انڈیا الیکشن: نریندری مودی پر ایل کے اڈوانی کی ڈھکی چھپی تنقید

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ایل کے اڈوانی کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ آنے والے انتخابات میں بی جے پی کے ان رہنماؤں کی جانب سے نظرانداز کیے جانے پر خوش نہیں

انڈیا کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے بانیوں میں سے ایک، ایل کے ایڈوانی کی طرف سے لکھے گئے بلاگ کو انڈین وزیراعظم نریندر مودی پر ڈھکی چھپی تنقید کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

بلاگ میں 91 سالہ ایل کے ایڈوانی نے لکھا ہے کہ 'تنوع کا احترام اور آزادی اظہار رائے انڈین جمہوریت کی روح ہے۔'

ان کا مزید کہنا تھا 'اپنے آغاز سے، بی جے پی نے سیاسی طور پر عدم اتفاق کرنے والوں کو کبھی 'دشمن' نہیں مانا بلکہ ہمیشہ مخالف سمجھا ہے۔ اسی طرح ہمارے انڈین قوم پرستی کے تصور میں ہم نے سیاسی طور پر عدم اتفاق کرنے والوں کو کبھی 'ملک مخالف' نہیں سمجھا۔'

انڈین الیکشن کے بارے میں مزید پڑھیے

'نریندر مودی کا آخری داؤ'

انڈیا انتخابات: کیا مودی کو پریشان ہونا چاہیے؟

شمالی انڈیا میں کانگریس واپس، مودی کی مشکلات شروع

مودی کی پارٹی پر سیاسی رہنما کے قتل کا الزام

نریندر مودی اور ان کے حامی اکثر بی جے پی کے حامیوں کو ’ملک دشمن‘ قرار دیتے رہے ہیں اور ان پر پاکستان کے لیے کام کرنے کا الزام بھی لگایا جاتا ہے۔

بدھ کو بھی ایک ریلی میں نریندر مودی نے کہا تھا کہ حزبِ اختلاف کی جماعت کانگریس ’ملک کو غیرمستحکم کرنے کی سازش کر رہی ہے اور اس کا انتخابی منشور ’پاکستانی سازشوں کا مسودہ‘ تھا۔

بی بی سی ہندی کے نتن شریواستو کا کہنا ہے کہ ایل کے اڈوانی کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ آنے والے انتخابات میں بی جے پی کے ان رہنماؤں کی جانب سے نظرانداز کیے جانے پر خوش نہیں جنھیں ایک زمانے میں وہ خود آگے لائے تھے۔

بی جے پی نے ایل کے ایڈوانی کو انتخابات میں ریاست گجرات سے ٹکٹ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اڈوانی گجرات سے چھ مرتبہ رکن اسمبلی منتخب ہو چکے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق ایل کے اڈوانی کے بلاگ کو نریندر مودی اور بی جے پی کے صدر امت شاہ پر براہِ راست حملہ تصور کیا جا رہا ہے۔

انھوں نے اپنے ساتھیوں کو ’ماضی اور مستقبل پر غور کرنے کے علاوہ خود اپنے اندر جھانکنے کو بھی کہا ہے۔‘

نریندر مودی نے ان کے بلاگ کا جواب ٹویٹ کے ذریعے دیا اور کہا کہ ’ایڈوانی جی نے بی جے پی کے اصل ست کو بیان کیا ہے اور ان کی سب سے اہم بات سب سے پہلے قوم، پھر جماعت اور آخر میں اپنا آپ ہے۔‘

ایل کے اڈوانی خود بھی ایک متنازع شخصیت ہیں۔ 1990 میں ان کی ملک بھر میں یاترا کا مقصد بابری مسجد کی جگہ مندر کی تعمیر کے لیے حمایت حاصل کرنا تھا۔ اسی یاترا کے دو برس بعد مشتعل ہجوم نے مسجد کو منہدم کر دیا تھا۔

2017 میں ان پر بابری مسجد کے انہدام کے حوالے سے مجرمانہ سازش رچانے کا الزام بھی عائد کیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

مودی کی فوج کہنے پر جواب طلبی

ادھرانڈین الیکشن کمیشن نے ریاست اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے ایک ریلی کے دوران انڈین فوج کو 'نریندر مودی کی فوج' کہنے پر وضاحت طلب کی ہے۔ یہ جملہ انتخابات کے قوانین کی خلاف ورزی سمجھا جا سکتا ہے۔

ایک انتخابی عہدیدار نے اخبار دا ہندو کو بتایا کہ کمشنر نے انڈین وزیراعظم نریندر مودی کے قریبی ساتھی آدتیہ ناتھ سے اسی ہفتے جواب طلب کیا ہے۔

آدتیہ نے اتوار کو بی جے پی کی پارٹی ریلی میں یہ جملہ بولا جس کے بعد انھیں ریٹائرڈ انڈین آرمی چیف اور وزیر جنرل وی کے سنگھ کی طرف سے بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ جنرل سنگھ وہ امیدوار ہیں جن کے لیے آدتیہ انتخابی مہم چلارہے تھے۔

جنرل سنگھ نے بی بی سی ہندی کو ایک خصوصی انٹرویو میں بتایا 'اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ انڈین فوج مودی جی کی فوج ہے تو نہ صرف وہ شخص غلط ہے بلکہ وہ، دراصل، ایک غدار ہے۔'

تاہم ان کا مزید کہنا تھا 'یہ (آدتیہ ناتھ کے) منھ سے غلطی سے نکل گیا۔ میرا خیال ہے کہ انھیں اندازہ بھی نہیں ہے کہ انھوں نے کیا کہہ دیا۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں