انڈیا پاکستان کشیدگی کا کشمیر پر اثر: اگر سیاح نہ آئے تو کشمیری اپنے بچوں کو کیسے کھلائیں گے؟

کشمیر

پانچ نسلوں سے کشمیری دستکاریوں کا کاروبار کرنے والے خاندان کے فرد شکیل احمد کہتے ہیں کہ اُن کا روزگار سیاحت پر منحصر ہے۔ ’پلوامہ میں حملہ ہوا، پھر سرحدوں پر لڑائی، پھر جو میڈیا پر ہوا اُس نے سیاحت کی کمر توڑ دی۔‘

شکیل عالمی شہرت یافتہ جھیل ڈل کے اندر ایک ہاوس بوٹ میں روایتی کشمیری ملبوسات فروخت کرتے ہیں اور اُن کے خریدار وہی سیاح ہوتے ہیں جو جھیل کی سیر کرتے ہیں یا دیگر ہاوس بوٹوں میں مقیم ہوتے ہیں۔

شکیل کہتے ہیں کہ اب کی بار سیاحت کو شدید ترین دھچکہ لگا ہے۔ ’اس بار سیاح نہ آئے تو ہم فاقہ کشی پر مجبور ہوجائیں گے، سیاح نہ آئے تو بچوں کیا کھلائیں گے۔‘

یہ بات قابل ذکر ہے کہ کشمیر کی سیاحت گذشتہ تیس برس کی شورش سے بے حد متاثر ہوئی تاہم پچھلے چند برسوں کے دوران بڑی تعداد میں انڈین شہریوں نے کشمیر کی سیر کی۔

یہ بھی پڑھیے

مسلم ہندو یاری بٹوارے پر بھاری

کشمیر میں محفوظ سیاحت کیسے ممکن ہے؟

ہاؤس بوٹس کے بغیر سری نگر کی ڈل جھیل، جیسے زیور بنا دلھن

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ برس پچاس ہزار غیرملکی سیاحوں سمیت آٹھ لاکھ سیاحوں نے کشمیر کی سیر کی۔ فروری میں جب پلوامہ کےلیتہ پورہ ہائی وے پر انڈین نیم فوجی فورس سی آر پی کے اہلکاروں سے بھری بس کے ساتھ عادل رشید نامی خودکش بمبار نے دھماکہ خیز مواد سے لدی ہوئی کار ٹکرا دی تو چالیس سے زیادہ اہلکار ہلاک ہوگئے۔

اس واقعے کی ذمہ داری جیش محمد نے قبول کی جس کے بعد انڈیا اور پاکستان کے درمیان فوجی تناؤ بڑھ گیا۔

دوسری طرف انڈیا بھر میں پاکستان اور کشمیریوں کے خلاف جذبات کی ایک لہر پھیل گئی جس میں انڈیا کی مختلف ریاستوں میں تعلیم اور تجارت کے سلسلے میں مقیم سینکڑوں کشمیریوں کو ہراساں کیا گیا جس کے بعد وہ واپس کشمیر لوٹے۔ اس ساری صورتحال سے میڈیا پر کشمیر کی جو شبیہ اُبھری اس کی وجہ سے انڈین سیاحوں نے کشمیر کے بجائے دوسرے مقامات کا رُخ کیا۔

یہی وجہ ہے کہ اس سال کشمیر میں بہار کی آمد پر وادی کے دلکش نظارے سیاحوں کے منتظر ہیں۔

کشمیر میں سیاحت کے شعبہ سے جڑے حکام کا کہنا ہے کہ سیاحت کشمیری معیشت کا اہم حصہ ہے اور جموں کشمیر کے جی ڈی پی میں اس کا آٹھ فی صد حصہ ہے۔ گذشتہ تیس برس کی شورش کے دوران کشمیر کی سیاحتی صنعت ڈوبتی اُبھرتی رہی، لیکن پلوامہ حملے کے بعد پہلی مرتبہ اسے زبردست دھچکہ لگا ہے۔ محکمہ سیاحت کے مطابق کشمیر میں چالیس ہزار ہوٹل اور ایک ہزار ہاوس بوٹ ہیں۔ کل ملا کر اس صنعت کے ساتھ بالواسطہ یا بلاواسطہ پانچ لاکھ افراد کا روزگار وابستہ ہے۔

ہوٹل مالکان کی انجمن کے ترجمان مشاق چایا کا کہنا ہے کہ وہ مختلف ریاستوں کا دورہ کریں گے اور وہاں لوگوں کو یقین دلائیں گے کہ کشمیر میں اب حالات پرسکون ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پلوامہ حملے کے بعد مارچ اور اپریل کے لیے کی گئی زیادہ تر بکنگز منسوخ کی گئی ہیں۔

ہوٹل مالکان ہوں، شکارے والے ہوں، یا شکیل جیسے ہزاروں تاجر، سیاحت سے جڑے یہاں کے لاکھوں لوگ توقع کرتے ہیں کہ کم از کم اگلے ہونے والے انتخابات کے بعد انڈیا اور پاکستان کے درمیان مفاہمت ہوجائے گی اور کشمیرایک بار پھر سیاحوں سے چہک اُٹھے گا۔

اسی بارے میں