سری لنکا حملے: سکیورٹی فورسز کو ایک سفاک حریف کا سامنا

سری لنکا تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

سری لنکا کی ریاست صدمے، حیرت اور الجھن کا شکار ہے۔ یہ سمجھنے کی کوشش کر رہی ہے کہ کسی طرح ایک غیر معروف اسلامی گروپ نے مسیحیوں کے مقدس تہوار ایسٹر کے موقعے پر ملک میں منظم خود کش حملوں سے تباہی مچا دی۔

دس سال قبل ملک میں خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد یہ حملے ایک بڑی قیامت بن کر ٹوٹے ہیں۔

جنوبی ایشیا کی چاروں طرف سے سمندر میں گھری اس ریاست کو ماضی میں اس طرح کے حملوں کا بہت تجربہ ہے۔ خودکش حملوں کو تامل ٹائیگرز بھی ملک کی طویل خانہ جنگی کے دوران ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے تھے لیکن ان تازہ حملوں میں جو ظالمانہ انداز اختیار کیا گیا ہے اس سے پوری قوم سکتے میں چلی گئی ہے۔

ابتدائی صدمے سے نکلنے کے بعد حکومتی ترجمان وزیر صحت راجیتھا سینارتنے نے ایک مقامی شدت پسند مسلمان گروہ نیشنل توحید جماعت کو ان حملوں کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ تاہم انھوں نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ کسی بین الاقوامی گروہ کی مدد کے بغیر یہ حملے کرنا ممکن نہیں تھا۔

یہ بھی پڑھیے

نیشنل توحید جماعت پر حملوں کا الزام اور کئی سوالات

سری لنکا میں مسلمانوں کے خلاف حملوں کی وجوہات

اس بارے میں ابھی بہت کچھ بتایا جانا باقی ہے کہ ایک مقامی گروہ جو اب تک صرف بدھا کے مجسموں کی توڑ پھوڑ کی ہی صلاحیت اور جرات رکھتا تھا کس طرح اتنا بے باک اور خودکش دھماکوں کی صلاحیت حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔

سیاسی تعطل اور بوکھلاہٹ

سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایسٹر سنڈے پر ہونے والے حملوں کے لیے گھما پھرا کر یا بالواسطہ انداز میں قومی توحید گروپ (این ٹی جے) کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ حکام کو اس سلسلے میں اطلاعات ملی تھیں لیکن کابینہ کو ان اطلاعات سے آگاہ نہیں کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ اس نوعیت کی اطلاعات صرف صدر کے علم میں ہی لائی جاتی ہیں لیکن اس واقع میں یہ واضح نہیں ہے کہ کیا انھوں نے بذات خود صدر کو آگاہ کیا تھا کہ نہیں۔

وزیر اعظم کی طرف سے یہ بیان دیا جانا کوئی معمولی بات نہیں ہے کیونکہ گزشتہ سال سے صدر کے ساتھ ان کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں۔

بہت سے لوگوں نے ان دھماکوں سے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا ہے کہ سیاسی تعطل کے کتنے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں اور اہم سرکاری عہدداروں کے درمیان اعتماد کے فقدان کی وجہ سے بعض اوقات انتہائی اہم امور بھی غلفت کا شکار ہو سکتے ہیں۔

جس طرح کے حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ تمام خودکش حملہ آور مقامی مسلمان تھے تو یہ خفیہ اداروں کی ایک بہت بڑی ناکامی ہے۔

اس طرح کی اطلاعات بھی اب سامنے آ رہی ہیں، خاص طور پر امریکی ذرائع ابلاغ کی طرف سے کہ سری لنکا کی حکومت کو امریکہ اور انڈیا کے خفیہ اداروں نے ان خطرات کے بارے میں قبل از وقت خبردار کر دیا تھا۔

صدر مائتھریپالا سریسینا کے ایک سینیئر مشیر شریرال لکتھلاکا نے کہا کہ سکیورٹی اداروں کو ان خطرات کے بارے میں مناسب طور پر آگاہ کر دیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سری لنکا کے صدر نے جو سکیورٹی امور کی نگرانی کرتے ہیں، اب ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو غلطی کا تعین کرنے کی کوشش کرے گی۔

سری لنکا کے خفیہ اداروں نے ملک میں جاری خانہ جنگی کے دوران تمل ٹائیگر باغیوں کے بہت سے منصوبوں کو ناکام بنایا اور وہ تمل ٹائیگر جیسے انتہائی منظم اور سفاک گروہ کے اندر اپنے ایجنٹ بنانے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

سری لنکا میں مسلمانوں کا تنازع

گو کہ واضح طور پر یہ سیاسی اور سکیورٹی کی ناکامی ہے لیکن سری لنکا کی حالیہ تاریخ میں مذہبی اور فرقہ وارانہ گروہوں میں جاری کشمکش کے بارے میں بھی سوال اٹھنا شروع ہو گئے ہیں۔

ماضی قریب میں اکثریتی سنہالا بودھ برادری کے کچھ عناصر کی طرف سے مسلمانوں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات کے بعد مسلمان برادری کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ سری لنکن میں آنے والی حکومتیں مسلمان نوجوان میں اعتماد بحال کرنے میں ناکام رہی ہیں۔

’سمجھتا تھا کہ سری لنکا نے تشدد پیچھے چھوڑ دیا ہے۔۔۔‘

سری لنکا حملوں میں ’دولت اسلامیہ کا ہاتھ ہو سکتا ہے‘

مسلمانوں کے خلاف تشدد کا بدترین واقع دگانا کے قصبے میں گزشتہ سال مارچ میں پیش آیا تھا جب سنہالا لوگوں پر مشتمل ایک گروہ نے مسلمانوں کی دکانوں اور مساجد کو نشانہ بنایا تھا جس میں ایک شخص کی ہلاکت بھی ہو گئی تھی۔

سری لنکا کی مسلم کونسل کے نائب صدر ہلمی احمد کا کہنا تھا کہ دگانا کے واقع کے بعد کچھ مسلمانوں کا حکومت پر اعتبار بالکل ختم ہو گیا تھا اور انھوں نے اپنی حفاظت خود کرنے کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا تھا۔

مسلمانوں پر حملوں اور اُن کے بعد کچھ نوجوانوں میں یہ احساس پیدا ہونا کہ حکومت کچھ نہیں کرنا چاہتی، شاید نوجوانوں کے شدت پسند گروہوں کی طرف راغب ہونے کا باعث بنا ہو۔

این ٹی جے پر حالیہ برسوں میں بدھ مت کے مجسموں کو نقصان پہنچانے کے الزامات لگتے رہے ہیں اور گزشتہ سال مذہبی عقائد کو ٹھیس پہنچانے پر ان کے رہنما کو گرفتار بھی کیا گیا تھا۔ انھوں نے بعد میں سنہالا بودھ برادری کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے پر معذرت بھی کر لی تھی۔

عام خیال یہ ہے کہ چند سال قبل سخت گیر خیالات کے مسلمان مبلغ ظہران ہاشم کی قیادت میں ایک علیحدہ دھڑا بھی وجود میں آیا تھا۔ ظہران ہاشم نے سوشل میڈیا پر غیر مسلموں کے خلاف کئی نفرت انگیز ویڈیوز جاری کی تھیں۔ جن میں سے اکثر تمل زبان میں تھیں۔ ان کی طرف بہت سے نوجوان راغب ہوئے تھے۔

ہلمی احمد نے کہا کہ ظہران ہاشم سوشل میڈیا اور یو ٹیوب ویڈیوز میں نفرت کا پرچار کر رہا تھا اور ان کے کچھ لوگوں نے اس بارے میں قومی انٹیلی جنس سروس سے شکایت بھی کی تھی۔ انھوں نے کہا کہ پہلی شکایت تین برس قبل کی گئی تھی جب کہ ایک اور شکایت اس سال جنوری میں کی گئی۔

ہلمی احمد نے کہا کہ اس شخص کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ اطلاعات کے مطابق یہ مبلغ بھی خود کش حملہ آوروں میں شامل تھا لیکن اس کی تاحال تصدیق نہیں ہو سکی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

مسلمان برادری کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ کچھ نوجوان شدت پسند گروہ دولت اسلامیہ میں شامل ہونے کے لیے شام بھی گئے جن میں سے کچھ اس جنگ میں لڑتے ہوئے مارے بھی گئے۔

ایک سابق میجر جنرل جی اے چندراسری نے کہا ہے کہ 'مسلمانوں سے ہمارے ہمیشہ سے بڑے خوشگوار تعلقات رہے ہیں اور مسلمانوں کی اکثریت ان عناصر کے ساتھ نہیں ہے۔ وہ امن پسند لوگ ہیں۔'

ابھی اس طرح کی کوئی اطلاع نہیں ہے کہ شام سے بڑی تعداد میں جہادی سری لنکا واپس آئے ہوں۔ لیکن اگر چند جہادی اکثریت سے ناخوش بھی ہیں تو پھر مسیحیوں کو کیوں نشانہ بنایا گیا۔

سری لنکا میں مذہبی اور لسانی تنازعات کی جو کھچڑی پکی ہوئی ہے ان میں مسیحیوں کی الگ حیثیت ہے جو کسی بھی کمیونٹی کے خلاف کسی قسم کے تشدد میں شامل نہیں ہیں۔ مذہبی اختلاف لسانی گروہوں کو بھی تقسیم کر دیتے ہیں۔

عالمی رخ

میں نے کئی برس تک سری لنکا میں جاری خانہ جنگی کے دوران بہت سے خود کش حملہ آوروں کے بارے میں رپورٹنگ کی ہے۔ تامل باغیوں کو اس طرح کے بموں کو استعمال کرنے کی تربیت حاصل کرنے میں کئی برس لگے تھے۔

لہذا یہ بڑی عجیب بات ہے کہ ایک غیر معروف اسلامی گروپ جو چند مقامی شدت پسندوں پر ہی مشتمل ہے کسی طرح چھ یا کچھ لوگوں کے مطابق سات خود کش حملے اتنی مہارت سے کر سکتا ہے کہ جس سے اتنی بڑے پیمانے پر تباہی پھیلے۔ ان میں سے ایک حملہ آور بھی ناکام نہیں ہوا جو اپنے ہدف کو نشانہ نہ بنا پایا ہو۔

گو کہ ابھی تک عالمی جہادی گروپ سے تعلق کے بارے میں کوئی واضح ثبوت سامنے نہیں آئے لیکن لگژی ہوٹلوں اور گرجا گھروں کو ہدف بنانا اور اس کے ساتھ ہی جس تکنیکی مہارت اور کامیابی سے یہ حملے کیے گئے اس سے عین ممکن ہے کہ مقامی گروہ کسی بین الاقوامی تنظیم کے زیر اثر کام کر رہے ہوں۔ عالمی سطح پر کیے جانے والے حملوں میں یہ بار ہا آزمایا ہوا حربہ ہے۔

سری لنکا کی خانہ جنگی کے دوران غیر ملکیوں کو نشانہ نہیں بنایا جاتا تھا اور غیرملکیوں پر شاذ و نادر ہی حملے ہوتے تھے۔ حالیہ خودکش حملوں میں بہت سے غیرملکیوں کو ارادتاً نشانہ بنایا گیا جس سے یہ خطرات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ ان کا تعلق کسی نہ کسی طرح القاعدہ یا دولت اسلامیہ سے ہو سکتا ہے۔

جنرل چندراسری کے مطابق 'اس نوعیت کی کارروائیوں میں آپ کو بیرونی تعاون درکار ہوتا ہے۔ آپ کو پیسہ، تربیت اور مہارت درکار چاہیے ہوتی ہے۔ اس طرح کی کارروائی اکیلے نہیں کی جا سکتی۔ ہو سکتا ہے بیرون ملک سے کوئی مدد حاصل رہی ہو۔'

سری لنکا میں پرتشدد کارروائیاں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ملک سنہ ستر کی دہائی میں بائیں بازو کی بغاوت کے دوران عدم استحکام کا شکار رہا اس کے بعد تقریباً تین دہائیوں تک تامل باغیوں کے ساتھ انتہائی خون ریز خانہ جنگی سے گزرا اور اس دوران دسیوں ہزار لوگ مارے گئے۔

تاہم حالیہ خود کش حملے جس مہارت اور سفاکیت سے کیے گئے ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سری لنکا کی سکیورٹی فورسز کو ایک نئے چیلنج کا سامنا ہے جبکہ سری لنکا کی عوام کسی صورت میں بھی ملک میں تشدد اور تلخیاں دیکھنا نہیں چاہتے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں