دوحہ میں ہونے والی بین الافغان کانفرنس منسوخ

  • خدائے نور ناصر
  • بی بی سی، اسلام آباد
،تصویر کا کیپشن

قیام امن کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد اور افغان طالبان کے ایک بانی رہنما ملا عبدالغنی برادر کی قطر میں پہلی ملاقات ہوئی تھی

کابل میں افغان صدارتی محل سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ 20 اور 21 اپریل کو قطر کے شہر دوحہ میں ہونے والی بین الافغانی کانفرنس قطر حکومت کی جانب سے منسوخ کردی گئی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ قطر حکومت کی جانب سے کانفرنس کے شرکا کے بارے میں افغان حکومتی فہرست کے علاوہ کوئی اور فہرست بھیجی گئی تھی، جو اُنھیں قابل قبول نہیں۔

یہ بھی پڑھیے!

’طالبان پورے افغانستان پر قبضے کے خواہاں نہیں ہیں'تاہم دوسری جانب افغانستان کے لئے امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمئے خلیل زاد نے اپنے ٹیوٹر پیغام میں کہا ہے، کہ یہ کانفرنس منسوخ نہیں، ملتوی ہوئی ہے۔

جمعرات کو افغان حکومت کے ایک وفد نے خصوصی طیارے کے ذریعے کابل سے قطر کے دارالحکومت دوحہ جانا تھا، لیکن وفد میں شامل ارکان کو ہوائی اڈے پہنچنے کے بعد سفر ملتوی ہونے کا پیغام ملا۔ افغان حکومت نے اس کانفرنس کے لئے 250 رکنی وفد کا اعلان کیا تھا۔

تاہم جمعرات کو افغان میڈیا میں ایک اور فہرست شائع ہوئی تھی، جس میں 243 ارکان شامل تھے، لیکن اس فہرست میں افعان حکومت کی جانب سے جاری کی گئی فہرست میں سے صرف 61 لوگ شامل تھے۔

17 اپریل کو جاری کی گئ ایک پریس ریلیز میں افغان طالبان نے افغان حکومت کے اس وفد پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ کوئی شادی کی تقریب نہیں، جس میں اتنا بڑا وفد شرکت کررہا ہے۔

’افغان حکومت ایسے اقدامات سے امن مذاکرات کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے، کیونکہ وہ اس مذاکرات میں پیش رفت سے ڈرتے ہیں۔‘ افغان طالبان کے مطابق وہ افغان حکومت کی فہرست میں شامل صرف اُن اشخاص سے ملیں گے، جن کے نام اجلاس کے منتظمین کی لسٹ میں شامل ہیں۔

افغان طالبان کا کہنا تھا کہ اس کانفرنس میں کوئی بھی شخص افعان حکومت کی نمائندگی نہیں کرے گا اور حکومتی ارکان بھی ذاتی حیثیت سے کانفرنس میں شریک ہوں گے۔اُدھر افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی نے بھی بدھ کو کابل میں افغان حکومت کی جانب سے بنائے گئے وفد کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے اُن کو افغان حکومت اور افغان عوام کا نمائندہ وفد قرار دیا تھا۔

’آپ لوگ قطر میں اسلامی جمہوریہ افغانستان اور افغان عوام کی نمائندگی کرنے جارہے ہیں۔ آپ ہر افغان بچے، ہر عورت، ہر معذور، شہدا کے خاندان اور ہر فرد کے حقوق کی نمائندگی کرتے ہیں، ایسے حقوق جو افغانستان کے آئین میں درج ہیں۔‘

افغان صدر نے وفد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ طالبان کو افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات پر متفق کریں کیونکہ افغان حکومت سے مذاکرات کے علاوہ اُن کے پاس کوئی اور چارہ نہیں ہے۔ ’طالبان کو مذاکرات کے لئے تیار کرلیں، اُن سے کہیں کہ جنگ ختم کرنے کے لئے بات چیت کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے۔‘

تاہم حزب مخالف کے سیاستدان عطا محمد نور نے اس کانفرنس میں شرکت کرنے سے انکار کرتے ہوئے افغان حکومت پر الزام لگایا ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے امن مذاکرات کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔

،تصویر کا کیپشن

افغان طالبان کا کہنا تھا کہ اس کانفرنس میں کوئی بھی شخص افعان حکومت کی نمائندگی نہیں کرے گا

اس سے قبل رواں سال فروری میں انٹرا افغان کانفرنس روس کے شہر ماسکو میں ہوئی تھی، جس میں افغان سیاستدانوں نے شرکت کی تھی، لیکن اُس کانفرنس میں افغان حکومت کا کوئی وفد شامل نہیں تھا۔

امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان گذشتہ کئی ماہ سے جاری مذاکرات کے پانچ دور ہوچکے ہیں، لیکن ابھی تک امریکہ ان مذاکرات میں افغان طالبان کو افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنے کے لئے آمادہ نہیں کرسکا ہے۔