہیں۔

باربرا نے ان سے کہا ’خدا کا شکر ہے۔ اب تم کم از کم شہر کے مضافات میں خاتون خانہ تو نہیں بنو گی۔‘ البتہ فریدہ کی والدہ کو چیزیں مختلف نظر آئیں۔ ان کے خاندان نے دو ٹوک الفاظ میں منع کر دیا لیکن ایک دن ڈربی آ کر بی پی ایل نے ان کے والدین کا دل موہ لیا۔

فریدہ کے مطابق منگنی کی وجہ سے آکسفورڈ میں تھوڑی بہت سنسنی پھیل گئی۔ وہ کم بیانی کر رہی تھیں۔ ان کا ماننا تھا کہ وہ انڈین ہم جماعت کے ساتھ شادی کرنے والی پہلی آکسفورڈ کی انڈر گریجویٹ طالب علم تھیں۔ کچھ لوگوں نے اپنی ناپسندیدگی چھپانے کی کوشش بھی نہیں کی۔ شادی کروانے والے رجسٹرار نے جوڑے کے ساتھ ہاتھ ملانے تک سے انکار کر دیا۔

شادی کے فوراً بعد ہی فریدہ نے خود کو انڈین مان لیا اور وہ اکثر انڈین طرز کے ملبوسات زیب تن کرتی تھیں۔

ایک سال بعد میاں بیوی اپنے چار ماہ کے بچے رنگا کو لے کر بحری جہاز کے دو ہفتے کا سفر کر کے بذریعہ اٹلی سے بمبئی آئے۔

فریدہ یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں ’بچے کو دودھ پلانے کی وجہ سے اپنے لیے دودھ حاصل کرنا ایک ڈراؤنے خواب کی طرح تھا۔ مجھے یاد ہے کہ رات کے وقت بحری جہاز کے باورچی خانے میں لاکھوں لال بیگ نکل آتے تھے۔ میں اندر جا کر دودھ حاصل کرنے کی کوشش کرتی تھی۔‘

زمانہ طالب علمی میں سرگرم رہنے کی وجہ سے برطانوی حکام نے جوڑے کو انقلابی اور ممکنہ طور پر شر پسند قرار دے دیا تھا۔ جب وہ بمبئی پہنچے تو سامان میں بائیں بازو کی سیاست کے پراپیگنڈے کی موجودگی کا کہہ کر ان کے بیگ اور سوٹ کیس کی سات گھنٹے تک تلاشی لی گئی۔

فریدہ نے کہا ’حتیٰ کہ رنگا کی ننھی نیپی اتار کر اس کی بھی تلاشی لی گئی کیونکہ ان کا خیال تھا کہ میں اس میں پیغامات لے کر آ رہی تھی۔‘

فریدہ کی شادی کے بعد اصل امتحان آنا تو ابھی باقی تھا۔ اپنی انڈین ساس اور خاندان میں بھابو جی کے نام سے جانی جانے والی بیوہ اور خاندان کی خاتون سربراہ سے پہلی ملاقات ابھی باقی تھی۔

بمبئی سے دو دن کا لگاتار سفر کر کے میاں بیوی اور بچہ آدھی رات کو پنجاب کے ایک چھوٹے سے گاؤں کپور تھلہ میں اپنے خاندانی گھر جا پہنچے۔ فریدہ نے ایک سفید رنگ کی سوتی ساڑھی پہن رکھی تھی۔ فریدہ کے مطابق ساڑھی ’سفر کرنے کے لیے موزوں لباس نہیں تھا اور رنگا کو دودھ پلانے کی وجہ سے زیادہ دشواری ہوئی۔‘

بی پی ایل نے اپنی والدہ کے پاؤں چھوئے۔ فریدہ نے کہا ’میں نے ان کی دیکھا دیکھی وہی کیا اور مجھے تھوڑی ہچکچاہٹ ہوئی لیکن ان (بھابو جی) کی آنکھوں میں آنسو اور چہرے پر مسکراہٹ دیکھ کر میری تمام جھجک غائب ہو گئی اور انھوں نے ہمیں اور بچے کو ایسے گلے لگایا جیسے سارا پیار وہ اسی وقت کر لیں گی۔‘

حالانکہ فریدہ اپنے انڈین خاندان کا حصہ بننا چاہتی تھیں، ان کا رہن سہن بالکل بھی روایتی نہیں تھا۔ سیاسی نظریے کے پیشِ نظر بی پی ایل نے خاندانی دولت میں اپنے حصے میں سے ایک پیسہ تک نہ لیا۔

انھوں نے پنجاب کے سب سے بڑے شہروں میں سے ایک لاہور کی کچی بستی میں اپنا گھر بنایا جہاں پانی اور بجلی کا کوئی انتظام نہیں تھا۔ انھوں نے چند مرغیاں اور ایک بھینس رکھی۔ یہ وہ زندگی تو قطعاً نہیں تھی جس کا تصور فریدہ نے کیا ہو گا اور نہ ہی انھیں یہ خیال آیا ہو گا کہ وہ اپنی ساس کے ساتھ گھر کی ذمہ داریاں بانٹیں گی۔

بیدی خاندان کے گھر آنے جانے والے ایک مہمان سوم آنند کہتے ہیں ’میں نے کھبی نہیں دیکھا کہ ایک سفید فام عورت عام انڈین بہو بننے کی کوشش کر رہی ہو۔ مجھے حیرت ہوتی تھی جب (فریدہ) بیدی صبح سویرے بھابو جی کی جھونپڑی میں ان کے پاؤں چھونے کے لیے آتی تھیں۔ وہ گھریلو معاملات میں بوڑھی ساس کی روک ٹوک کو برا نہیں سمجھتی تھیں۔ ان کی ساس بھی اتنے ہی بڑے دل کی مالک تھیں۔ اپنی قدامت پرستی کے باوجود انھوں نے بنا کچھ بولے ایک عیسائی عورت کو اپنے خاندان میں جگہ دی تھی۔‘

