جلیانوالہ قتلِ عام کے سو سال: ’ڈائر نے پھر حکم دیا کہ بندوقیں دوبارہ لوڈ کریں اور اس طرف فائرنگ کریں جہاں زیادہ بھیڑ ہے‘

جنرل ڈائر تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

جلیانوالہ باغ، امرتسر شہر، تاریخ 13 اپریل، سنہ 1919، وقت سورج ڈھلنے سے چند منٹ قبل۔۔۔

اس دن جلیانوالہ باغ میں 15 سے 25 ہزار افراد جمع تھے۔ اچانک لوگوں نے ایک عجیب سی آواز سنی۔

ایک ہوائی جہاز باغ پر کم بلندی سے پرواز کرتا ہوا گزرا۔ اس کے ایک بازو پر ایک پرچم لگا تھا۔ ان لوگوں نے اس سے پہلے کبھی ہوائی جہاز نہیں دیکھا تھا۔

بعض لوگوں نے اسے دیکھ کر وہاں سے چلے جانے میں خیریت سمجھی۔

اچانک لوگوں کو عقب سے بھاری بوٹوں کی آواز سنائی دی اور سیکنڈوں میں جلیانوالہ باغ کے تنگ راستے سے 50 فوجی نمودار ہوئے جو دو دو کی 'فورمیشن' بناتے ہوئے اونچی جگہوں پر دونوں طرف پھیلنے لگے۔

بھیڑ کے ایک حصے نے چیخ کر کہا: 'آ گئے، آگئے'۔ اور وہ وہاں سے جانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔ پھر ایک آواز آئی 'بیٹھ جاؤ، بیٹھ جاؤ گولی نہیں چلے گی۔'

یہ بھی پڑھیے

جلیانوالہ باغ: برطانیہ سے معافی کا مطالبہ

ہجوم!

’مہاراجہ رنجیت سنگھ کا دور مذہبی مساوات کا نمونہ‘

دو سکھ علیحدگی پسند طیارے کے اغواکے جرم سے بری

تصویر کے کاپی رائٹ PARTITION MUSEUM
Image caption جلیانوالہ باغ کا فائرنگ پوائنٹ جہاں سے ڈائر کے فوجیوں نے گولیاں برسائیں

بغیر انتباہ کے فائرنگ

اسی وقت بریگیڈیئر ریجنالڈ ڈائر نے چیخ کہا: 'گورکھاز رائٹ، 59 لیفٹ۔'

25 گورکھا اور 25 بلوچ فوجیوں میں سے نصف نے بیٹھ کر اور نصف نے کھڑے ہو کر 'پوزیشن' لے لی۔ ڈائر نے بلا تاخیر حکم دیا: 'فائر۔‘

فوجیوں نے نشانہ لگایا اور بغیر اطلاع گولیاں برسانی شروع کر دیں اور چاروں طرف لوگ گولیاں لگنے سے گرنے لگے۔

گھٹنوں کے بل بیٹھے فوجی چن چن کر نشانہ لگا رہے تھے۔ ان کی کوئی گولی ضائع نہیں جا رہی تھی۔ ڈائر نے پھر حکم دیا کہ وہ اپنی بندوقیں دوبارہ لوڈ کریں اور اس طرف فائرنگ کریں جہاں زیادہ بھیڑ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PARTITION MUSEUM
Image caption اس واقعے میں زندہ بچ جانے والے اتم سنگھ

لیٹ جانے والوں کو بھی نہیں چھوڑا

لوگ خوف کے عالم میں چاروں طرف بھاگنے لگے۔ لیکن انھیں باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں مل سکا۔

سب لوگ تنگ گلی کے راستے پر ہو لیے اور باہر نکلنے کی کوشش کرنے لگے۔ ڈائر کے فوجیوں نے انھیں نشانہ بنایا۔ لاشیں گرنے لگیں۔ کشتوں کے پشتے لگ گئے۔

