افغانستان: طالبان سے مذاکرات اور افغان خواتین کے خدشات

افغان خواتین
Image caption زن ٹی وی میں کام کرنے والی خواتین پُر عزم ہیں کہ وہ اپنے حقوق کے لیے لڑتی رہیں گی

خلیجی ریاست قطر میں طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا ساتواں دور جاری ہے۔ اس بات چیت میں ایک موضوع افغان حکومت اور طالبان کے درمیان اعتماد قائم کرنے کے لیے اقدامات طے کرنا بھی ہے۔ کچھ عرصہ قبل لیز ڈوسیٹ افغان خواتین سے ملیں جو ماضی کے طالبان ادوار کے پیشِ نظر ملک سے امریکی انخلا اور اس کے بعد کی ممکنہ صورتحال کے بارے میں فکرمند ہیں۔

جب 18 سالہ اوگائی وردک کا طالبان جنگجوؤں سے آمنا سامنا ہوا تو ان کے خوف کی جگہ ایک محتاط سی امید نے لے لی۔

انھوں نے خواتین کے لیے مخصوص افغان ٹی وی چینل، زن ٹی وی کے کابل سٹوڈیو میں مجھے ایک ملاقات کے دوران بتایا کہ ’ان (طالبان) کے چہرے ڈراؤنے تھے لیکن وہ رحم دل تھے۔‘

یہ بھی پڑھیے

افغان خواتین خودکشی کیوں کر رہی ہیں؟

’طالبان پورے افغانستان پر قبضے کے خواہاں نہیں ہیں'

ہنرمند افغان خواتین کا مینا بازار

وہ ایک پُرجوش شخصیت کی مالک، نوجوان خاتون ہیں۔ انھوں نے مجھے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ’آج کل کے طالبان ماضی جیسے نہیں ہیں، ان ڈراؤنی کہانیوں کی طرح نہیں جو میں نے سنی ہیں۔‘

وردک سنہ 2001 میں پیدا ہوئیں، اسی سال طالبان کو اقتدار سے بے دخل کیا گیا تھا۔ گذشتہ برس ہونے والی تین روزہ جنگ بندی کے دوران وردک چند طالبان جنگجوؤں سے ملی تھیں۔ جنگ بندی کے دوران وہ کابل کی گلیوں میں نکل آئے تھے اور انھیں سیلفیاں لیتے اور آئس کریم کھاتے دیکھا گیا۔

تاہم اس سوال پر کہ اگر طالبان اقتدار میں واپس آگئے تو کیا وہ اوگائی کو زن ٹی وی پر اپنا پروگرام جاری رکھنے کی اجازت دیں گے، ان کا فوری جواب تھا ’نہیں۔‘

تاہم انھوں نے کہا کہ ’لیکن مجھے ان سے لڑنا ہو گا کیونکہ یہ میرا خواب ہے اور مجھے اپنی بہنوں کے لیے کام کرنا ہے۔‘

خلیجی ریاست قطر میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان ہونے والے بات چیت کے نئے دور کے موقع پر افغان خواتین یہ بات سوچ رہی ہیں کہ اس میں ان کا کتنا فائدہ یا نقصان ہو گا۔

سیاست دان فوزیہ کوفی وہ واحد خاتون تھیں جنھوں نے فروری میں ماسکو میں ہونے والی بات چیت کے پہلے دور میں شرکت کی تھی۔

کابل میں ہوئی ایک ملاقات کے دوران انھوں نے اس بات کی تائید کی کہ ’یہ کوئی آسان مرحلہ نہیں تھا۔‘

فوزیہ کی کہانی ہر افغان عورت کی کہانی ہے جسے سکول جانے سے روکا گیا یا سڑک پر چلتے ہوئے پتھروں سے نشانہ بنایا گیا۔

فوزیہ کوفی کہتی ہیں ’جب میں کمرے میں داخل ہوئی تو جو کچھ انھوں نے اپنے دورِ اقتدار میں افغانستان میں کیا اس سب کی یاد میرے ذہن میں تازہ ہو گئی۔‘

انھوں نے بتایا ’ہم نے ایک دوسرے کو سنا اور ہم کچھ زیادہ اتفاق رائے پیدا نہیں کر پائے تاہم اس وقت مجھے اندازہ ہوا کہ ہم واپس نہیں جا سکتے۔‘

Image caption فوزیہ کی کہانی ہر اس افغان عورت کی کہانی ہے جسے سکول جانے سے روکا گیا یا سڑک پر چلتے پتھروں سے نشانہ بنایا گیا

ماضی کا افغانستان ایک مختلف ملک ہے۔ اس کا قدامت پسند معاشرہ طالبان کے جابرانہ اقتدار کے بعد سے بہت تبدیل ہو گیا ہے۔

یہ کہانی متاثر کن ہے لیکن ڈراؤنی بھی۔ افغانستان کو ابھی تک ’خواتین کے لیے بدترین ملک‘ کہا جاتا ہے جہاں خواتین میں خواندگی کی شرح صرف 17 فیصد ہے اور پھر بھی گذشتہ افغان پارلیمان میں خواتین تقریباً 25 فیصد نشستوں پر موجود تھیں۔

’ہم ابھی بھی مزاحمت کر رہے ہیں‘

غیر معمولی خواتین بڑے بڑے عہدوں تک پہنچی ہیں لیکن ابھی بھی ایسی خواتین کی تعداد کہیں زیادہ ہے جو شدید پابندیوں کا شکار قیدیوں جیسی زندگی گزار رہی ہیں اور ان کا اپنی زندگی کے فیصلوں پر بہت کم اختیار ہے۔

سر پر گلابی رنگ کا سکارف اوڑھے ایک نوجوان خاتون نے مجھے بتایا کہ ’میں نے اپنے والد کو بتایا کہ میں اپنی کلاس میں اول آئی ہوں اور بہتر مستقبل کی خاطر میں یونیورسٹی جانا چاہتی ہوں۔‘

وہ اس قدر ڈری ہوئی تھی کہ اپنا نام بھی ظاہر نہیں کر رہی تھی۔

’لیکن انھوں (والد) نے مجھے گن پوائنٹ پر دھمکایا اور کہا تمھیں وہی ماننا ہو گا جو میں کہتا ہوں۔‘

کابل کی آڑی ترچھی گلیوں میں لوہے کے دروازے والی ایک معمولی سی عمارت میں، ہم ان کے ساتھ دو اور بہادر خواتین سے ملے جو ہمارے ساتھ اپنی جبری شادیوں، گھریلو تشدد اور گھر سے فرار ہونے کے بارے میں بات کرنے پر رضامند ہو گئی تھیں۔

ان خواتین پر نگاہ رکھنے والی خاتون کی اپنی ہی ایک کہانی ہے۔

’طالبان کے دور میں، میں نے لڑکیوں کو اپنے گھر کے خفیہ کمرے میں پڑھایا، وہ اپنا نام بتانے سے ہچکچاتے ہوئے کہتی ہیں ’ہم ابھی بھی مزاحمت کر رہے ہیں۔‘

وہ ایسے افسوس بھرے لہجے میں بات کرتی ہیں جو ان حالات کی طرف اشارہ کرتا ہے جس کا سامنا ان جیسی ہزاروں افغان خواتین کر رہی ہیں لیکن ان کا لڑنے کا جذبہ، ڈر پر حاوی آ جاتا ہے۔

گلابی سکارف والی خاتون زور دیتے ہوئے کہتی ہیں ’میرے خیال میں خواتین کو مزاحمت کرنی چاہیے۔‘

انھوں نے بتایا کہ کیسے ان کے والد نے ان کو اندھیرے کمرے میں ڈیڑھ ماہ تک زنجیروں سے باندھے رکھا یہاں تک کہ وہ اپنے والد کی پسند کے لڑکے سے شادی پر رضامند ہو گئیں۔

’افغانستان میں کافی لوگ ناخواندہ ہیں اور مجھ جیسی لڑکیاں جو پڑھتی ہیں انھیں اپنی آواز ضرور اٹھانی چاہیے اور اپنے خاندانوں اور معاشرے کو سمجھانا چاہیے۔‘

Image caption حوریا قربانی ( دائیں طرف سے دوسری) نے اپنے خاندان کی توقعات کے برخلاف اپنے خوابوں کو پورا کیا

کابل میں حوریانا فٹنس جم کے باہر ایک دھاتی دروازہ لگا ہے تاکہ بن بلائے آنے والوں کو دور رکھا جا سکے۔

جم کی منتظم 19 سالہ حوریہ قربانی کہتی ہیں ’ہمیں متعدد مرتبہ دھمکیاں ملی ہیں اور متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر ہم نے جم بند نہ کیا تو ہمیں سزا ملے گی۔‘ اس جم میں خواتین کو باڈی بلڈنگ، یوگا اور رقص کی تربیت دی جاتی ہے۔

سکارف کے پیچھے سے نظر آتے گہرے سنہرے سٹریکڈ بالوں کے ساتھ وہ پر اعتماد نظر آتی ہیں۔

انھوں نے بتایا ’مجھے پہلی تنقید کا سامنا خاندان کی جانب سے ہوا۔ انھوں نے مجھے بتایا کہ تم ایک قدامت پسند معاشرے میں رہتی ہو تمھیں اس بات کی اجازت نہیں ہے اور نہ ہی تم میں اسی کی قابلیت ہے۔‘

طالبان، مذاکرات یا فوجی قبضے کے ذریعے واپس آئیں۔ یہ پہلے جیسا ہی ایک اور باب ہوگا۔

اپنی ورزش کرتی خواتین شاگردوں کے بیچ، حوریہ کا کہنا تھا کہ ’میں نے اپنی پوری زندگی ایک ایسے معاشرے میں بسر کی ہے جو مکمل طور پر خوف کا شکار ہے۔ ہم ہمیشہ خطرے میں ہوتے ہیں اس لیے میں اس کی عادی ہو گئی ہوں۔‘

طالبان لیڈر جو کہ افغان اور امریکی حکومت کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ وہ تبدیل ہو گئے ہیں۔ لیکن افغان خواتین ابھی بھی پوچھ رہی ہیں کہ ’کتنا؟‘

افغانستان میں وزیرِ پیٹرولیم 38 سالہ نرگس نیہان کا کہنا تھا کہ ’جب وہ پہلی مرتبہ اقتدار میں آئے تھے اس وقت اتنا بھی بہت تھا کہ خواتین کو صحت اور تعلیم کے شعبوں میں کام کرنے کی اجازت دی جاتی لیکن گزشتہ 18 برسوں میں ہم نے کافی ترقی کر لی ہے۔‘

نرگس، مائنز، پیٹرولیم اور انڈسٹری جیسی اہم وزارت پر فائز ہیں۔ وہ ان چند خواتین وزیروں اور نائب وزیروں میں سے ایک ہیں جن کی تعداد بڑھ رہی ہے۔

کابل کے ایک ہوٹل کے بال روم میں انرجی سیکٹر میں کام کرنے والی بے شمار خواتین کے اجتماع سے نکلتے ہوئے وہ پوچھتی ہیں ’کیا ہم صدارتی امیدوار ہو سکتی ہیں؟ کیا ہم جوڈیشل سیکٹر میں جج ہو سکتی ہیں؟ کیا ہم اپنے ملٹی ملین ڈالر کے کاروبار کی مالک ہو سکتی ہیں؟ کیا ہم ملک کے سیاسی معاملات میں باقاعدہ اور بامعنی شرکت کر سکتی ہیں؟‘

فوزیہ کوفی نے بتایا کہ ان سوالات کا جواب انھیں اس طرح ملا کہ ’طالبان کے وفد میں شامل ایک شخص نے میری گفتگو کے بعد 15 منٹ کی تقریر کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کو کام کرنے، جائیداد رکھنے، اپنا ہمسفر منتخب کرنے اور سکول جانے کی اجازت ہے جو کہ طالبان کے دور میں ممنوع تھی تاہم خواتین ملک کی صدر نہیں بن سکتیں۔‘

اس کے بعد وہ متنبہ کرتی ہیں ’ان خیالات پر تمام طالبان متفق نہیں، خاص کر وہ جو ابھی تک لڑ رہے ہیں۔‘

طالبان سے نمٹنے سے پہلے افغان خواتین، اس سفارتی وفد میں جگہ بنانے کے لیے کوشش کر رہی ہیں جس میں مشہور جنگی سردار اور ماضی کی جنگوں کے طاقت ور افراد شامل ہیں۔

افغان ویمن نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والی میری اکرامی نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ’افغانستان میں پائیدار امن نئی نسل اور افغان خواتین کی بھرپور شرکت کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتا اور پھر روز کے مسائل جن سے ہمیں لڑنا پڑتا ہے۔‘

زن ٹی وی میں مرکزی نیوز کاسٹر 28 سالہ سلمیٰ سخی کہتی ہیں کہ ’خواتین کے لیے زندگی بہت مشکل ہے خاص کر صوبوں میں۔‘

اپنے کردار کے بارے میں بات کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں ’ہمیں یہ دکھانے کی ضرورت ہے کہ خواتین کام کر رہی ہیں۔‘ ان کے چینل میں خواتین کو صحافت کے ہر پہلو، پروڈکشن سے لے کر پریزینٹیشن تک کی ٹرینگ دی جاتی ہے۔

میڈیا ایگزیکیٹیو حامد ثمر، جنھوں نے دو سال قبل زن ٹی وی شروع کیا تھا، کہتے ہیں کہ ہمارا عزم 80 سے 85 فیصد خواتین عملے کا ہے۔

وہ کہتے ہیں ’ہمیں مردوں کی بھی ضرورت ہے۔ ہمیں ثابت کرنا ہے کہ ہم کندھے سے کندھا ملا کر ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘

دوسرے کئی صحافیوں کی طرح زن ٹی وی میں کام کرنے والی خواتین کو بھی دھمکیاں ملتی ہیں۔

انتہائی پروفیشنل انداز میں دنیا کے نقشے سے سجے ہوئے گہرے گلابی رنگ کے سٹوڈیو میں، سخی، دن کا ٹی وی نیوز بلیٹن پڑھ رہی ہیں۔

اپنی اندھیری دنیا کو روشن کرنے کے جذبے سے سرشار سخی کہتی ہیں ’مجھے اپنے کام سے محبت ہے اور میں اسے کھونا نہیں چاہتی۔‘

اسی بارے میں