سری لنکا میں سوگ، ہلاکتوں کی تعداد 321 ہو گئی

تدفین سری لنکا تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

سری لنکا میں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ایسٹر کے موقع پر ہونے والے خودکش دھماکوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 321 تک پہنچ گئی ہے جبکہ ملک میں ہنگامی حالت نافذ ہے۔

پولیس کے مطابق تقریباً 500 افراد زخمی ہیں۔

منگل کو ان ہلاکتوں پر ملک میں سرکاری سطح پر سوگ منایا جا رہا ہے جبکہ ہلاک شدگان کی آخری رسومات کی ادائیگی کا عمل بھی شروع ہو گیا ہے۔

سری لنکا کے وزیر اعظم رانیل وکرما سنگھے نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا کہ معصوم جانوں کے ضیاع پر منگل کو سری لنکا سوگ منا رہا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ 'اس ناقابل بیان المیے کے تناظر میں یہ ضروری ہے کہ ہم سری لنکن بطور قوم متحد رہیں۔'

ہلاک شدگان کی یاد میں منگل کی صبح ساڑھے آٹھ بجے ملک بھر میں تین منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ یہ وہ لمحہ تھا جب پہلا دھماکہ ہوا تھا۔ یومِ سوگ کے موقع پر ملک بھر میں پرچم سرنگوں رہے اور عوام نے مختلف مقامات پر جمع ہو کر ہلاک شدگان کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

خود کو دولتِ اسلامیہ کہنے والی شدت پسند تنظیم نے منگل کو ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ سری لنکا کی حکومت نے ان حملوں کے لیے ایک غیر معروف مقامی جہادی گروپ 'قومی توحید جماعت' کو ذمہ دار قرار دیا ہے۔

سری لنکا میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے بیان کے معاملے میں احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ اگرچہ اس گروپ نے ماضی میں بھی شدت پسند حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے تاہم اس حوالے سے کوئی ثبوت فراہم نہیں کیے۔

اس بارے میں مزید

قومی توحید گروپ کون ہے؟

’سمجھتا تھا کہ سری لنکا نے تشدد پیچھے چھوڑ دیا ہے۔۔۔‘

سری لنکا میں درجنوں ہلاکتوں کے بعد سوگ، کرفیو اٹھا لیا گیا

سری لنکا میں ہونے والے حملوں کی تصویری جھلکیاں

حکومت نے ان حملوں کے لیے ایک غیر معروف مقامی جہادی گروپ ’قومی توحید جماعت‘ کو ذمہ دار قرار دیا ہے اور منگل کی صبح پولیس کے ایک ترجمان نے بتایا ہے کہ اب تک 40 افراد کو اس سلسلے میں گرفتار کیا گیا ہے۔

سری لنکا میں اتوار کو تین ہوٹلوں اور تین گرجا گھروں کو خودکش حملہ آوروں نے نشانہ بنایا تھا اور یہ اطلاعات سامنے آنے کے بعد کہ انٹیلیجنس حکام نے مقامی پولیس کو ایسے ممکنہ حملوں کے بارے میں خبردار کر رکھا تھا، وزیراعظم وکرماسنگھے کی حکومت پر تنقید میں تیزی آ رہی ہے۔

ان حملوں میں 35 غیرملکیوں کے علاوہ بڑی تعداد میں سری لنکن مسیحی مارے گئے جبکہ 500 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے۔ ہلاک شدگان کی آخری رسومات کولمبو کے شمال میں نیگومبو کے سینٹ سباسچیئن چرچ میں ادا کی جا رہی ہیں۔ یہ گرجا گھر ان مقامات میں سے ایک ہے جنھیں اتوار کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وزیر اعظم رانیل وکرما سنگھے (بیچ میں) ایک بم دھماکے کی جگہ کا دورہ کرنے پہنچے

پیر کو سری لنکن حکام نے کہا تھا کہ یہ حملے ایک بین الاقوامی نیٹ ورک کی مدد سے کیے گئے۔

سری لنکا میں کابینہ کے ترجمان رجیتھا سینارتنے نے کہا کہ ’ہم یہ تسلیم نہیں کرتے کہ یہ حملہ ایسے گروپ نے کیا جو صرف اس ملک تک محدود ہے۔ اس میں بین الاقوامی نیٹ ورک شامل تھا جس کی مدد کے بغیر یہ حملے کامیاب نہیں ہو سکتے تھے۔‘

تاہم اب یہ اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ سکیورٹی ایجنسیوں نے جہادی گروپ 'قومی توحید جماعت' پر نظر رکھی ہوئی تھی اور پولیس کو ممکنہ حملے کے بارے میں آگاہ کر رکھا تھا۔

تاہم وزرا کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم رانیل وکرما سنگھے اور کابینہ کو ایسی کوئی سکیورٹی بریفنگ نہیں دی گئی تھی۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
سری لنکا میں خود کش حملے کہاں کہاں ہوئے؟

'بڑی انٹیلیجنس ناکامی'

شہری منصوبہ بندی کے وزیر رؤف حکیم نے ان حملوں کو 'بڑی انٹیلیجنس ناکامی' قرار دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ 'یہ ہم سب کے لیے شرم کی بات ہے اور ہم سب اس کے لیے شرمندہ ہیں۔'

وزیر مواصلات ہرین فرنانڈو نے ٹویٹ کیا: 'بعض انٹیلیجنس اہلکار اس واقعے کے بارے میں آگاہ تھے۔ اس کا مطلب ہے کہ عمل کرنے میں تاخیر ہوئی۔ ان انتباہ کو نظر انداز کیوں کیا گیا اس پر سخت کارروائی کی ضرورت ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حملے کے ایک دن بعد کولمبو میں سینٹ اینتھونی چرچ کے سامنے لوگ جمع ہوئے

کابینہ کے ترجمان رجیتھا سینا رتنے نے بتایا کہ گذشتہ سال صدر میتھری پال سریسینا کے ساتھ کشیدگی کے بعد سے وزیر اعظم سکیورٹی بریفنگ کے حلقے میں شامل نہیں ہیں۔

صدر سریسینا نے اکتوبر میں رانیل وکرماسنگھے اور ان کابینہ کو برخاست کر دیا تھا اور ان کی جگہ دوسرا وزیر اعظم لانے کی کوشش کی تھی جس سے ملک میں بڑا آئینی بحران پیدا ہو گيا تھا۔

ملک کی سپریم کورٹ کی جانب سے دباؤ کے بعد صدر کو وزیراعظم وکرما سنگھے کو ان کے عہدے پر بحال کرنا پڑا لیکن بظاہر انھوں نے وزیر اعظم کو سکیورٹی بریفنگ کے حلقے سے باہر رکھا ہے۔

رجیتھا سینارتنے نے کہا کہ انٹیلیجنس ایجنسیوں نے گروپ کے بارے میں چار اپریل کے بعد سے انتباہ جاری کرنا شروع کر دیا تھا جس کے بعد وزارت دفاع نے پولیس سربراہ کو ایک مفصل وارننگ بھیجی تھی اور 11 اپریل کو مختلف سکیورٹی شعبوں کے سربراہوں کو ایک میمو بھیجا گیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ پولیس کو یہ معلومات فراہم کی گئیں اور اس کے ساتھ ہی ایک غیر ملکی انٹیلیجنس ایجنسی کی جانب سے حاصل ہونے والے انتباہ سے بھی انھیں باخبر کیا گیا تھا کہ کس گروپ کی جانب سے ممکنہ حملہ ہو سکتا ہے اور ان کے ارکان کے نام بھی بتائے گئے تھے۔

امریکی میڈیا نے سری لنکا کے حکام کے حوالے سے کہا ہے امریکہ اور انڈیا دونوں ممالک کی انٹیلیجنس نے اپریل کے اوائل میں کسی خطرے کے متعلق خبردار کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption دارالحکومت کولمبو میں تین ہوٹلوں دی شینگریلا، سینامن گرانڈ اور کنگز بری کو نشانہ بنایا گيا

پیر تک یہ واضح نہیں تھا کہ آيا صدر سریسینا کے پاس یہ انتباہی معلومات تھیں یا نہیں۔ سریسینا کے سینیئر مشیر شیرل لکتھیلکا نے بی بی سی کو بتایا: 'ہمارا خیال ہے کہ اسے ٹھیک ڈھنگ سے پولیس اور سکیورٹی کے درمیان جاری کیا گیا تھا۔'

انھوں نے بتایا کہ صدر نے ایک سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں ایک مخصوص کمیٹی تشکیل دی جو اس معاملے کی تحقیقات کرے گی۔

حکومت نے کیا اقدامات کیے؟

سری لنکا کے حکام نے ملک میں ہنگامی حالت کے نفاذ کا اعلان کیا ہے جو پیر کی نصف شب سے لاگو ہو گئی ہے۔

اس کے نتیجے میں پولیس اور فوج کو عدالت کے حکم کے بغیر کسی بھی مشتبہ شخص کو حراست میں لینے اور تفتیش کرنے کے وسیع اختیارات حاصل ہو گئے ہیں۔ یہ اختیارات اس سے پہلے ملک میں جاری خانہ جنگی کے دوران انھیں حاصل تھے۔

سوموار کو رات آٹھ بجے کے بعد کرفیو بھی نافذ کر دیا گيا جس کے بعد سکیورٹی فورسز کو کولمبو کی سنسان سڑکوں پر گشت کرتے دیکھا گیا۔

حکومت نے دھماکوں کے بعد فیس بک، واٹس ایپ اور انسٹاگرام کو بھی بند کر دیا۔

پولیس نے ان حملوں کے بعد مختلف چھاپوں میں 24 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے اور بعد میں کہا کہ انھیں پیٹا میں بستیاں مواتھا پرائیوٹ بس سٹینڈ پر 87 دھماکہ خیز بم ملے۔

پیر کو کولمبو کی ایک سڑک پر ایک بم اس وقت پھٹ گیا جب پولیس اسے ناکارہ بنانے کی کوشش کر رہی تھی۔ تاہم اس واقعے میں کوئی زخمی نہیں ہوا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

مبینہ حملہ آوروں کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

ان حملوں کے لیے قومی توحید جماعت (این ٹی جے) پر حکومت کے ترجمان نے شبہ ظاہر کیا ہے۔

اس گروپ کی بڑے سطح پر حملے کی کوئی تاریخ نہیں ہے لیکن گذشتہ سال بودھ مذہب کے مجسموں کو نقصان پہنچانے کا الزام ان پر لگایا گیا تھا۔

ہلاک شدگان میں کون کون شامل ہے؟

اطلاعات کے مطابق اب تک دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کی کل تعداد 290 تک پہنچ چکی ہے اور تقریبا 500 افراد زخمی ہیں۔

ان حملوں میں مرنے والوں میں بیشتر سری لنکن شہری تھے جن میں مسیحیوں کی بڑی تعداد شامل ہے جو ایسٹر کی تقریبات میں شریک تھے۔

سری لنکن وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ 31 غیرملکیوں کی شناخت شدہ لاشوں کے علاوہ 14 غیر شناخت لاشیں بھی کولمبو کے مردہ خانے میں ہیں جن کی شناخت کا عمل جاری ہے۔

ہلاک ہونے والے غیرملکیوں میں کم از کم آٹھ انڈین باشندے اور آٹھ برطانوی شہری شامل ہیں۔

برطانوی رکن پارلیمان ٹیولپ صدیق نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں بتایا کہ ان کا ایک رشتہ دار بھی مرنے والوں میں شامل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اس کے علاوہ سری لنکن حکام کے مطابق ڈنمارک کے تین جبکہ پرتگال اور ہالینڈ کا ایک، ایک شہری بھی ہلاک ہوا ہے۔

آسٹریلیا کے وزیراعظم سکاٹ موریسن نے تصدیق کی ہے کہ دھماکوں میں دو آسٹریلوی بھی مارے گئے جن کا تعلق ایک ہی خاندان سے تھا اور وہ سری لنکا میں رہائش پذیر تھے۔

ترک خبر رساں ادارے اناطولو نے دو ترک انجینیئرز کی ہلاکت کی خبر بھی دی ہے جبکہ چینی اخبار چائنا ڈیلی کے مطابق چین کے دو شہری جبکہ جاپانی حکومت کے ذرائع کے مطابق ایک جاپانی شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

مرنے والوں میں ڈنمار کے ارب پتی اینڈرس ہولچ پوولسین کے تین بچے بھی شامل ہیں۔

چین نے اپنے شہریوں سے سری لنکا کے سفر سے باز رہنے کے لیے کہا ہے جبکہ امریکی وزارت خارجہ نے اتوار کو مزید حملوں کے بارے میں خبردار کیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں