طالبان سے مذاکرات امن لائیں گے یا بد نظمی؟

طالبان تصویر کے کاپی رائٹ AFP/GETTY IMAGES

امریکی حکومت 18 سال میں پہلی بار افغانستان سے اپنی فوج واپس بلانے اور اپنی تاریخ کی طویل ترین جنگ کو سمیٹنے کے بارے میں سنجیدہ نظر آ رہی ہے۔

امریکی حکام اور طالبان کے نمائندوں نے اکتوبر سے اب تک پانچ بار براہ راست بات چیت میں حصہ لیا ہے اور وہ چھٹی بار ملنے والے ہیں۔

اس بات چیت میں امریکہ کے افغانستان سے محفوظ انخلا کے ساتھ اس بات کی بھی یقین دہانی کرانے کی کوشش کی جائے گی کہ طالبان افغانستان کی سرزمین کو کسی بھی قسم کی دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دیں گے اور دنیا کے لیے سکیورٹی کا خطرہ نہیں بنیں گے۔

امریکہ کی سربراہی والے فوجی اتحاد نے سنہ 2001 میں طالبان پر القاعدہ کو پناہ دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے انھیں حکومت سے بے دخل کر دیا تھا۔ امریکہ شدت پسند گروپ القاعدہ پر نائن الیون حملے کا الزام لگاتا ہے۔

یہ اس تنازعے کے پر امن حل پر اتفاق رائے کے لیے نادر موقعہ ہے جس میں افغانستان کے اندر اور باہر امن کا قیام اتنا قریب کبھی نظر نہیں آیا، تاہم قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات ابھی پہلے مرحلے میں ہی ہیں اور اس کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے۔ اس راہ میں بہت سی رکاوٹیں حائل ہیں جنھیں ابھی دور کرنا ہے۔

کیا کسی جنگ بندی کی ضرورت ہے؟

افغانستان میں جنگ ابھی جاری ہے اور طالبان جہاں مذاکرات کر رہے ہیں وہیں وہ سنہ 2001 کے بعد سب سے زیادہ خطے پر اپنا کنٹرول بھی رکھتے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں کیونکہ حکام کے مطابق اس پر سالانہ 45 ارب امریکی ڈالر کا خرچ آتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

طالبان سے مذاکرات کے لیے کمیشن کا اعلان

’طالبان امریکہ مذاکرات قدم بہ قدم آگے بڑھ رہے ہیں‘

افغان طالبان سے مذاکرات اور امید کی فضا

افغانستان سے اپنی زیادہ تر یا تمام افواج کو واپس بلانے کے ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ عندیے نے طالبان سمیت ہر ایک کو حیرت زدہ کر دیا ہے۔

نیٹو کے مشن کے تحت افغانستان میں ایک ہزار برطانوی فوجی بھی ہیں جو افغانستان کی سکیورٹی فورسز کی تربیت اور تعاون کے لیے وہاں موجود ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اگر امریکہ اور طالبان اپنے اہم مسائل حل کر لیتے ہیں تو بھی افغانیوں کو اپنے اندرونی مسائل کو سلجھانے کی ضرورت ہو گی جس میں جنگ بندی، طالبان اور حکومت کے درمیان مذاکرات اور ان سب سے بڑھ کر نئی حکومت اور نئے سیاسی نظام کا قیام شامل ہے۔

افغانستان میں رواں سال کے آخر تک انتخابات سے قبل جنگ بندی ہو اور طالبان ان میں شرکت کریں اس کا امکان کم ہی ہے۔

افغانستان میں مکمل یہاں تک کہ جزوی جنگ بندی کے بعد بھی انتخابات میں دھاندلی کے خطرات بڑھ جائيں گے۔ نتائج میں تاخیر سے سیاسی ہلچل پیدا ہو گی جو کہ امن کی بحالی کی کسی بھی کوشش کو نقصان پہنچائے گی اور یہ صورت حال سیاسی عدم استحکام میں اضافہ کرے گی۔

کیا مل کر حکومت ہوگی؟ اگر ہاں تو کیسے؟

اس ضمن میں مختلف آپشنز اور منظرنامے ہیں۔

سب سے پہلے تمام فریقین کو اس بات کا فیصلہ کرنا ہو گا کہ صدارتی انتخابات جنہیں پہلے ہی ستمبر تک مؤخر کر دیا گیا ہے وہ منصوبے کے مطابق ہوں۔ اس صورت میں اگر ووٹنگ سے قبل طالبان کے ساتھ کوئی امن معاہدہ نہیں ہوتا تو کابل کی نئی حکومت طالبان سے مذاکرات کر سکتی ہے۔

طالبان سمیت تمام فریقین جب تک کسی نئی حکومت کے قیام کے طریقے پر متفق نہیں ہوتے اس وقت تک انتخابات کو مزید مؤخر یا ملتوی کیا جا سکتا ہے اور رواں حکومت کی مدت میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