بہت سے لوگوں نے دیوار پر چڑھ کر بھاگنے کی کوشش کی لیکن فوجیوں کی گولیوں کا نشانہ بن گئے۔ بھیڑ میں موجود کچھ سابق فوجیوں نے چیخ کر لوگوں سے لیٹ جانے کے لیے کہا۔ لیکن ان لوگوں کو بھی پہلے سے لیٹ کر پوزیشن لینے والے گورکھا نے نہیں بخشا۔

بعد میں سارجنٹ اینڈرسن نے جو جنرل ڈائر کے بالکل ساتھ کھڑے تھے، ہنٹر کمیٹی کو بتایا: 'جب فائرنگ شروع ہوئی تو پہلے پہل یوں لگا کہ پوری کی پوری بھیڑ زمین پر ڈھیر ہو گئی۔'

'پھر ہم نے کچھ لوگوں کو اونچی دیواروں پر چڑھنے کی کوشش کرتے دیکھا۔ تھوڑی دیر بعد میں نے کیپٹن برگز کے چہرے کی طرف دیکھا۔ مجھے ایسا لگا کہ انھیں کافی درد محسوس ہو رہا تھا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ PARTITION MUSEUM
Image caption سارجنٹ اینڈرسن اس وقت جنرل ڈائر کے پاس موجود تھے

بریگز نے ڈائر کو روکنے کی کوشش کی تھی

امریکہ میں بھارت کے سفیر رہ چکے نوتیج سارنا نے جلیانوالہ باغ پر خاصی تحقیق کی ہے اور انھوں نے پنجاب کی تاریخ پر کئی کتابیں بھی لکھی ہیں۔

نوتیج سارنا بتاتے ہیں: 'ایک ذکر ملتا ہے کہ ڈائر کے ایک ساتھی برگز نے کہنی سے پکڑ کر ان کی قمیض کو ہلایا گویا یہ کہہ رہے ہوں کہ اب بہت ہو چکا۔'

'لیکن ڈائر نے انھیں نظر انداز کر دیا۔ وہاں ایک انگریز ایس پی ریہیل بھی موجود تھے۔ انھوں نے ہنٹر کمیٹی کے سامنے گواہی دیتے ہوئے کہا کہ ہوا میں لوگوں کے دوڑنے کی وجہ سے دھول اور خون ہی خون تھا۔

'کسی کی آنکھ میں گولی لگی تھی تو، کسی کا پیٹ باہر آ چکا تھا۔ ہم اس قتل عام کو نہیں دیکھ سکے اور باغ سے باہر نکل آئے۔'

اس کے بعد ریہیل کی بھتیجی نے ایک ڈائری لکھی جس میں انھوں لکھا کہ 'اس واقعے کے بعد ان کی پہلی جیسی شخصیت ختم ہوگئي اور وہ بے تحاشا شراب پینے لگے۔'

مسلسل دس منٹ تک گولیاں چلتی رہیں۔ ڈائر کے فوجیوں نے 1650 راؤنڈ گولیاں چلائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ MARTIN DYER
Image caption اپنی کار کے ساتھ ایبٹ آباد (اب پاکستان میں) میں جنرل ڈائر

پیپل کے پیڑ اور دیواروں پر نشان

جليانوالہ باغ پر 'اوپن ریبیلين ان پنجاب' نامی کتاب کے مصنف کپل دیو مالویے ایک جگہ لکھتے ہیں: 'ایک مقامی ڈاکٹر کا 13 سالہ بیٹا مدن موہو اپنے دوستوں کے ساتھ کھیلنے روز جليانوالہ باغ جایا کرتا تھا۔ اس دن اس پر چلائی گئی گولی نشانے پر لگی اور اس کی کھوپڑی اڑ گئی۔'

'چلاتے ہوئے درجنوں لوگوں نے ایک بڑے پیپل کے پیڑ کے تنے کے پیچھے آڑ لی۔ ڈائر نے اپنے فوجیوں کو حکم دیا کہ وہ پیپل کے درخت کو نشانہ بنائیں۔'

'ادھر بہت سے لوگ باغ کے کناروں پر اونچی دیواروں کو پھلانگنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ڈائر نے اپنے فوجیوں کی بندوق کا رخ ان کی طرف مڑوا دیا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ NATIONAL ARMY MUSEUM
Image caption انگلینڈ واپسی پر ساؤتھمپٹن بندرگاہ پر جنرل ڈائر

بچے کو دیوار کے پار پھینک دیا

بھرپور سنگھ 13 اپریل سنہ 1919 کو صرف چار سال کے تھے۔ لیکن انھیں اس دن کے واقعات تا عمر یاد رہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: 'میں اس دن اپنے دادا کے ساتھ جليانوالہ باغ گیا تھا۔ جیسے ہی گولیاں چلنا شروع ہوئیں، میرے دادا مجھے اٹھا کر دیوار کی طرف دوڑنے لگے۔ جب انھیں لگا کہ باہر جانے کا کوئی راستہ نہیں ہے، انھوں نے مجھے سات فٹ اونچی دیوار کے پار پھینک دیا۔'

'نیچے گرنے سے میرا بازو ٹوٹ گیا لیکن میں وہ کہانی سنانے کے لیے زندہ رہا۔ ہم اس تکلیف میں بھی کئی دنوں تک ہسپتال نہیں گئے، کیونکہ ہمیں ڈر تھا کہ کہیں ہم پر اور ظلم نہ ڈھائے جائیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ BRITISH LIBRARY
Image caption جلیانوالہ باغ کی دیواروں پر گولیوں کے نشان

کوئی طبی مدد نہیں

جیسے ہی فائرنگ روکنے کا حکم دیا گیا، فوجی اتنی ہی تیزی سے باہر چلے گئے، جس تیزی سے وہ اندر آئے تھے۔

ڈائر اچھل کر اپنی گاڑی میں بیٹھے اور رام باغ کی طرف چلے گئے۔ ان کے فوجی ان کے پیچھے پیدل مارچ کرتے ہوئے چلے۔

اس رات جلیانوالہ باغ میں گولیوں کا شکار ہونے والوں کو کوئی طبی امداد نہیں ملی۔ نہ ہی لوگوں کو اپنے مرنے والوں اور زخمیوں کو میدان سے باہر لے جانے کی اجازت دی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ MARTIN DYER
Image caption جنرل ڈائر ایک پکنک کے دوران اپنی اہلیہ کے ساتھ

رتن دیوی کی دردناک کہانی

معروف کتاب 'جلیانوالہ باغ - اے ٹرو سٹوری' کی مصنفہ كشور ڈیسائی بتاتی ہیں: 'رتن دیوی کا گھر جلیانوالہ باغ کے اتنا قریب تھا کہ انھوں نے اپنے سونے کے کمرے سے گولیوں کی آوازیں سنیں۔‘

'وہ بدحواسی کی حالت میں دوڑتی ہوئی باغ پہنچیں۔ ان کے سامنے لاشوں کا ڈھیر لگا ہوا تھا۔ وہ اپنے شوہر کو ڈھونڈنے لگیں۔ لاشوں کو ہٹاتے ہٹاتے اچانک ان کی نظر اپنے شوہر کے مردہ جسم پر پڑی۔'

'تھوڑی دیر بعد انھیں لالہ سندر کے دو بیٹے آتے دکھائی دیے۔ انھوں نے ان سے کہا کہ وہ کسی طرح ایک چارپائی لے آئیں، تاکہ ان کے جسم کو گھر لے جایا جا سکے۔ انھوں نے مدد کا وعدہ کیا لیکن وہ لوٹ کر نہیں آئے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جلیانوالہ باغ کی یاد میں تعمیر یادگار

پانی کی کمی نہیں

كشور ڈیسائی نے مزید کہا: 'رتن دیوی نے ایک سکھ شخص سے درخواست کی کہ وہ ان کے شوہر کے جسم کو ایک خشک جگہ پر لے جانے میں ان کی مدد کریں، کیونکہ جہاں ان کا جسم تھا، اس کے چاروں طرف خون ہی خون تھا۔'

