انڈیا میں انتخابات: غلط ووٹ ڈالنے پر آدمی نے اپنی انگلی کاٹ لی

انڈیا

،تصویر کا ذریعہYOGESH KUMAR SINGH

انڈیا میں جاری عام انتخابات کے دوسرے مرحلے میں اتر پردیش کے ایک ووٹر کا کہنا ہے کہ یہ احساس ہونے کے بعد کہ اس نے ’غلط‘ پارٹی کو ووٹ ڈال دیا ہے، اس نے اپنی انگلی کاٹ لی۔

ایک وائرل ہونے والی ویڈیو میں پون کمار نامی ووٹر کا کہنا ہے کہ اس نے غلطی سے حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو ووٹ ڈال دیا تھا۔

وہ ایک علاقائی سیاسی جماعت کو ووٹ ڈالنا چاہتا تھا مگر ووٹنگ مشین میں بہت سے انتخابی نشان دیکھ کر تذبذب کا شکار ہو گیا تھا۔ ووٹ ڈالنے کے بعد ہر ووٹر کی شہادت کی انگلی پر نہ مٹنے والی سیاہی لگائی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے!

انھوں نے جمعرات کو شمالی ریاست اترپردیش کے علاقے بلند شہر میں اپنا ووٹ ڈالا تھا۔ کمار کو ویڈیو میں یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ ’میں ہاتھی کے نشان پر ووٹ ڈالنا چاہتا تھا مگر میں نے غلطی سے پھول کے نشان پر ووٹ ڈال دیا۔‘

وہ ان نتخابی نشانات کی جانب اشارہ کر رہے تھے جو ووٹنگ مشین پر ہر امیدوار کے نام کے سامنے بنے ہوتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP

انڈین انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کا انتخابی نشان کنول کا پھول ہے جبکہ ہاتھی ایک علاقائی سیاسی جماعت باہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کا نشان ہے جو دیگر دو علاقائی سیاسی جماعتوں کے اتحاد کے ساتھ بی جے پی کے خلاف انتخاب لڑ رہی ہے۔

انڈیا جیسے ملک میں جہاں بیشتر علاقوں میں شرح خواندگی کم ہے وہاں انتخابی نشانات اہم کردار ادا کرتے ہیں کیونکہ یہ لوگوں کو ان کی سیاسی جماعت کی نشاندہی میں مدد دیتے ہیں۔

کمار ایک دلت ہیں۔ اس شہر میں دلت (جنھیں اچھوت بھی کہا جاتا ہے) علاقائی سیاسی جماعت بی ایس پی کے لیے اہم ووٹرز کی حیثیت رکھتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

انڈیا کی 12 ریاستوں میں انتخابات کے دوسرا مرحلے میں اے ایف پی کے مطابق 15 کروڑ سے زائد لوگ ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں

جمعرات کو ہونے والے انتخاب کو انڈیا کی علاقائی سیاسی جماعتوں کے لیے اہم تصور کیا جا رہا ہے۔ جن کی نمائندگی کرشماتی شخصیات کے مقامی سیاست دان کرتے ہیں اور ان ریاستوں میں سیاست پر غالب ہے۔

انڈیا میں سات مرحلوں پر مشتمل یہ الیکشن 19 مئی تک جاری رہے گا جب کہ ووٹوں کی گنتی اور نتائج کا اعلان 23 مئی کو ہو گا۔ ان انتخابات میں 90 کروڑ کے لگ بھگ افراد اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے اور اسے دنیا کا سب سے بڑا الیکشن قرار دیا جا رہا ہے۔