کیا طالبان حکومت میں واپسی کر سکتے ہیں؟

اس پس منظر میں ایک عبوری اور غیر جانبدار حکومت یا اتحادی حکومت کا قیام اہم ہے جس میں طالبان بھی شامل ہوں ایک دوسرا آپشن ہے۔

عبوری حکومت کو منتخب کرنے کے لیے لویا جرگہ بھی بلایا جا سکتا ہے جو کہ امریکی افواج کے انخلا اور طالبان کے دوبارہ الحاق کے بعد نئی عبوری حکومت منتخب کر سکتی ہے۔

اسی طرح جرمنی کے شہر بون میں سنہ 2001 میں ہونے والے ایک بین الاقوامی کانفرنس جیسی کوئی کانفرنس منعقد ہو جس میں ملک کے مستقبل کا راستہ تیار کرنے میں مدد مل سکے۔

اس میں افغان فریقین، دنیا کی اہم طاقتیں اور پڑوسی ممالک شامل ہوں لیکن اس بار اس میں طالبان بھی شریک ہوں۔

بہت سے طالبان رہنماؤں نے مجھ سے کہا کہ انھیں افغانستان کی مین سٹریم میں شامل ہونے اور انتخابات کی تیاری کے لیے وقت درکار ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

کیا سابق دشمن ایک ساتھ مل کر کام کر سکتے ہیں؟

اس جنگ کے بعد، جس میں حکومتی فورسز کے ساتھ تمام فریقین کے ہزاروں افراد مارے جا چکے ہیں، بہت مشکل مسائل درپیش ہوں گے جن کو حل کرنا ہو گا۔

مثال کے طور پر طالبان موجودہ آئین کو قبول نہیں کرتے اور افغان حکومت کو 'امریکہ کی لائی ہوئی کٹھ پتلی حکومت' کہتے ہیں۔

ابھی تک اشرف غنی کی منتخب حکومت باغیوں کے ساتھ براہ راست مذاکرات میں شامل نہیں ہوئی ہے کیونکہ وہ اس حکومت کو مانتے ہی نہیں۔

بہت سے افغانیوں کو یہ خوف ہے کہ طالبان کے ساتھ حکومت شیئر کرنے سے ’اسلامی طریقۂ انصاف پر ان کی تفسیر لوٹ آئے گی‘۔ انھیں خدشہ ہے کہ بہت سی آزادیاں بطور خاص خواتین کے حقوق ختم ہو جائيں گے۔

سنہ 1990 کی دہائی میں طالبان جب اقتدار میں تھے تو انھوں نے خواتین کے سیاست میں آنے پر پابندی لگا رکھی تھی اور ان کی سزاؤں میں سنگساری اور ہاتھ کا کاٹنا شامل تھا۔

اگر مذاکرات سے امن قائم نہیں ہوا تو؟

سنہ 1979 میں روس کے حملے کے بعد سے ملک میں ایفا نہ ہونے والے معاہدوں کی لمبی فہرست ہے اور جنگ کے خاتمے کی ناکام کوششیں ہیں۔ اس بار بھی ماضی کے بہت سے منظرنامے دہرائے جائيں گے۔

امریکی انخلا، بغیر امن معاہدے کے ہو یا پھر امن معاہدے کے ساتھ، اس سے کابل میں قائم حکومت از خود نہیں گر جائے گی۔

جنگ جاری رہے گی اور حکومت کی بقا زیادہ تر بیرونی اتحادیوں بطور خاص امریکہ کے فوجی اور مالی تعاون کے ساتھ ملک کے سیاسی سرکردہ لوگوں کے اتحاد اور کمٹمنٹ پر منحصر ہو گی۔

سنہ 1989 میں جب روسی افواج افغانستان سے نکل آئیں تو ماسکو کی حمایت والی حکومت کابل میں تین سال تک قائم رہی لیکن سنہ 1992 میں اس حکومت کے گرنے کے بعد خونی خانہ جنگی کا دور شروع ہو گيا جس میں بہت سے افغان دھڑے مختلف علاقائی قوتوں کی حمایت کے ساتھ شامل تھے۔

اگر مسائل کو احتیاط کے ساتھ سلجھایا نہیں گیا تو اس طرح کی صورت حال کی دوبارہ واپسی کا خطرہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

طالبان نے جو اس خانہ جنگی میں کامیاب ہوئے تھے، سنہ 1996 میں کابل پر قبضہ کر لیا اور سنہ 2001 میں امریکہ کی سربراہی میں ہونے والے حملے تک افغانستان کے زیادہ تر علاقے پر حکومت کرتے رہے۔

اگر اس بار بھی کوئی معاہدہ نہیں ہو پاتا یا پھر مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں تو وہ ایک بار پھر حکومت پر قابض ہونا چاہیں گے۔

بدنظمی کس طرح کی ہوگی؟

حالیہ امن مذاکرات کا مقصد ہے طالبان کو افغانستان کے نئے سیٹ اپ میں شامل کرنا ہے۔ اس کا مطلب جنگ کا خاتمہ اور سب کو شامل کرنے والی ایک افغان حکومت کا قیام۔ یہ صورت حال افغانیوں، امریکہ اور علاقائی قوتوں سب کے لیے جیت والی صورت حال ہو گی۔