جب دوسری جنگِ عظیم چھڑی تو فریدہ اور بی پی ایل دونوں کو شدید غصہ آیا کہ جنگ میں برطانیہ کی مدد کرنے کے لیے انڈیا کو گھسیٹا جا رہا ہے۔ پنجاب میں فوجی بھرتیوں کو سبوتاژ کرنے سے روکنے کے لیے بی پی ایل کو صحرا میں ایک قید خانے میں رکھا گیا۔ ملک کے لیے فریدہ نے اپنا ایک قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا۔

انھوں نے بطور ستیا گراہی یعنی سچ تلاش کرنے والی، رضاکار کے طور پر کام کیا اور مہاتما گاندھی کی طرف سے مختص ایمرجنسی میں جنگی قوتوں کا مقابلہ کرنے والے لوگوں کے گروہ کا حصہ بنیں۔

وہ اپنے شوہر کے گاؤں ڈیرا بابا نانک گئیں اور اعلان کیا ’جب تک انڈیا جمہوری نہیں ہو جاتا تب تک قانون توڑیں اور لوگوں سے اپیل کریں کہ وہ عسکری کوششوں میں حصہ نہ لیں۔‘

حکام کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ احتجاج کرنے والی سفید فام عورت سے کیسے نمٹیں۔ انڈین پولیس افسر کی جانب سے سفید فام عورت کو حراست میں لینے کو موزوں نہ سمجھ کر حکام نے فوراً انگریز پولیس انسپکٹر کو گاؤں بھیجا۔

اسی صبح فریدہ کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا۔ انھوں نے اپنی پیشی کا خلاصہ کچھ یوں بیان کیا:

پیشی 15 منٹ میں ختم ہو گئی۔ میز کی دوسری طرف بیٹھا مرد ابھی بھی کافی جوان تھا اور اسے دیکھ کر یوں لگ رہا تھا جیسے وہ آکسفورڈ سے پڑھ کر آیا ہو۔ اس کا چہرہ لال ہو رہا تھا۔

پولیس افسر زیر لب بولا ’مجھ پر بھی یہ اتنا ہی ناگوار گزر رہا ہے جتنا آپ پر۔‘

`فکر مت کریں۔ مجھ پر یہ بالکل بھی ناگوار نہیں گزر رہا۔‘

’کیا آپ چاہتی ہیں کہ آپ کو سفید فام خاتون کو دی جانے والی مراعات ملیں؟‘

’مجھے انڈین خاتون سمجھیں گے تو میں کافی مطمئین ہو جاؤں گی۔‘

انھیں چھ ماہ کی قید بامشقت دے کر جیل بھیج دیا گیا جو ان کے بقول انتقامی تھی۔

یہ ان کی تقدیر تھی کہ وہ بحیثیت برطانوی خاتون انڈیا کی آزادی کا مطالبہ کر کے رضا مندی سے جیل جا کر تاریخ رقم کریں۔

آزادی کے بعد بی پی ایل اور فریدہ کی سیاسی شہرت قائم رہی اور کشمیر منتقلی کے بعد فریدہ نے بائیں بازو کی جماعت کی عورتوں کی ملیشیا میں شمولیت اختیار کی اور وہاں پاور میں آنے والے کٹر قوم پرستوں کے ساتھ کام کیا۔

1950 کی دہائی میں اقوام متحدہ کی طرف سے برما میں مشن کے دوران ان کی زندگی مکمل طور پر بدل گئی اور وہ راہبہ بن گئیں۔

جب سنہ 1959 میں چین کی طرف سے ڈھائے جانے والے مظالم کے پیش نظر تبت کے ہزاروں رہائشی ہمالیہ کے آر پار فرار ہوئے تو فریدہ نے ان ’بہادر اور حیرت انگیز‘ پناہ گزینوں کی مدد کرنے کے لیے اپنا آپ وقف کر دیا۔

وہ تبتی روحانیت میں ڈھل گئیں۔ والدہ کا کردار ادا کرنے کے بعد وہ بدھ مت کی پیروکار بن گئیں۔ 60 سال کی عمر کے بعد انھوں نے دنیا بھر میں بدھ مت کی تعلیمات پھیلانے کے لیے سفر کیا لیکن کبھی مغرب میں رہنے کے لیے واپس نہیں گئیں۔

انھوں نے ایک بار کہا ’انڈیا میری نسوانیت اور زوجیت ہے۔ برطانیہ نے میری پرورش کی، مجھے سانچے میں ڈھالا اور مجھے شعور دیا لیکن پھر بھی میں انڈین طرز میں، انڈین کپڑے پہن کر، انڈین شوہر اور بچے کے ساتھ انڈین زمین پر رہ رہی ہوں اور مجھے اپنے آپ میں اور نئے اپنائے ہوئے ملک کے درمیان ضروریات میں فرق یا زرا سی بھی رکاوٹ محسوس نہیں ہو رہی۔‘

عمر بھر فریدہ نے نسل، مذہب، قوم اور جنس کی قید میں نہ رہنے کا تہیہ کیا۔ وہ رواج اور حیرت انگیز توقعات کو چیلینج کرنے میں خوشی محسوس کرتی تھیں۔ یہی باتیں ان کی کہانی کو پُرکشش بناتی ہیں۔

اسی بارے میں