'مجھے صرف اپنی اور اپنے خاندان والوں کی زندگی چاہیے'

گجرات فسادات کے دوران اجتماعی ریپ کا شکار ہونے والی بلقیس بانو کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے ریاستی حکومت کو انہیں پچاس لاکھ روپے معاوضہ دینے کا حکم دے کر ان کے درد اور سترہ سال کی ان کی طویل جدوجہد کو سمجھا ہے۔

دلی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے بلقیس بانو کا کہنا تھا کہ 'انصاف کی جیت ہوئی ہے اور ملک کے آئین میں ان کا جو یقین تھا وہ مزید پختا ہوا ہے۔'

بلقیس بانو نے بتایا کہ ان کے گھر میں گھسنے والی بھیڑ نے ان کے خاندان کے چودہ افراد کو ان کی نظروں کے سامنے قتل کردیا تھا اور اس واقعے کے سترہ سال بعد بھی وہ، وہ منظر نہیں بھول پاتی ہیں جب اس بھیڑ نے ان کی دو سال کی بیٹی کے سر کو پتھر پر پٹخ پٹخ کر اسے جان سے مار دیا تھا۔

'مجھے معاوضے کے جو پچاس لاکھ روپے ملیں گے اس کا ایک حصہ میں ان ماؤں اور ان بچوں کو عطیہ کروں گی جو میرے اور میری بچی کی طرح مذہب کے نام پر نفرت کا شکار بنتے ہیں۔'

یہ بھی پڑھیے

اجتماعی ریپ کی شکار بلقیس بانو کو پچاس لاکھ کا معاوضہ

بلقیس بانو مقدمے میں 11 مجرمان کی سزائیں برقرار

انصاف چاہتی ہوں کسی سے انتقام نہیں: بلقیس بانو

گجرات: مودی کے دور حکومت میں ’فرضی انکاؤنٹر‘

ان کا مزید کہنا تھا 'میں اور میرے شوہر اپنی دو سالہ بچی صالحہ کی تدفین بھی نہیں کرسکے تھے۔ نہ ہی اس کی لاش کو ڈھونڈ پائے تھے۔ اس کی کوئی قبر بھی نہیں ہے جہاں میں جاکر رو سکوں۔'

جب ان سے پوچھا گیا کہ سترہ سال تک انصاف کی اس لڑائی میں ان کو کس ایک چیز نے بار بار ہمت دلائی؟ بلقیس بانو کا کہنا تھا 'میں جب بھی تھک جاتی تھی اور یہ خیال آتا تھا کہ اس لڑائی کو چھوڑو تو مجھے اپنی اس بچی کا چہرہ سامنے آجاتا تھا جس کو فسادیوں نے ہلاک کردیا تھا۔'

اس وقت بلقیس بانو کی عمر بیس سال تھی۔ ان کے بقول ان سترہ سالوں میں نے انہوں نے متعدد گھر بدلے کیونکہ انہیں بے حد مشکلات کا سامنا تھا اور ان کی جان کو خطرہ تھا۔

بلقیس بانو نے بتایا کہ ان پر تشدد کرنے والے انہیں مردہ سمجھ کر چھوڑ گئے تھے۔ 'جب میں ہوش میں آئی تو میرے سامنے میرے خاندان کے چودہ افراد کی لاشیں تھیں۔'

انڈیا میں ایسا پہلی بار ہوا ہے جب مذہبی فسادات کے دوران اجتماعی ریپ کی شکار خاتون کو اتنی بڑی رقم معاوضے کے طور پر دی گئی ہے۔

بلقیس بانو کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے حالیہ حکم کے بعد انہیں یہ یقین ہوگیا ہے کہ 'میں بھی اس ملک کی شہری ہوں جس کو وہ سارے حقوق حاصل ہیں جو کسی اور شہری کو حاصل ہیں۔'

بلقیس بانو کی وکیل شوبھا گپتا کا کہنا تھا کہ 'سپریم کورٹ نے اس حکم کے ساتھ ہر اس عورت کی تکلیف کو سمجھا جو ریپ اور تشدد کا شکار ہوتی ہے۔'

سماجی کارکن صبا نقوی کا کہنا تھا کہ 'ایک ایسے وقت میں جب انڈیا میں مذہب کے نام پر نفرت اور تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے بلقیس بانو کو اتنی بڑی رقم کا معاوضہ ملنا اس بات کی جانب ایک مثبت اشارہ ہے کہ دیر سے ہی صحیح لیکن بلقیس بانو جیسی خواتین کو بھی انصاف مل سکتا ہے کیونکہ اس ملک کی عدالتیں زندہ ہیں جہاں انصاف ہوتا ہے'۔

سپریم کورٹ نے انہیں پچاس لاکھ روپے کے علاوہ سرکاری نوکری اور ان کی پسند کا گھر دینے کا بھی حکم دیا ہے ۔ بلقیس بانو کا کہنا ہے کہ وہ اپنے گاؤں میں ہی ایک گھر چاہتی ہیں جہاں وہ اپنے خاندان کے ساتھ خوشی خوشی رہ سکیں اور اپنے بچوں کو تعلیم دے سکیں۔

جس وقت بلقیس بانو کے ساتھ اجتماعی ریپ ہوا تھا اس وقت ان کی بیٹی ہاجرہ ان کے پیٹ میں تھی۔ ہاجرہ اب سولہ سال کی ہے اور بلقیس بانو اس کو ایک وکیل بنانا چاہتی ہیں تاکہ وہ بھی غریب اور مشکل میں پھنسے افراد کی مدد کرسکے۔

2002 میں گجرات میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایک ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے تھے جن میں زیادہ تر مسلمان تھے تاہم غیر سرکاری اعداد و شمار اس سے کہیں زیادہ ہلاکتیں بتاتے ہیں۔

یہ فسادات گودھرا میں 60 ہندو تیرتھ یاتریوں کی ہلاکت کے بعد شروع ہوئے تھے جن کی موت سابر متی ٹرین میں آگ لگنے کے سبب ہوئی تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں