افغانستان کے نائب صدر عبدالرشید دوستم قاتلانہ حملے میں محفوظ رہے

عبدالرشید دوستم تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

افغانستان کے نائب صدر عبدالرشید دوستم خود ساختہ جلاوطنی سے واپسی کے بعد دوسرے قاتلانہ حملے میں بال بال بچ گئے تاہم ان کا ایک محافظ ہلاک ہو گیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ عبدالرشید دوستم کے قافلے پر قاتلانہ حملہ افغانستان کے صوبے بلخ میں ہوا۔

طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

یہ عبدالرشید دوستم کی آٹھ ماہ قبل ترکی سے وطن واپسی کے بعد دوسرا حملہ ہے۔

یہ بھی پڑھیے

افغانستان: غزنی میں حملہ، نو پولیس اہلکار ہلاک

واضح رہے کہ عبدالرشید دوستم پر پہلا قاتلانہ حملہ کابل ایئرپورٹ میں ہوا تھا جب وہ طویل خود ساختہ جلاوطنی ختم کر کے افغانستان پہنچے تھے تاہم وہ اس حملے میں محفوظ رہے تھے۔

عبدالرشید دوستم پر گذشتہ قاتلانہ حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے قبول کی تھی۔ اس حملے میں 14 افراد مارے گئے تھے۔

افغانستان کے نائب صدر نے سنہ 2014 میں افغانستان کی اتحادی حکومت میں شمولیت اختیار کی تھی۔ ان کا شمار افغانستان کی متنازع سیاسی شخصیت میں ہوتا ہے۔

عبدالرشید دوستم نے سنہ 2001 میں افغانستان میں قائم طالبان حکومت کو ختم کرنے میں امریکہ کی مدد کی تھی۔

عبدالرشید دوستم افغانستان کے صدارتی انتخاب میں افغان چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کی الیکشن ٹیم کا حصہ ہیں جو 28 ستمبر کو شیڈول صدارتی انتخاب کے لیے میدان میں موجود امیدواروں میں شامل ہیں۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ افغان صدر اشرف غنی نے عبدالرشید دوستم کی واپسی کی منظوری ملک میں 28 ستمبر کو شیڈول صدارتی انتخابات سے قبل ازبکوں کا تعاون حاصل کرنے کے لیے دی ہے۔

اسی بارے میں