'انھوں نے سر کی طرف سے ان کے جسم کو پکڑا اور رتن دیوی نے پاؤں کی طرف سے اور انھیں ایک لکڑی کے سہارے لٹا دیا۔ رات کے دس بجے تک انھوں نے انتظار کیا. لیکن کوئی نہیں آیا۔'

'انھوں نے اپنے مردہ شوہر کے سر کو اپنی گود میں رکھ کر پوری رات گزاری۔ ان کے ایک ہاتھ میں ڈنڈا تھا تاکہ خون کی بو سونگھ کر آنے والے کتوں کو بھگایا جا سکے۔

’انھوں نے دیکھا کہ ایک 12 سال کا لڑکا ان کے پاس پڑا ہوا ہے، جو شدید زخمی تھا۔ انھوں نے اس سے پوچھا کیا وہ اسے کوئی کپڑا اڑھا دیں؟ لڑکے نے کہا کہ نہیں، لیکن مجھے چھوڑ کر مت جاؤ۔ انھوں نے کہا میں اپنے شوہر کو چھوڑ کر کہاں جاؤں گی؟'

’تھوڑی دیر بعد لڑکے نے کہا مجھے پانی چاہیے۔ لیکن وہاں ایک بوند بھی پانی نہیں تھا۔ تھوڑی دیر بعد رتن دیوی کو اس کی كراہیں سنائی دینا بند ہو گئیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ BRITISH LIBRARY
Image caption سارے شہر کی بجلی پانی منقطع کر دی گئی

لاشوں پر منڈلاتی چیلیں

صبح تک باغ کے اوپر چیلیں اڑنے لگیں تاکہ خوراک حاصل کر سکیں۔ گرمی کے سبب لاشیں جلدی ‎سڑنے لگیں۔

35 سالہ ٹھیکیدار لالہ ناتھو رام نے کانگریس کی جانچ کمیٹی کو بتایا: 'میں اپنے بیٹے اور بھائی کو ڈھونڈنے نکلا تھا۔ مجھے اپنی پگڑی سر پر رکھنے میں بہت محنت کرنی پڑ رہی تھی، کیونکہ گوشت حاصل کرنے کی کوشش میں چيلیں اپنی چونچوں سے سر پر حملہ آور تھیں۔'

اس واقعے کے تین ماہ بعد جب کانگریس کا وفد جانچ کے لیے وہاں پہنچا اس وقت بھی فضا میں لاشوں کی بدبو موجود تھی۔

شہر بھر کا بجلی پانی بند

دریں اثنا جلیانوالہ باغ میں قتل عام کے بعد جنرل ڈائر شام ساڑھے چھ کے آس پاس اپنے کیمپ پہنچے۔ انھوں نے پورے شہر کی بجلی اور پانی کو کاٹ دیا۔

رات دس بجے انھوں نے شہر کا ایک بار پھر دورہ کیا تاکہ یہ دیکھ سکیں کہ گھر سے نہ نکلنے کے اس کے حکم کی پابندی ہو رہی ہے یا نہیں۔

اس سے زیادہ ظلم کی اور کیا بات ہو سکتی تھی کہ لوگوں کے بچے، رشتہ دار اور بزرگ جلیانوالہ باغ میں زخمی تڑپ رہے تھے یا مرے پڑے تھے اور لوگوں کو ان کی مدد کے لیے باہر آنے کی بھی اجازت نہیں تھی۔

ڈائر کو اس رات سڑک پر ایک شخص بھی نظر نہ آیا لیکن پورا شہر جاگ رہا تھا اور وہاں ایک منحوس سناٹا چھایا ہوا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ NATIONAL ARMY MUSEUM
Image caption جنرل ڈائر کہا تھا مجھے اپنا فرض نبھانے کے لیے نکالا گیا

ڈائر کو ہاؤس آف لارڈز نے کلین چٹ دی

ابتدا میں تو برطانوی حکومت نے اس قتل عام کا کوئی نوٹس نہیں لیا لیکن جب خبر پھیلنے لگی تو انھوں نے اس کی تحقیقات کے لیے ہنٹر کمیٹی تشکیل دی۔

نوتیج سارنا بتاتے ہیں: 'ہنٹر کمیٹی کی رپورٹ میں ایک متفقہ رپورٹ تھی اور دوسری اقلیت کی رپورٹ تھی۔ دونوں فریقوں نے ڈائر کو غلط کہا لیکن کس حد تک، اس میں دونوں میں اختلافات تھے۔ لیکن پنجاب کے لیفٹیننٹ گورنر مائیکل او ڈائر کو انھوں نے کچھ بھی نہیں کہا۔'

’برطانوی حکومت نے ڈائر کو استعفی دینے کے لیے کہا۔ وہاں کے ہاؤس آف كامنز میں اس معاملے پر شدید بحث ہوئی اور وہاں بھی یہ طے پایا گیا کہ جو ڈائر نے کیا، وہ مکمل طور پر غلط تھا۔ لیکن ہاؤس آف لارڈز نے اس کو الٹ دیا۔ اور برطانوی حکومت سے کہا کہ اس نے ڈائر کے ساتھ ناانصافی کی ہے۔'

اموات کی متنازع تعداد

ہنٹر کمیٹی نے اعتراف کیا کہ فائرنگ میں 379 افراد ہلاک ہوئے جن میں 337 مرد اور 41 بچے شامل تھے۔

اس رات ڈائر نے جب پنجاب کے لیفٹیننٹ گورنر او ڈائر کو اپنی رپورٹ بھیجی تو اس میں کہا کہ تقریباً 200 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

لیکن كشور ڈیسائی بتاتی ہیں: 'بہت سے عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ کم از کم ہزار لوگوں کی موت ہوئی اور قریب چار پانچ ہزار زخمی ہوئے۔ کچھ ایسے بھی تھے جو باغ میں نہ مر کر اپنے گھر جا کر مرے۔'

Image caption ریحان فضل سابق سفیر اور مصنف نوتیج سارنا کے ساتھ بی بی سی سٹوڈیو میں

'لوگوں کو پتہ نہیں چلا کہ کتنے لوگ مرے، کیونکہ وہاں خوف کا ماحول تھا۔ انگریزوں کی طرف سے کہا جا رہا تھا کہ اگر آپ جلیانوالہ باغ میں موجود تھے، تو آپ نے حکومت کے خلاف غداری کی۔ اس لیے لوگ بتا ہی نہیں رہے تھے کہ ہمارا کوئی رشتہ دار مرا یا زخمی ہوا۔'

'ہمارے 'آرٹ اور کلچرل ہیریٹیج ٹرسٹ' اور 'پارٹیشن میوزیم' نے مرنے والوں کی تمام فائلوں کی گہری جانچ پڑتال کی ہے۔ ہم نے 502 مرنے والوں کے مکمل طور پر 'كنفرم' نام نکالے ہیں۔'

’اس کے علاوہ 45 لاشیں ایسی تھیں جو باغ میں پڑی ہوئی تھیں اور ان کی شناخت نہیں ہو پائی۔ ہم پورے اعتماد کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ اس 'سانحے' میں کم از کم 547 افراد ہلاک ہوئے تھے۔'

مہاتما گاندھی اور رابندر ناتھ ٹیگور کا احتجاج

اس واقعہ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے مہاتما گاندھی نے اپنے تمام تمغے واپس کر دیے۔ رابندر ناتھ ٹیگور نے وائسرائے چیمزفورڈ کو خط لکھ کر نائٹ ہڈ کا اعزاز واپس کر دیا۔

اس کے بعد ہندوستانیوں اور برطانیہ کے درمیان جو خلیج پیدا ہوئی اسے کبھی ختم نہیں کیا جا سکا اور اس واقعے کے 28 سال بعد انگریزوں کو ہندوستان سے جانا پڑا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں