اجتماعی ریپ کی شکار بلقیس بانو کو پچاس لاکھ کا معاوضہ

تصویر کے کاپی رائٹ CHIRANTANA BHATT
Image caption حملے میں بلقیس بانو کی تین سال کی بچی کو بھی بے رحمی سے قتل کر دیا گیا تھا

انڈین سپریم کورٹ نے گجرات میں 2002 میں فسادات کے دوران اجتماعی ریپ کا شکار ہونے والی بلقیس بانو کو پچاس لاکھ روپے معاوضہ، سرکاری نوکری اور ایک گھر دینے کا حکم دیا ہے۔

اس سے پہلے عدالت نے بلقیس بانو کو پانچ لاکھ رپے دینے کی پیشکش کی تھی جسے بلقیس بانو نے ناکافی کہا تھا۔

بلقیس بانو مقدمے میں 11 مجرمان کی سزائیں برقرار

انصاف چاہتی ہوں کسی سے انتقام نہیں: بلقیس بانو

گجرات: مودی کے دور حکومت میں ’فرضی انکاؤنٹر‘

عدالت نے ثبوت مٹانے کے الزام میں آئی پی ایس افسر آر ایس بھگورا کا عہدہ کم کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ CHIRANTANA BHATT
Image caption بلقیس اس وقت حاملہ تھیں جب ان کے ساتھ ایک ہجوم نے اجتماعی ریپ کیا

سپریم کورٹ کے حکم پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے بلقیس بانو نے کہا کہ وہ اس فیصلے سے مطمئن ہیں۔

بلقیس کے شوہر یعقوب نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا 'آج ہمارے اور بلقیس کے ساتھ انصاف ہوا ہے۔ آج ہمارا پورا خاندان خوش ہے۔ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ہم سب کے لیے خوشی کا باعث ہے۔‘

یعقوب کا کہنا تھا کہ 'یہ ایک طویل سفر تھا جس میں بہت مشکلات پیش آئیں۔ دھمکیوں کی وجہ سے کئی بار گھر بدلنا پڑا ایسے میں گھر چلانا آسان نہیں تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption گجرات کے فرقہ وارانہ فسادات میں ایک ہزار سے زیادہ افراد مارے گئے تھے

بی بی سی کےساتھ بات چیت میں بلقیس کی وکیل شوبھا گپتا نے کہا 'کچھ نقصان ایسے ہوتے ہیں جن کی تلافی کبھی نہیں کی جاسکتی یہ معاوضے سے زیادہ حکومت پر ایک جرمانے کی مانند ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت یہ سب نہیں مہیا کرتی تو وہ اگلے قدم کے بارے میں سوچیں گے۔

گجرات میں 2002 کے فسادات کے دوران احمدآباد کے نزدیک ایک گاؤں میں ایک بھیڑ نے بلقیس بانو کے کنبے پر حملہ کیا تھا اور اس دوران پانچ ماہ کی حاملہ بلقیس بانو کے ساتھ اجتماعی ریپ بھی کیا گیا تھا۔ اس واقعے میں ان کی تین سال کی بیٹی صالح کو بے رحمی سے قتل کر دیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ SEBASTIAN D'SOUZA/AFP/Getty Images
Image caption گجرات کے فسادات گودھرا میں سابر متی ٹرین میں آگ لگنے کے بعد شروع ہوئے تھے

اس وقت بلقیس بانو کی عمر بیس سال تھی۔ ان فسادات میں بلقیس بانو کی چھوٹی بہن اور ماں سمیت ان کے 14رشتے دار قتل کر دیے گئے تھے۔

اس معاملے کی سماعت احمد آباد میں ہوئی تھی لیکن گواہوں اور ثبوتوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے اندیشے سے 2004 میں کیس ممبئی ہائی کورٹ منتقل کر دیا گیا تھا۔

اکیس جنوری 2008 کو خصوصی عدالت نے گیارہ لوگوں کو قتل اور اجتماعی ریپ کا قصوروار قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ اس معاملے میں پولیس اور ڈاکٹر سمیت سات لوگوں کو رہا کر دیا گیا تھا۔

ممبئی ہائی کورٹ میں سی بی آئی نے قصورواروں کے لیے مزید سخت سزا کا مطالبہ کیا تھا۔

2002 میں گجرات میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایک ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے تھے جن میں زیادہ تر مسلمان تھے تاہم غیر سرکاری اعداد و شمار اس سے کہیں زیادہ ہلاکتیں بتاتے ہیں۔

یہ فسادات گودھرا میں 60 ہندو تیرتھ یاتریوں کی ہلاکت کے بعد شروع ہوئے تھے جن کی موت سابر متی ٹرین میں آگ لگنے کے سبب ہوئی تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں