سری لنکا: ایسٹر کے موقع پر گرجا گھروں اور ہوٹلوں پر بم حملوں میں 290 ہلاک، 500 زخمی

سری لنکا بم حملے تصویر کے کاپی رائٹ EPA

سری لنکا میں اتوار کو مسیحی تہوار ایسٹر کے موقع پر ہونے والے دھماکوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 290 ہو گئی ہے جبکہ 500 افراد زخمی ہیں۔

ان دھماکوں کے بعد ملک بھر میں جو کرفیو نافذ کیا گیا تھا اسے پیر کی صبح چھ بجے ختم کر دیا گیا ہے۔

اتوار کی صبح ہونے والے ان دھماکوں میں کولمبو سمیت تین شہروں میں تین ہوٹلوں اور تین گرجا گھروں کو نشانہ بنایا گیا اور ہلاک شدگان میں مقامی باشندوں کے علاوہ غیر ملکی بھی شامل ہیں۔

اس بارے میں مزید

سری لنکا میں ہونے والے حملوں کی تصویری جھلکیاں

اتوار کو رات گئے سری لنکا کے وزیرِاعظم رانیل وکرماسنگھے نے کہا کہ ملک میں سکیورٹی کے ذمہ دار اداروں کو ممکنہ حملوں کے بارے میں ’اطلاع‘ تھی۔

ان حملوں کے بعد کم از کم 24 افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ہے لیکن سری لنکن حکومت نے تاحال ان حملوں کے لیے کسی گروپ کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا ہے اور نہ ہی کسی نے اس کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

ایسی اطلاعات بھی ملی ہیں کہ ملک میں افواہوں کو روکنے کے لیے سوشل میڈیا تک رسائی بھی عارضی طور پر بند کر دی گئی ہے اور واٹس ایپ اور فیس بک کے استعمال کی سہولت اکثر افراد کو میسر نہیں۔

اتوار کی شب سری لنکن فضائیہ نے کہا ہے کہ کولمبو کے ایئرپورٹ کے قریب نصب دھماکہ خیز مواد برآمد کر کے ناکارہ بنایا گیا ہے۔

فضائیہ کے ترجمان گیہان سنیوارتنے نے مقامی ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ ’پلاسٹک کا ایک چھ فٹ لمبا پائپ ملا جس میں دھماکہ خیز مواد موجود تھا۔‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
سری لنکا میں یکے بعد دیگرے متعدد بم دھماکوں میں کم از کم 290 افراد ہلاک ہوئے

حملے کب شروع ہوئے؟

سب سے پہلے دھماکوں کی اطلاع اتوار کی صبح نو بجے کے قریب ملی جب کولمبو اور اس کے علاوہ دیگر دو شہروں، نیگمبو اور بٹّی کالؤا میں تین گرجا گھروں میں دھماکے ہوئے۔

اس کے علاوہ دارالحکومت کولمبو میں تین ہوٹلوں دی شینگریلا، سینامن گرانڈ اور کنگز بری کو نشانہ بنایا گيا۔

پولیس نے جب ان دھماکوں کے ذمہ داران کی تلاش شروع کی تو مزید دو دھماکوں کی اطلاع ملی۔

ان میں سے ایک جنوبی کولمبو میں چڑیا گھر کے نزدیک ہوا جبکہ دوسرا دیماتاگوڈا نامی علاقے میں پولیس کے ایک چھاپے کے دوران ہوا جس میں تین پولیس اہلکار بھی مارے گئے۔

اتوار کی شب سری لنکن فضائیہ نے کہا ہے کہ کولمبو کے ایئرپورٹ کے قریب نصب دھماکہ خیز مواد برآمد کر کے ناکارہ بنایا گیا ہے۔

فضائیہ کے ترجمان گیہان سنیوارتنے نے مقامی ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ 'پلاسٹک کا ایک چھ فٹ لمبا پائپ ملا جس میں دھماکہ خیز مواد موجود تھا۔'

