#MissionShakti: انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے انڈیا کا چوتھی خلائی طاقت بننے کا دعویٰ اور سوشل میڈیا پر رد عمل

مودی تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو قوم کے نام خطاب میں بتایا کہ انڈیا خلائی طاقت کا حامل چوتھا ملک بن گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ 'آج 27 مارچ کو انڈیا نے کچھ ہی دیر قبل ایک ایسا کارنامہ انجام دیا ہے جس کی وجہ سے وہ خلائی سوپر پاور ممالک کی فہرست میں شامل ہو گيا ہے۔ اس سے قبل یہ صلاحیت صرف امریکہ، روس اور چین کے پاس تھی۔'

انھوں نے بتایا کہ ہندوستان کے سائنسدانوں نے دیسی تکنیک سے ایسا میزائل تیار کا جس نے زمین کے قریبی مدار (لو ارتھ آربٹ) میں 300 کلومیٹر کے فاصلے پر ایک لائیو سیٹلائٹ کو مار گرایا اور اس نے یہ کام صرف تین منٹ میں انجام دیا۔

بدھ کے روز انڈیا کے معیاری وقت کے مطابق تقریباً گیارہ بجے وزیر اعظم مودی نے جب اپنے ٹوئٹر پر یہ اعلان کیا کہ وہ پونے بارہ سے بارہ بجے کے درمیان قوم کے نام خطاب میں ایک اہم اعلان کرنے والے ہیں تو میڈیا اور عوام دونوں میں بہت زیادہ تجسس تھا۔

لیکن اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر اس کا یہ کہہ کر مذاق اڑایا جا رہا ہے کہ 'کھودا پہاڑ تو نکلی چوہیا'۔

حزب اختلاف کے رہنما راہل گاندھی نے ڈی آر ڈی او کو شاباشی دیتے ہوئے لکھا: ’۔۔۔میں وزیر اعظم مودی کو ورلڈ تھیئٹر ڈے کی بہت بہت مبارک باد دینا چاہتا ہوں۔'

اپنے خطاب کے بعد نریندر مودی کے ٹوئٹر ہینڈل پر اس کے متعلق باتیں بھی سامنے آئیں جس میں یہ کہا گیا کہ اس سے 'انڈیا زیادہ مضبوط، اور زیادہ محفوظ ہوگا اور امن اور بھائی چارہ پھیلائے گا۔'

انھوں نے ایک بات یہ بھی کہی کہ 'انڈیا نے اس کے ذریعے کسی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔'

یہ بھی پڑھیے

انڈیا کا خلائی مشن میں نیا ریکارڈ

’خلا میں آنکھ‘، انڈیا نے جاسوس سیٹلائٹ روانہ کر دیا

انڈیا کا جوہری میزائل اگنی ون کا کامیاب تجربہ

ٹوئٹر پر 50 ہزار سے زیادہ فالورز کے حامل ایک ٹوئٹر ہینڈل سونالی ریناڈے نے لکھا: 'میرے خیال میں اے سیٹ اسلحے اور خلا کو مسلح کرنے کے خلاف کانوینشن ہے۔ اس لیے جن ممالک کے پاس ایسے ہتھیار ہیں وہ اس کا ٹیسٹ بغیر کسی اعلان کے کرتے ہیں۔ انڈیا شاید پہلا ایسا ملک ہے جس نے علی الاعلان یہ کام کیا ہے۔ پتہ نہیں اس کا کیا نتیجہ ہوگا۔'

جہاں مودی حکومت کے حامی اس کے متعلق انڈیا کو، اس کے سائنسدانوں کو اور نریندر مودی کو مبارکباد دے رہے ہیں وہیں بعض لوگ اسے نظر انداز کرتے ہوئے سخت سوالات پوچھ رہے ہیں۔

وزیر کابینہ نتن گڈکری نے ٹویٹ کیا: 'تاریخی مشن شکتی کو کامیاب بنانے کے لیے ہمارے سائنسدانوں اور ملک کی عوام کو مبارکباد۔ ہم نے لو آربٹ سیٹلائٹ کو مار گرایا، جس کا مطلب یہ ہے کہ ملک پر آنے والے کسی بھی قسم کے خطرے کے لیے تیار ہیں۔'

انھوں نے مزید کہا: انڈیا کی فوجی اور خلائی قوت کی یہ شاندار مثال ہے۔ ہمارے سائنسدانوں نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ ہمارا ملک اہل ہاتھوں میں ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ @ShekharGupta

انڈیا میں انتخابات ہونے والے ہیں اور اس کے لیے کوڈ آف کنڈکٹ نافذالعمل ہیں ایسے میں حکومت کوئی اہم پالیسی اعلان نہیں کر سکتی۔ اس لیے اس اعلان کو سیاسی نظر سے دیکھے جانے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

معروف صحافی شیکھر گپتا نے ٹویٹ کیا: 'در حقیقت انڈا کے پاس کئی سال پہلے سے اے-سیٹ صلاحیت ہے۔ اسرو اور ڈی آر ڈی او نے شاندار کام کیا ہے اور مبارکباد کے مستحق ہیں۔ لیکن یہ کوئی پوکھرن-سوئم نہیں ہے۔ ووٹنگ سے دو ہفتے قبل یہ بہت عجیب ہے۔'

خيال رہے کہ انڈیا نے پوکھرن میں جوہری اسلحے کا تجربہ کیا تھا۔ پہلی بار 1974 میں وزیر اعظم اندرا گاندھی کے دور میں اور پھر اس کے بعد 1998 میں وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کے دور میں یہ تجربہ کیا گیا تھا۔

انھوں نے ایک دوسرے ٹویٹ میں اشارہ کیا کہ 'یہ بدحواسی کی نئی قومی سلامتی کی ہیڈ لائن ہے کیونکہ بالاکوٹ کے اثرات ایک ماہ میں مدھم پڑ گئے۔'

صحافی اور عام آدمی پارٹی کے میڈیا مشیر ناگیندر شرما نے سنہ 2010 میں شائع شدہ ایک رپورٹ کو پوسٹ کرتے ہوئے لکھا: 'شیخی باز بلف ماسٹر۔ دنیا ہم پر ضرور ہنس رہی ہوگی کہ ہم ایک ایسے خبطِ عظمت کے شکار شخص کی رہنمائی میں ہیں۔'

ہندوستان ٹائمز میں شائع‏ دس فروری سنہ 2010 کو شائع اس رپورٹ میں اس وقت کے ڈی آر ڈی او کے سربراہ اور وزارت دفاع کے مشیر وی کے سراسوت نے انڈیا اینی سیٹلائٹ کی اہلیت کے لیے تیار ہے۔ اس کے بعد انڈیا ٹوڈے کی سنہ 2012 کی ایک رپورٹ میں بھی اس کا دعوی کیا گیا ہے۔

کانگریس نے اسرو اور حکومت کو حالیہ کامیابی پر مبارکباد دی ہے اور ساتھ میں لکھا ہے کہ 'انڈیا کے خلائی پروگرام کو سنہ 1961 میں نہرو نے قائم کیا تھا اور اسرو کا قیام اندارگاندھی نے کیا تھا جو اپنی کامیابی سے انڈیا کو ہمیشہ فخر کے مواقع عطا کرتا رہا ہے۔'

اتر پردیش کے سابق وزیر اعلی اکھلیش یادو نے ٹویٹ کیا: 'آج نریندر مودی نے اپنے لیے ایک گھنٹے کا فری ٹی وی (ٹائم) حاصل کیا اور بے روزگاری، دیہی بحران اور خواتین کی سکیورٹی جیسے زمینی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے آسمان کی جانب اشارہ کیا۔ اسرو اور ڈی آر ڈی او کو مبارکباد کیونکہ یہ کامیابی آپ کی ہے۔ انڈیا کو مزید محفوظ بنانے کے لیے آپ کا شکریہ۔'

بہر حال وزیر اعظم مودی نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ وہ ایک ایسے ہندوستان کا تصور رکھتے ہیں جو وقت سے دو قدم آگے ہو اور اس کی ہمت بھی رکھے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ یہ 'قطعی طور پر دفاعی ہے اور پرامن مقاصد کے لیے ہے۔'

انڈیا کے لیے یہ بڑی کامیابی ہے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سکیورٹی اور سٹریٹجک افیئرز پر کھل کر بات کرنے والے سابق کموڈور ادے بھاسکر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا کے لیے یہ بڑی کامیابی ہے۔ انڈیا اس پر ایک عرصے سے کام کرتا رہا ہے لیکن اس اتمام اس کے کامیاب تجربے پر ہی ہوتا ہے۔

ان سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا اسرائیل کے پاس اس طرح کی صلاحیت نہیں ہے تو انھوں نے کہا: اسرائیل کویت اور عراق جنگ کے دوران میزائل کے استعمال کے بعد سے اس ضمن میں کام کر رہا ہے لیکن اس نے کبھی چین یا بھارت کی طرح دعوی نہیں کیا۔

انھوں نے مزید کہا: یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ جوہری ہتھیار پر بھی وہ جو بیان دیتا ہے وہ باہم مخالف ہے یعنی وہ کہتا ہے کہ ہم مشرق وسطی میں جوہری ہتھیار استعمال کرنے والے پہلے نہیں ہوں گے لیکن دوسرے بھی نہیں ہوں گے۔ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس کے پاس اس کی اہلیت ہے۔'

انڈیا کی جانب سے اس اعلان کے وقت کے بارے میں پوچھے جانے پر انھوں نے کہا کہ 'اس معاملے کو انتخابات سے جوڑ کر نہیں دیکھا جاسکتا۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے سکیورٹی معاملے پر الیکشن کمیشن کا کوڈ آف کنڈکٹ بھی حائل نہیں ہے۔ انڈیا کے سائنسدانوں نے اور فیصلہ کرنے والوں نے یہ وقت اس کے لیے مناسب سمجھا ہے اسی لیے انھوں نے اس وقت یہ اعلان کیا ہے۔'

اسی بارے میں