وزیر اعظم عمران خان کے بیان پر افغانستان اور امریکہ کی تنقید، پاکستان کی وضاحت

پاکستان

پاکستانی وزارت خارجہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کا حال ہی میں افغانستان کے بارے میں دیا گیا بیان سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا ہے جس کی وجہ سے غیر ضروری رد عمل کا اظہار کیا گیا۔

واضح رہے کہ چند روز قبل وزیر اعظم عمران خان کا افغانستان میں نگراں حکومت کے بارے میں دیے گئے بیان پر افغان حکام نے شدید احتجاج کا اظہار کرتے ہوئے کابل میں پاکستانی سفیر کے ڈپٹی کو احتجاج کے طور پر وزارت خارجہ طلب کیا اور بعد ازاں اسلام آباد سے اپنے سفیر عاطف مشعل کو مشورے کے لیے واپس کابل بلا لیا۔

وزیر اعظم کے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے اعلامیہ میں کہا گیا کہ عمران خان نے پاکستانی انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے بات کی تھا جہاں نگراں حکومت انتخابات کرانے کی ذمہ دار ہوتی ہے اور اس بیان کو قطعی طور پر اس حیثیت میں نہ لیا جائے کہ وہ افغانستان کے اندرونی معاملات پر تبصرہ کر رہے تھے۔

'پاکستان کا افغانستان میں امن قائم کرانے کے علاوہ اور کوئی لینا دینا نہیں ہے اور اس کی خواہش ہے کہ وہاں صرف افغان حکام کے فیصلوں پر مبنی سیاسی اقدام اٹھائے جائیں تاکہ ملک میں امن قائم ہو۔'

وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے افغانستان میں دیرپا امن قائم کرنے کے لیے جاری امن مذاکرات میں ذاتی دلچسپی لی ہے لیکن اس حوالے سے پاکستان کی کوششوں کو کمزور نہ کیا جائے اور نہ ہی غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوششیں کی جائیں۔

اسی حوالے سے مزید پڑھیے

طالبان،امریکہ مذاکرات،عمران خان سے ملاقات طے

’افغان طالبان کے وفد کو پاکستان جانے سے روک دیا گیا`

’پاکستان نے افغان طالبان ہمارے حوالے نہیں کیے ہیں‘

اس سے قبل بی بی سی کے نامہ نگار خدائے نور ناصر کے مطابق افغان وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ افغان حکومت وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے دیے گئے بیان پر شدید تحفظات کا اظہار کرتی ہے اور ایسے بیانات واضح مثال ہیں کہ پاکستان افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور افغان عوام کی خودمختاری کو قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھتا۔

پاکستان میں متعین افغان سفیر عاطف مشعل نے رات گئے اپنے ٹویٹر پر کہا کہ وہ وزیر اعظم عمران خان کے بیان کے بعد کل (بروز بدھ) اپنی حکومت کے کہنے پر مشاورت کی غرض سے واپس کابل جائیں گے۔

افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمی خلیل زاد نے بھی ایک ٹوئٹر پیغام میں وزیر اعظم عمران خان کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ افغانستان کا مستقبل صرف افغان عوام کے لیے ہے اور یہ فیصلہ صرف افغان ہی کر سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستانی اخبار ڈیلی ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق وزیر اعظم عمران نے 25 مارچ کو اسلام آباد میں بعض صحافیوں سے ملاقات میں کہا تھا کہ افغان حکومت افغان امن مذاکرات میں رکاوٹ ہے اور طالبان سے بات چیت کے لیے افغانستان میں نگراں حکومت بننی چاہیے۔

تاہم پاکستانی وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ اُنھوں نے افغان طالبان سے حال ہی میں ایک ملاقات افغان حکومت کی خواہش پر ملتوی کی، جن کو اس ملاقات پر اعتراض تھا۔

وزیر اعظم عمران خان کے اس بیان کے بعد افغانستان میں نہ صرف حکومت بلکہ افغان سیاستدانوں نے بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

افغان صدر اشرف غنی کے خلاف صدارتی انتخابات کے اُمیدوار حنیف اتمر، سابق صدر حامد کرزئی، پاکستان میں سابق افغان سفیر ڈاکٹر حضرت عمر زاخیلوال سمیت کئی سیاستدانوں نے وزیر اعظم عمران خان کے بیان کو افغانستان کے اندرونی معاملات میں سازش قرار دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption 15 مارچ کو وزیر اعظم عمران خان باجوڑ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے

سابق افغان صدر حامد کرزئی نے وزیر اعظم عمران خان کے بیان پر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’وزیر اعظم عمران خان کا افغانستان میں نگراں حکومت کے حوالے سے بیان ہمارے ملک کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی ہے اور میں حکومت پاکستان اور دیگر کو جو دونوں ملکوں کے درمیان دوستانہ تعلقات کے خواہاں ہیں، تجویز دیتا ہوں کہ باہمی خودمختاری کا احترام اور باوقار تعلقات کے لیے آگے بڑھیں۔‘

یاد رہے کہ اس سے پہلے 15 مارچ کو خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں بھی عمران خان کے ایک ایسے ہی بیان پر افغان حکومت نے تحفظات کا اظہار کیا تھا اور کابل میں پاکستان کے ایک سفارتی اہلکار کو احتجاج کے طور پر وزارت خارجہ طلب کیا تھا۔

باجوڑ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ افغانستان میں امن کے لیے مذاکرات ہو رہے ہیں جس کے بعد ایک ایسی حکومت بنے گی جس میں سارے افغان شامل ہوں گے اور جنگ ختم ہو گی۔

اسی بارے میں