انڈیا کے 100 سمارٹ سٹی بنانے کے دعوے کتنے سچے؟

مودی تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انڈیا میں پارلیمانی انتخابات 11 اپریل سے شروع ہو رہے ہیں اس لیے بی بی سی کی ریئلٹی چیک ٹیم بڑی سیاسی جماعتوں کے دعووں اور وعدوں کی تحقیقات کر رہی ہے جن میں سمارٹ سٹی ایک ہے۔

سنہ 2015 میں انڈین حکومت نے پانچ سالوں میں 100 سمارٹ شہروں کی تعمیر کا وعدہ کیا تھا۔

مگر حقیقت یہ ہے کہ پانچ سال گزرنے کے بعد بھی اس منصوبے کی تکمیل کی تاریخ کو ہی بڑھا دیا گيا ہے۔ کیونکہ کن کن شہروں کو سمارٹ بنایا جائے یہ فیصلہ ایک ہی وقت پر نہیں کیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ سمارٹ سٹی فنڈ کے لیے مختص رقم کا صرف چھوٹا سا حصہ ہی اب تک خرچ کیا گیا ہے۔

سنہ 2014 میں لوک سبھا انتخابات کی مہم کے دوران سمارٹ سٹی کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس کے ایک سال بعد سنہ 2015 میں 'سمارٹ سٹی اسکیم' لانچ کی گئی۔

حزب اختلاف کی جماعتوں نے حکومت کی 'سمارٹ سٹی اسکیم' کو انتخابی مہم کا حربہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے اثرات زمین پر نظر نہیں آتے۔

یہ بھی پڑھیے

ہوائی اڈوں کے متعلق مودی کے دعوے کتنے سچ ہیں؟

نوٹوں پر پابندی کے بارے میں مودی کے دعوے اور حقیقت

انڈیا کی شہری آبادی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جو ایک دہائی میں 60 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔

انڈیا میں شہروں کی حالت خراب بنیادی ڈھانچے اور خستہ حال عوامی سہولیات کی وجہ سے بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔

'سمارٹ سٹی' کیا ہے؟

انڈین حکومت نے وضاحت کی ہے کہ سمارٹ سٹی کی کوئی مخصوص تعریف نہیں ہے۔ لیکن اس نے 100 منتخب شہروں میں رہنے والے لوگوں کی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے فنڈز فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ حکومت نے شہروں کی تجدید کے لیے جدید تکنیک اور وسائل کے استعمال کی بات کی ہے۔

حکومت نے دعوی کیا تھا کہ ان 100 شہروں میں نہ صرف بجلی اور توانائي کو پورا کرنے والی عمارتیں ہوں گی بلکہ نالی کے پانی، کوڑے اور ٹریفک جیسے بنیادی مسائل سے نمٹنے کے لیے نئی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا۔

مودی حکومت نے سمارٹ سٹی مشن کے تحت ملک بھر میں 100 شہروں کو منتخب کیا اور تمام شہروں کی آخری فہرست سنہ 2018 میں حتمی قرار دی گئی۔

بہر حال اس منصوبے کی ابتدا ہی اس قدر تاخیر سے ہوئی کہ اس کے مکمل ہونے کی تاریخ بھی پیچھے چھوٹ گئی اور اب اس کے لیے 2023 کی نئی تاریخ دی گئي ہے۔

اس سکیم کے تحت ہر سمارٹ شہر کو مرکزی حکومت کی جانب سے ایک مقررہ سالانہ بجٹ دیے جانے کی بات کہی گئی۔ اس کے علاوہ اس میں ریاست اور مقامی اداروں سے بھی کچھ رقم حاصل کرنے کا ایک منصوبہ شامل کیا گيا۔

کیا منصوبہ مکمل ہوا؟

دسمبر سنہ 2018 تک حکومت نے سمارٹ سٹی مشن کے 5115 منصوبوں کو منظوری دی، جس کا بجٹ تقریباً دو کھرب روپے تھا۔

جنوری سنہ 2019 میں حکومت کی طرف سے کہا گیا کہ اس کے 39 فیصد منصوبے ابھی جاری ہیں یا مکمل ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت نے اس کے متعلق مزید معلومات فراہم نہیں کی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ سمارٹ شہر کے مشن کے لیے مختص بجٹ سے ابھی اس مد میں بہت کم پیسہ خرچ ہوا ہے۔

سمارٹ سٹی مشن 2015-19

سنہ 2015-2019 کے دوران سمارٹ سٹی کے مشن کے لیے 166 ارب روپے مختص کیے گئے تھے۔ لیکن رواں سال جنوری میں حکومت نے خود تسلیم کیا کہ اس منصوبے پر صرف 35.6 ارب روپے خرچ کیے گئے ہیں، جو کل بجٹ کا صرف 21 فیصد ہے۔

اس کے علاوہ اب یہ سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ ان پیسوں کا استعمال کہاں اور کیسے ہوا؟

پروجیکٹ کے لیے جو بھی فنڈ ابھی تک ریلیز کیا گیا اس کا 80 فیصد پورے شہر کی ترقی کے بجائے مخصوص حصوں کو درست کرنے میں لگا دیا گیا۔

یہی وجہ ہے کہ ہاؤسنگ اور لینڈ رائٹس نیٹ ورک نامی ایک غیر سرکاری تنظیم نے 'سمارٹ سٹی مشن' کو 'سمارٹ انکلیو اسکیم' قرار دیا ہے۔

بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سمارٹ سٹی مشن شہروں کی موجودہ صلاحیت میں اضافے کے بجائے نئے منصوبوں پر زیادہ توجہ مرکوز کرتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ماہرین کا خيال ہے کہ شہروں میں سائیکل کی فراہمی اور پارک بنانا اس وقت تک کارگر نہیں ہوگا جب تک ان کو پورے شہر کی منصوبہ بندی میں شامل نہیں کیا جائے۔

پارلیمانی کمیٹی کی ایک رپورٹ میں کہا گيا ہے کہ ان منصوبوں کو نافذ کرنے کی ذمہ دار ایجینسیوں کے ساتھ بہتر تعاون کی کمی کے سبب سمارٹ سٹی مشن کے اثرات نظر نہیں آ رہے ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے مقامی اداروں کو ان کی موجودہ صلاحیت میں اضافے کے لیے تربیت کی پیشکش کی تھی لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ حکومت کی تجاویز کس قدر کامیاب رہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

تیز رفتاری کا دعوی

حکومت کا کہنا ہے کہ سمارٹ سٹی مشن نے گذشتہ سال تیز رفتاری سے کام شروع کیا ہے۔

حکومت نے پارلیمنٹ میں بتایا کہ اکتوبر سنہ 2017 کے مقابلے میں سمارٹ سٹی مشن کے تحت مکمل ہونے والے منصوبوں میں 479 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

ہاؤسنگ اور شہری معاملات کے نائب وزیر بردیپ سنگھ پوری نے بی بی سی کو بتایا کہ اس منصوبے کے تحت 13 مشترکہ مراکز پہلے سے ہی کام کر رہے ہیں۔

پوری نے کہا: 'اگر ہم نے دسمبر سنہ 2019 تک 100 منصوبوں میں 50 سے زائد منصوبے بھی مکمل کر لیے تو میرے مطابق یہ دنیا میں سب سے تیزی سے عمل میں آنے والے منصوبوں میں سے ایک ہوگا۔'

اسی بارے میں