لیکن اس کا متبادل خطرناک ہو گا جس میں جنگ میں شدت اور عدم استحکام کا خدشہ بڑھ جائے گا جو ایک ایسے خطے میں ہے جس کے چاروں جانب چین، روس، انڈیا، ایران اور پاکستان جیسے اہم ممالک ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

بد نظمی کے ایک اور دور کا مطلب نئے پر تشدد انتہا پسند گروپ کا نمودار ہونا ہو گا۔

افغانیوں اور باقی دنیا کو سکیورٹی کے خلا سے نمٹنا ہو گا جس میں القاعدہ اور دولت اسلامیہ جیسے گروپ پھلتے پھولتے ہیں۔

منشیات کی پیداوار میں اضافہ اور پناہ گزینوں کی تعداد میں اضافہ نہ صرف افغانستان کے لیے سنگین چیلنج پیدا کرے گا بلکہ پورے خطے اور دنیا کے لیے مسئلہ ہو گا۔

اس سے کس طرح بچا جا سکتا ہے؟

تاریخ بتاتی ہے کہ مذاکرات شروع کرنا اور معاہدوں پر دستخط کرنے کا مطلب جھگڑے کا پرامن حل نہیں ہے۔ یہ اقدام صرف ایک پیچیدہ اور چیلنج بھرے عمل کی ابتدا ہیں جن کا نفاذ اہم ہے۔

معاہدے کے بعد کی صورت حال میں افغانستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج ایک ایسے میکنز م کا نفاذ ہے جس کی تصدیق ہو سکے۔

ملک کی جنگی تاریخ کو مد نظر رکھتے ہوئے اگر مقامی یا بیرونی فریقوں میں سے کوئی ایک یا کئی غلط سمت میں چل پڑتے ہیں تو یہ نادر موقع بہت آسانی سے گنوایا جا سکتا ہے۔

اس لیے ایسے میں ایک فریم ورک کی ضرورت ہے جس میں بین الاقوامی اور علاقائی قوتیں شامل ہوں اور وہ امن کی کوششوں میں تعاون کریں اور اس عمل کو سبوتاژ کیے جانے سے باز رکھیں۔

چار دہائیوں سے جاری جنگ کو حل کرنے کا یہ نادر موقعہ ہے۔ اسے احتیاط سے ہینڈل کریں یا پھر نتائج کے لیے تیار رہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ US DEFENSE DEPARTMENT

طالبان کی نمائندگی کون کر رہے ہیں؟

طالبان کے مندوبین میں طالبان کے پانچ ایسے اعلیٰ اہلکار شامل ہیں جنھیں ان کی حکومت کے خاتمے پر پکڑا گیا تھا اور جنھوں نے امریکہ کے متنازع حراستی کمیپ ’گوانتانامو بے‘ میں 13 سال گزارے۔

انھیں سنہ 2014 میں قیدیوں کے تبادلے کے نتیجے میں قطر بھیجا گیا۔ طالبان نے امریکی فوجی بوی برگڈال کو سنہ 2009 میں پکڑا تھا۔

اوپر بائیں سے دائیں گھڑی کی سمت میں وہ اس طرح ہیں:

محمد فضل امریکی حملے کے وقت طالبان حکومت میں نائب وزیر دفاع تھے۔

محمد نبی عمری کا حقانی نیٹ ورک سے قریبی تعلق بتایا جاتا ہے۔

ملا نور اللہ نوری سینیئر طالبان فوجی کمانڈر رہے چکے ہیں اور وہ سابق گورنر بھی ہیں۔

خیراللہ خیرخواہ نے طالبان کے وزیر داخلہ کے طور پر خدمات انجام دے رکھی ہیں اور ہرات صوبے کے گورنر بھی رہ چکے ہیں۔ ہرات ملک کا تیسرا سب سے بڑا شہر ہے۔

عبدالحق وسیق طالبان انٹیلیجنس کے نائب سربراہ رہ چکے ہیں۔

ان کی سربراہی شیر محمد عباس ستینکزئی کر رہے ہیں جو حال تک قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے سربراہ تھے۔

فروری میں بی بی سی کو دیے جانے والے ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا تھا کہ جنگ بندی اس وقت تک نہیں ہو گی جب تک کہ تمام بیرونی افواج افغانستان سے چلی نہیں جاتی۔

اس کے ساتھ قطر میں ملا عبدالغنی برادر بھی ہوں گے جو طالبان کے نائب سربراہ ہیں اور اس گروپ کے شریک بانی بھی ہیں۔ وہ پاکستانی جیل سے نو سال بعد گذشتہ اکتوبر میں رہا کیے گئے ہیں۔

دریں اثنا افغانستان میں مصالحت کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمی خلیل زادہ قطر میں ہونے والے دوسرے دور کے مذاکرت سے قبل مشورے کے لیے خطے کا دورہ کر رہے ہیں۔ انھوں نے جنوری میں کہا تھا کہ 'اہم پیش رفت ہوئی ہے۔'

اسی بارے میں