کیا انڈین ریل وے نریدنر مودی کے لیے اشتہار چلا رہی ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Pacific Press
Image caption کون کسے ووٹ دیگا، مقابلہ چائے کی پیالیوں اور ساڑھیوں تک پہنچ گیا ہے!

انڈیا میں پارلیمانی انتخابات میں اب زیادہ وقت نہیں بچا۔ جیسے جیسے الیکشن نزدیک آ رہے ہیں ویسے ہی انڈین ٹوئٹر پر بھی آئے دن ایک نیا طوفان کھڑا ہو جاتا ہے۔ آج بات چائے کی پیالی سے شروع ہوئی۔

وزیر اعظم نریندر مودی کہتے ہیں کہ وہ بچپن میں چائے والے تھے اور اب چوکیدار ہیں۔ انہوں نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل میں بھی چوکیدار کا لفظ شامل کر لیا ہے اور کم سے کم ٹوئٹر پر تو ان کے حامیوں ’میں بھی چوکیدار‘ کی، اور مخالفین میں ’چوکیدار چور ہے‘ کی مہم زور شور سے چل رہی ہے۔

یہاں تک تو بات ٹھیک ہے۔ شور تب مچنے لگا جب ٹوئٹر پر ایک تصویر گردش کرنے لگی۔ یہ تصویر بظاہر انڈین ریلویز کی ایک ٹرین میں پیش کی جانے والی چائے کی ہے۔ کاغذ کے جس کپ میں چائے پیش کی جا رہی ہے اس پر ’میں بھی چوکیدار‘ چھپا ہوا ہے۔

اس کے ساتھ ہی انڈین ریلویز پر وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی جماعت بی جے پی کی انتخابات سے ٹھیک پہلے حمایت کا اور ان کے لیے اشتہار چلانے کا الزام لگنے لگا۔

انڈیا کے الیکشن کمیشن کے کوڈ کی بات ہونے لگی، جس کی یہ بظاہر خلاف ورزی ہے۔ کچھ لوگوں نے تو الیکشن کمیشن پر بھی اس طرح کی خلاف ورزیوں کو نظرانداز کرنے کا الزام لگانا شروع کیا۔

سوشل میڈیا پر، خاص طور پر ٹوئٹر پر، اتنا شور مچا کہ کچھ ہی دیر بعد انڈین وزارت ریل کو ایک وضاحتی بیان جاری کرنا پڑا۔ بیان میں کہا گیا کہ کاغذ کے یہ کپ اب استعمال نہیں کیے جائیں گے۔ خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق وزارت نے اپنے بیان میں کہا، ’ایسا آج ہوا لیکن ان کا استعمال فوراً بند کر دیا گیا ہے۔ اس کانٹریکٹر کے خلاف تعذیری کارروائی کی جا رہی ہے۔ اور نگران افسر کے خلاف بھی کارروائی کی جا رہی ہے۔‘

اس کے بعد انڈین ریلوے کیٹرِنگ اینڈ ٹورزم کارپوریشن (آئی آر سی ٹی سی) نے بھی ایک بیان جاری کیا جس میں انہوں نے کہا کہ کانٹریکٹر پر 1 لاکھ روپے کا جرمانے عائد کیا گیا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ’ان اطلاعات کی تفتیش کی گئی ہے کہ انڈین ریل وے پر ’میں بھی چوکیدار‘ والے کپوں میں چائے پیش کی گئی۔ ایسا آئی آر سی ٹی سی کی اجازت کے بنا کیا گیا اور ان کا استعمال فوراً بند کر دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ ان کپوں کی تعداد بہت کم تھی۔‘

اس بیان کو الیکشن کمیشن آف انڈیا کی ترجمان شیفاکی شرن نے بھی ٹویٹ کیا۔

انگریزی میں ایک محاورہ ہے، ’سٹارم اِن اے ٹی کپ‘ یعنی چائے کی پیالی میں آنے والا طوفان۔ فی الحال یہ طوفان تو شاید تھم گیا لیکن انتخابات ہو جانے تک گرج چمک کے ساتھ چھینٹے پڑتے رہنے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا!

اسی بارے میں