ہولی کے دن انڈیا میں ایک مسلمان خاندان پر تشدد کا واقعہ، ویڈیو وائرل ہو گئی

دلشاد اور ان کا بھائی

دلی سے ملحق شہر گروگرام (گڑگاؤں) کے بھوپ سنگھ محلے میں ایک مسلمان خاندان کو تشدد کا نشانہ بنائے جانے کی ویڈیو وائرل ہوگئی ہے۔

اس ویڈیو میں ایک گھر کے افراد کو بہت سے نوجوان لاٹھیوں اور ڈنڈوں سے تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہ ہندوؤں کے تہوار ہولی کے دن کا واقعہ ہے جس دن روایتی طور پر کہا جاتا ہے کہ 'دشمن بھی گلے مل جاتے ہیں۔'

انڈیا میں حزب اختلاف کے رہنما اور کانگریس پارٹی کے صدر راہل گاندھی نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا: 'ہر محب وطن ہندوستانی گروگرام میں شر پسندوں کے ہاتھوں ایک خاندان کے لوگوں کی بے رحمی کے ساتھ پٹائی پر متنفر ہے۔ آر ایس ایس/ بی جے پی سیاسی اقتدار کے لیے تعصب اور نفرت کو ہوا دے رہے ہیں۔ یہ واقعہ ہمیں اس کے سنگین نتائج پر متنبہ کرتا اور ان کی حکمت عملی کے تاریک پہلو کو دکھاتا ہے۔'

جبکہ معروف صحافی راجدیپ سردیسائی نے اس ویڈیو کے ساتھ لکھا: 'ہم سب کو اپنا سر شرم سے جھکا لینا چاہیے۔ نفرت کی سیاست اور اس کی پروپگينڈا مشین ایسا ہی کرتی ہے۔ ہم سب شرمندہ ہیں۔'

پیس اینڈ کنفلِکٹ ریسرچ کے پروفیسر اشوک سوائیں نے لکھا: 'کیا ہندوستان خانہ جنگی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ سنگھی بے عقل (مودی کے ایس ایس) انڈیا کے دارالحکومت کے علاقے میں ایک مسلم گھر میں گھس کر انھیں پیٹتے ہیں اور انھیں پاکستان جانے کے لیے کہتے ہیں۔'

یہ بھی پڑھیے

انڈیا: مسلمان اپنی نماز کا انتظام خود کریں

’موسیقی پر تنازع‘، مسلمان نوجوان کو مار ڈالا

پولیس، تفتیشی ادارے اعتبار کھو رہے ہیں

انڈیا: ٹرین میں ایک اور مسلم خاندان پر حملہ

’گائے کا گوشت کھانے پر مسلمان لڑکوں کو نشانہ بنایا‘

بی بی سی کی کیرتی دوبے نے اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد وہاں کا دورہ کیا تو انھیں چارپائی پر لیٹے محمد ساجد نے بتایا: 'میرے سامنے میرے چھوٹے چھوٹے بچوں کو مارا گیا اور میں ان کو پٹتا ہوا دیکھتا رہا۔ میں کچھ نہ کر سکا۔ میں یہاں نہیں رہنا چاہتا۔ اس مکان کے لیے میں نے لوگوں سے قرض لیا لیکن اب میں ڈر کے ساتھ ساری عمر نہیں رہنا چاہتا۔'

رنگ، صلح و آشتی اور محبت کے تہوار ہولی کے دن ساجد کے اہل خانہ نے جو منظر دیکھا وہ اسے شاید کبھی نہ بھول سکے۔ پولیس اس معاملے کو فرقہ وارانہ کہنے سے گریز کر رہی ہے لیکن جس طرح سے انھیں مذہب کی بنیاد پر گالیاں دی گئیں اور انھیں پاکستان جانے کے لیے کہا گیا اس سے یہ بظاہر فرقہ وارانہ واقعہ ہی نظر آتا ہے۔

دی ہندو اخبار نے ایف آئی آر کے مطابق شکایت کرنے والوں نے بتایا کہ بغیر کسی اشتعال کے انھیں گالیاں دی گئيں اور کہا گیا کہ وہ پاکستان جا کر کھیلیں۔ جب دلشاد کے چچا نے بیچ بچاؤ کی کوشش کی تو ایک موٹر سائیکل سوار انھیں تھپڑ مار کر بھاگ گیا۔ پھر اپنے دوستوں کے ساتھ واپس آیا اور دلشاد کے گھر زبردستی گھس گیا۔

اس پرتشدد واقعے کے شکار محمد ساجد کے بھتیجے دلشاد نے بتایا کہ جمعرات کی شام پانچ ساڑھے پانچ بجے نیا گاؤں سے 25-30 لوگ لاٹھی، ڈنڈوں، بھالوں اور نیزوں کے ساتھ ان کے گھر میں داخل ہوئے اور گھر میں موجود ساجد، دلشاد، سمیر اور شاداب سمیت 12 افراد کو تشدد کر کے شدید زخمی کر دیا۔ ساجد کے بیٹے شاداب کا فی الحال دلی کے صفدرجنگ ہسپتال کے ٹراما سینٹر میں علاج جاری ہے۔

ویڈیو میں خواتین کی چیخ و پکار سنی جا سکتی ہے۔ لوگ ان پر بھی تشدد کرتے نظر آتے ہیں۔ کچھ بچے چھت پر چھپتے نظر آتے ہیں جبکہ ایک لڑکی کی چیخ سنائی دیتی ہے۔

Image caption 21 سالہ دانستہ اپنے چچا کے گھر ہولی منانے آئی تھیں

21 سالہ دانستہ اپنے چچا کے گھر ہولی منانے آئی تھیں اور جب حملہ آور گھر میں گھسے تو وہ باورچی خانے میں تھیں اور ان پاس ان کے بھائی ارشاد کا موبائل فون تھا۔

دانستہ نے بی بی سی کو بتایا: 'جب وہ لوگ تشدد کر رہے تھے تو میرے ہاتھ میں فون تھا۔ مجھے خیال آيا کہ ویڈیو بنانی چاہیے۔ ہم بھائی بہن دوسری منزل کی چھت پر بھاگے۔ میں نے ویڈیو ریکارڈ کرنی شروع کی۔ جیسے ہی ان لوگوں کو پتہ چلا، وہ چلائے اس لڑکی کو فون کے ساتھ ہی پھینک دو۔ میں ڈر گئی۔ مجھے بس یہ فون بچانا تھا۔ میں نے پاس پڑی اینٹوں کے درمیان یہ فون چھپا دیا اور سوچا کہ مجھے مار بھی دیں گے تب بھی یہ فون ہمارا ثبوت ہو گا لیکن وہ سب دروازہ نہیں توڑ سکے۔'

گروگرام کے پولیس سربراہ منوج یادو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’یہ جرم ہے، فرقہ وارانہ فساد نہیں۔ یہ ایک خاندان پر پاس کے گاؤں کے رہنے والے ایک ذات کے لوگوں کی جانب سے حملہ ہے۔ ہم نے اس کا فوری نوٹس لیتے ہوئے چند لوگوں کو گرفتار بھی کیا ہے جبکہ 40 سے زیادہ جگہ چھاپے مارے ہیں۔ وہ سب لاپتہ ہیں۔ ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ سب کو شام تک گرفتار کر لیا جائے گا۔‘