ہلاک شدگان میں کون کون شامل ہے؟

اطلاعات کے مطابق اب تک دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کی کل تعداد 290 تک پہنچ چکی ہے اور پانچ سو افراد زخمی ہیں۔

ان حملوں میں مرنے والوں میں بیشتر سری لنکن شہری تھے جن میں مسیحیوں کی بڑی تعداد شامل ہے جو ایسٹر کی تقریبات میں شریک تھے۔

سری لنکن وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ان کے علاوہ 35 غیرملکیوں کی لاشیں بھی کولمبو کے مردہ خانے میں ہیں جن کی شناخت کا عمل جاری ہے۔

ہلاک ہونے والے غیرملکیوں میں چھ انڈین باشندے جبکہ کم از کم پانچ برطانوی شہری ہیں جن میں سے دو کے پاس امریکی شہریت بھی تھی۔

برطانوی رکن پارلیمان ٹیولپ صدیق نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں بتایا کہ ان کا ایک رشتہ دار بھی مرنے والوں میں شامل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption کولمبو میں تین ہوٹلوں دی شینگریلا، سینامن گرانڈ اور کنگز بری کو نشانہ بنایا گيا۔

اس کے علاوہ سری لنکن حکام کے مطابق ڈنمارک کے تین جبکہ پرتگال اور ہالینڈ کا ایک، ایک شہری بھی ہلاک ہوا ہے۔

آسٹریلیا کے وزیراعظم سکاٹ موریسن نے تصدیق کی ہے کہ دھماکوں میں دو آسٹریلوی بھی مارے گئے جن کا تعلق ایک ہی خاندان سے تھا اور وہ سری لنکا میں رہائش پذیر تھے۔

ترک خبر رساں ادارے اناطولو نے دو ترک انجینیئرز کی ہلاکت کی خبر بھی دی ہے جبکہ چینی اخبار چائنا ڈیلی کے مطابق چین کے دو شہری جبکہ جاپانی حکومت کے ذرائع کے مطابق ایک جاپانی شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

تحقیقات جاری

اتوار کو ان دھماکوں کے بعد پولیس نے اب تک 24 افراد کو حراست میں لیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں دھماکوں میں سے کچھ خودکش حملے بھی تھے۔

اتوار کی شب ایک پریس کانفرنس میں سری لنکا کے وزیراعظم رانیل وکرماسنگھے کا کہنا تھا کہ اس امر کی تحقیقات ہونی چاہییں کہ ممکنہ حملوں کے بارے میں انٹیلیجنس رپورٹس پر کیوں کارروائی نہیں کی گئی۔

انھوں نے کہا نہ ہی انھیں اور نہ ہی ان کے کسی وزیر کو ممکنہ حملوں کے بارے میں اطلاعات سے آگاہ کیا گیا تھا۔

تاہم انھوں نے کہا کہ اس وقت ترجیح حملہ آوروں کی گرفتاری ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption کولمبو ، نیگمبو اور بٹّی کالؤا میں تین گرجا گھروں میں دھماکے ہوئے

حکام نے عوام سے کہا ہے کہ وہ پرسکون رہیں اور ان دھماکوں کی تحقیقات جاری ہیں۔ سری لنکا کے وزیرِ دفاع روان وجےوردھنے نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ان دھماکوں کے پیچھے کسی ایک گروہ کا ہاتھ لگتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہم 'ہر اس انتہاپسند گروپ کے خلاف تمام ضروری کارروائی کریں گے جو ہمارے ملک میں کام کر رہا ہے۔ ہم ان کے پیچھے جائیں گے چاہے وہ جس بھی مذہبی انتہا پسندی کے پیروکار ہیں۔'

انھوں نے کہا کہ 'ہمیں یقین ہے کہ جو بھی مجرم اس بدقسمت دہشت گرد کارروائی میں ملوث ہیں ہم انھیں جتنا جلد ممکن ہو گرفتار کر لیں گے۔'