کیا یہ فرقہ وارانہ معاملہ ہے کے جواب میں انھوں نے کہا: 'ہم اسے نظم و نسق کا معاملہ سمجھتے ہیں۔ کیونکہ وہ لوگ باغپت کے رہنے والے ہیں اور چند سالوں سے یہاں رہ رہے ہیں۔ وہ خوفزدہ ہیں، ہم نے وہاں پولیس تعینات کر رکھی ہے تاکہ انھیں حوصلہ ملے اور اس طرح کے واقعات دوبارہ نہ ہوں۔ ایک بار یہ معاملہ سلجھ جاتا ہے تو پھر ہم پاس کے گاؤں کے لوگوں کو بلاکر ان سے بات کریں گے کہ وہ معصوم اور تشدد کا شکار ہوئے ہیں لیکن میں کہوں گا کہ یہ منصوبہ بند نہیں تھا۔ پہلے دو لڑکے موٹر بائیک پر آئے تھے جن سے نوک جھونک ہوئی۔ ایک نے کرکٹ کھیلنے والے بچوں کو دھمکایا تھا جس پر ان کے چچا نے ایک کو تھپڑ رسید کر دیا۔ یہاں لوگوں میں احساس عزت بہت ہے۔ تم نے ہمیں مارا ہے ہم تمہیں سبق سکھائیں گے اور ایسا ہی وہاں ہوا۔'

تشدد کا شکار دلشاد نے اس حوالے سے بتایا: 'ہم سب گھر کے باہر کرکٹ کھیل رہے تھے۔ اتنے میں بائیک پر سوار دو لوگ آئے اور کہنے لگے 'ملّے یہاں کیوں کھیل رہا ہے پاکستان جا کر کھیل، ہم نے بیٹ اور بال انھیں دے دی۔ اتنے میں ساجد چچا آ گئے اور پوچھا کہ کیا ہو رہا ہے، اتنا سنتے ہی ایک بائیک سوار نے انھیں تھپڑ مار دیا، اس نے پوچھا تو کون ہے گھر کہاں ہے تیرا؟'

انھوں نے بتایا ہم یہیں رہتے ہیں۔ اس کے بعد ہم اپنے گھر چلے آئے، تھوڑی دیر بعد بائيک پر کچھ نوجوان آئے۔ اس نے چچا کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا یہ ہے اور اس کے اتنا کہتے ہی لوگوں نے ہمیں مارنا شروع کر دیا۔ ان لوگوں کے پیچھے کئی لوگ تھے۔ ان کے پاس لاٹھی، بھالے کے علاوہ پتھر بھی تھے۔ ان لوگوں نے گھر پر پتھراؤ شروع کر دیا۔'

محمد ساجد نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں فون کر کے مقدمہ واپس لینے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔

انھوں نے کہا: 'میں فیصلہ نہیں کروں گا۔ حکومت نے میری مدد نہیں کی تو میں اپنے بچوں کے ساتھ خود کشی کر لوں گا۔ میں یہ جگہ چھوڑ کر چلا جاؤں گا۔'

انھوں نے مزید کہا: 'ان لوگوں نے مجھ پر اتنے ڈنڈے برسائے کہ یاد کرکے بھی ڈر جاتا ہوں۔ ہم مسلمان ہیں اور انڈیا کے رہنے والے ہیں، پاکستان سے آخر ہمارا کیا رشتہ ہے؟'

نیا گاؤں ایک گوجر اکثریتی علاقہ ہے اور وہاں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ بچوں کی لڑائی تھی جسے ہندو مسلمان کا فرقہ وارانہ رنگ دیا جا رہا ہے۔

بی بی سی کی کیرتی دوبے کا کہنا ہے کہ جب نیا گاؤں کے لوگ متاثرہ خاندان پر معاملے کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کا الزام لگا رہے تھے اسی وقت ایک معمر شخص لکھن سنگھ نے کہا: 'اس ملک میں ہندو غدار ہیں اور مسلمان صحیح ہیں، ہندوؤں کی آواز ملک میں دبائی جا رہی ہے اور مسلمان جو کہیں وہ سچ ہے۔' یہ سن کر یہ سمجھ پانا مشکل تھا کہ کون اسے مذہبی رنگ دینا چاہ رہا ہے۔‘

ویڈیو دیکھ کر انڈیا میں ایک بار پھر یہ سوال پیدا ہوا ہے کہ انڈیا میں آخر اس طرح کے حملے کب رکیں گے۔ اس سے قبل گروگرام میں مسلمانوں کو جمعے کی نماز پڑھنے پر بھی پابندی لگائی گئی تھی اور نمازیوں کو چند شرپسند عناصر نے پارک سے بھگا دیا تھا۔

اسی بارے میں