دریں اثنا سری لنکا کی حکومت نے ملک میں زیادہ تر سوشل میڈیا سروسز کو عارضی طور بند کر دیا ہے اگرچہ بی بی سی کو سری لنکا میں موجود لوگوں کی طرف سے کافی سوشل میڈیا پیغامات ملے ہیں۔

کولمبو کے کارڈینل آرک بشپ میلکم رنجیت نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سری لنکا کے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ 'افواہوں پر نہ جائيں بلکہ صبر کے ساتھ انتظار کریں اور امن و صلح کے لیے کام کریں۔'

دنیا بھر سے تعزیتی پیغامات

دنیا بھر سے سربراہان مملکت نے اس موقعے پر پیغامات بھیجے ہیں۔ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے لکھا: 'میں سری لنکا میں ایسٹر کے اتوار کو ہونے والے خوفناک دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتا ہوں جس میں قیمتی جانیں ضائع ہو گئی اور سینکڑوں زخمی ہو گئے ہیں۔ ہم سری لنکا کے اپنے بھائی کے ساتھ تعزیت کرتے ہیں۔ پاکستان اس غم کی گھڑی میں پوری طرح سری لنکا کے ساتھ کھڑا ہے۔'

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی اور صدر کوند نے اپنے پیغامات میں سری لنکا میں دہشت گرد حملوں کی مذمت کی ہے اور حکومت اور وہاں کی عوام سے اظہار تعزیت کیا ہے۔

وزیر اعظم مودی نے لکھا: 'سری لنکا میں ہونے والا دہشتناک دھماکوں کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ اس طرح کی بربریت کی ہمارے خطے میں کوئی جگہ نہیں۔ انڈیا سری لنکا کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔۔۔'

آسٹریلیا کے وزیر اعظم سکاٹ موریسن نے کہا کہ 'میں سری لنکا میں ایسٹر کے موقعے پر گرجا گھروں اور ہوٹلوں میں ہونے والے خوفناک اور تباہ کن دہشت گرد حملوں کی مذمت کرتا ہوں۔ میں آج دو پہر محکمۂ خارجہ اور تجارت سے اس معاملے پر حالات کا جائزہ لے رہا ہوں۔ اگر آپ سری لنکا کے سفر پر روانہ ہونے والے اپنے کسی دوست یا اہل خانہ کے بارے میں معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس نمبر 1300555135 پر فون کریں۔'

سری لنکا میں برطانیہ کے ہائي کمشنر جیمز دورس نے اپنے ٹویٹ میں لکھا ’آج کولمبو میں یوم ایسٹر کی جس سروس میں میں اور میرے اہل خانہ تھے وہ ہوٹلوں میں دھماکوں کے بعد بیچ میں ہی روک دی گئي۔ اس شیطانی حملے کے شکار افراد اور ان کے اہل خانہ کے لیے ہم دعاگو ہیں۔ ہم میڈیکل سٹاف، پولیس اور امدادی کارکنوں کے ساتھ ہیں۔'

سری لنکا میں امریکی سفیر ٹپ لٹز نے لکھا: 'سری لنکا میں آج ہونے والے خبطی حملے پر بہت اداس ہوں۔ اس کے شکار اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہماری نیک خواہشات ہیں۔ ہم ان خوفناک حالات میں سری لنکا کے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔'

ٹوئٹر پر وزیرخزانہ منگلا سمرویرا نے کہا ہے کہ یہ حملے قتل و غارت اور بد امنی پھیلانے کے لیے کیے گئے ہیں جس میں معصوم جانوں کا ضیاع ہوا ہے۔

ایک دوسرے وزیر ہرش ڈی سلوا نے کوچھیکاڈے میں سینٹ اینتھونی کے گرجا گھر کے منظر کو مہیب منظر قرار دیا اور بتایا کہ انھوں نے وہاں جسموں کے ٹکڑے جگہ جگہ بکھرے ہوئے دیکھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں